امریکی فواج میں خواتین پر جنسی حملوں میں خوفناک اضافہ ،نظام انصاف بدلنے کی سفارش

فوٹو انٹرنیٹ

واشنگٹن: امریکی فوج میں بھرتی خواتین پر جنسی حملوں میں خوفناک حد تک اضافہ ہونے کے بعد امریکی وزیر دفاع لائڈ آسٹن ملکی افواج میں جنسی جرائم کے مقدمات کی سماعت اور سزائیں سنانے کا پینٹاگون کا نظام انصاف تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔ وہ فوجی کمان سے ایسے جرائم سے متعلق استغاثہ کے اختیارات واپس لیے جانے کے حامی ہیں۔

جرمن خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق واشنگٹن سے٣٢ جون کو موصولہ رپورٹوں کے مطابق وزیر دفاع لائڈ آسٹن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ انہوں نے اس بارے میں سفارشات کے لیے ایک غیر جانبدار کمیشن تشکیل دیا تھا۔اس کمیشن کو اس حوالے سے اپنی سفارشات تیار کرنا تھیں کہ امریکی مسلح افواج میں جنسی جرائم اور جنسی حملوں کے مرتکب فوجیوں اور افسران کے خلاف کارروائی کا بہترین طریقہ کار کیا ہونا چاہیے اور انہیں سزائیں سنانے کے عمل کو زیادہ موثر کیسے بنایا جا سکتا ہے۔

وزیر دفاع نے کہا کہ انہیں اس غیر جانب دار کمیشن کی تیار کردہ سفارشات موصول ہو گئی ہیں اور اب وہ ملکی ”کانگریس کے ساتھ مل کر یونیفارم کوڈ آف ملٹری جسٹس میں ترمیم کرنا چاہتے ہیں تاکہ جنسی حملوں اور ایسے دیگر جرائم کے مرتکب اہلکاروں کو سزائیں سنانے کا اختیار ملٹری چین آف کمانڈ سے واپس لے لیا جائے۔لائڈ آسٹن نے کہا کہ کمیشن نے یہ سفارش بھی کی ہے کہ فوجی کمانڈ کو حاصل پراسیکیوشن کے جو اختیارات واپس لے لیے جانا چاہییں، ان میں فوجی اہلکاروں کی طرف سے گھریلو تشدد کے ارتکاب کو بھی شامل کیا جائے۔ انہوں نے اپنے بیان میں مزید کہا، ”میں گھریلو تشدد کو بھی ایسے جرائم کی فہرست میں اس لیے شامل کرنا چاہوں گا کیونکہ اس طرح کا تشدد بھی جنسی نوعیت کے حملوں سے جڑا ہوتا ہے۔

پینٹاگون کے سربراہ امریکی مسلح افواج میں جنسی حملوں سے متعلق مروجہ نظام انصاف کو اس لیے بھی بدلنا چاہتے ہیں کہ تمام تر کوششوں کے باوجود ملکی افواج میں ایسے جرائم کے ارتکاب کو ابھی تک روکا نہیں جا سکا۔
اس کی ایک مثال یہ بھی ہے کہ امریکی فوج کے سب سے بڑے اڈوں میں شمار ہونی والی ایک ملٹری بیس کے ایک درجن سے زائد کمانڈروں اور یونٹ سربراہان کو گزشتہ برس دسمبر میں برطرف کر دیا گیا تھا۔
ان بارہ سے زیادہ فوجی اہلکاروں کی برطرفی کی وجوہات میں ایک بیس سالہ خاتون فوجی وینیسا گیلن کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کا واقعہ بھی شامل تھا۔ اس واقعے کے بعد وینیسا گیلن گزشتہ برس 22 اپریل کو اچانک لاپتہ ہو گئی تھیں۔لا پتہ ہونے سے قبل گیلن نے اپنے اہل خانہ کو بتایا تھا کہ انہیں اپنے اعلی فوجی افسران پر یہ اعتماد نہیں تھا کہ وہ ان کی طرف سے جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کی شکایت پر کوئی کارروائی کریں گے۔

وینیسا گیلن کے لاپتہ ہو جانے کے بعد ان کے اہل خانہ نے بھی اس بارے میں عوامی سطح پر کھل کر شکوک کا اظہار کیا تھا کہ آیا امریکی فوج وینیسا گیلن کی گمشدگی کی تسلی بخش چھان بین کرنا چاہتی تھی۔
ان شبہات کے اظہار کے بعد ہی گزشتہ برس 30 جون کو وینیسا گیلن کے لاش ملی تھی، جس کے ٹکڑے کر کے مختلف جگہوں پر زیر زمین چھپا دیے گئے تھے۔ گیلن کی گمشدگی اور قتل کا یہ واقعہ امریکی فوج پر اس کی صفوں میں بڑھتے ہوئے جنسی جرائم کی وجہ سے شدید تنقید کا باعث بنا تھا۔وینیسا گیلن کا قتل ان بڑے فوجی جرائم میں سے ایک تھا، جن کے بعد امریکی محکمہ دفاع سے یہ مطالبات کیے جانے لگے تھے کہ ملٹری کمانڈ سے ایسے جرائم کے مرتکب فوجیوں کو سزائیں سنانے کا اختیار واپس لے لیا جائے۔

ان مطالبات کے برعکس امریکی فوج کی طرف سے موجودہ ملٹری جسٹس سسٹم میں کسی بھی تبدیلی کی آج تک مخالفت کی جاتی ہے۔ اس کے لیے اعلی فوجی قیادت کی طرف سے دلیل یہ دی جاتی ہے کہ مسلح افواج میں نظم و ضبط کی صورت حال کو قابو میں رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ ایسے مجرمانہ واقعات میں سزائیں سنانے کا اختیار ملزمان کے اعلی فوجی کمانڈروں ہی کے پاس رہے۔