مقبوضہ کشمیر میں جغرافیائی تبدیلیاں کرنا چوتھے جنیوا کنونشن کے خلاف ہے،شاہ محمود قریشی

انٹرنیٹ فوٹو

اسلام آباد: وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ متنازعہ علاقہ ہے ہندوستان اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرار دادوں کا پابند ہے ۔ متنازع علاقے میں جغرافیائی تبدیلیاں کرنا چوتھے جنیوا کنونشن کے خلاف ہے ایسی تبدیلیاں پاکستان اور کشمیریوں کے لیے کسی صورت قابل قبول نہیں ۔

ایک نجی ٹی وی کے پروگرام میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہاکہ مقبوضہ وادی جہاں مسلمانوں کی اکثریت ہے مسلمان کسی صورت نہیں چاہیں گے کہ اکثریت کا اقلیت میں بدل دیا جائے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ بھارت کی 24 اگست کی اے پی سی کی دعوت غیر معمولی پیشرفت ہے ۔ ایسا لگ رہا ہے بھارت میں ایک نئی سوچ پروان چڑھ رہی ہے ۔ بھارتی حکومت کی کشمیر پالیسی بری طرح ناکام ہوئی ہے ۔ 24 اگست کو اے پی سی ہونے دیں پھر صورتحال واضح ہو جائے گی ۔ 5 اگست کے بھارتی حکومت کے اقدامات پر ریفرنڈم کرا لیں ریفرنڈم میں دنیا بھر کے کشمیریوں کی رائے لے لیں ۔ کشمیریوں سے پوچھ لیں 5 اگست کے اقدامات قبول کرتے ہیں یا نہیں ۔

ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ یہ بھی درست ہے ۔ روس کے ساتھ قربتیں بڑھ رہی ہیں ۔ پاکستان ایران روس گیس پائپ لائن معاہدہ ہو گیا ہے ۔ گیس پائپ لائن گراؤنڈ بریکنگ کے لیے تیاریاں جاری ہیں ۔ روس اورپاکستان دونوں جگہوں پر بہترین تقریب ہو گی ۔ ترکی کے دورے کے موقع پر روسی وزیر خارجہ سے ملاقات ہوئی روسی صدر کے دورہ پاکستان سے متعلق بھی تیاریاں کر رہے ہیں ۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ افغان طالبان اور بھارتی حکام کی ملاقات کی کوئی اطلاع نہیں ۔ قابل غور بات ہے بھارتی حکام افغان طالبان سے کیوں ملنا چاہتے ہیں ۔ بھارت اب افغان طالبان سے رابطے کیوں کر رہا ہے یہ بات قابل غور ہے ۔ ہماری خواہش کے مطابق افغان امن عمل میں پیشرفت نہیں ہو رہی ۔ افغان امن مذاکرات میں تعطل کی وجہ یکسوئی نہ ہونا ہے افغان حکام کی سوچ میں مجھے یکسوئی نہیں دکھائی دے رہی دوسرا فریق ایسی صورتحال دیکھے گا تو یقینا مذاکرات سے پیچھے ہٹے گا ۔ دیکھنا ہو گا افغان حکومت اور طالبان مذاکرات آگے بڑھتے ہیں یا نہیں ۔ افغان امن مذاکرات میں پیشرفت نہ ہوئی تو خانہ جنگی کا خطرہ ہے ہم افغان حکومت کی مدد کرنا چاہتے ہیں دوستی کا ہاتھ بڑھایا ہماری سوچ نہیں افغانستان کو پختون یا غیر پختون میں تقسیم کریں امن مذاکرات میں پیشرفت سے افغان حکومت اور عوام کو فائدہ ہو گا ۔