بلاول سے قانون ساز کمیٹی کے لئے پارٹی کے سینیٹرز کی ملاقات، انتخابی اصلاحات پر تبادلہ خیال


اسلام آباد: چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری سے پارلیمنٹ ہاؤس میں قانون ساز کمیٹی کے لئے پارٹی کے سینیٹروں نے ملاقات کی۔

ان میں سینیٹر شیری رحمن، سینیٹر رضا ربانی، سینیٹر فاروق ایچ نائیک، سینیٹر تاج حیدر اور سینیٹر شہادت اعوان شامل تھے ۔ ملاقات کے دوران انتخابی اصلاحات کے متعلق قانون ساز کمیٹی کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا۔

ارکان پارلیمنٹ اور میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے  بلاول نے کہا کہ  کشمیر کے انتخابات کے متعلق بلاول بھٹو نے کہا کہ وہ بہت جلد کشمیر جا کر انتخابی مہم کی قیادت کریں گے اور کشمیر کی صورتحال بہت حوصلہ افزا ہے۔ پی پی پی وہ واحد پارٹی جس پر کشمیری اعتبار کرتے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان کو کشمیر یا نیوکلیئرپروگرام کے متعلق کوئی علم نہیں۔

نیوکلیئر پروگرام کے خالق ذوالفقار علی بھٹو تھے جو کہتے تھے کہ ان سے نیند میں کشمیر کے بارے کوئی غلطی نہیں ہو سکتی۔ جب مودی نے کشمیر پر حال ہی میں حملہ کیا تو ہمارے وزیراعظم نے کہا کہ اس نے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ انتخابات میں مودی کی جیت سے مسئلہ کشمیر حل ہو جائے گا۔ عمران خان ملک کے لئے سکیورتی رسک بن چکے ہیں۔ اب سہولت کاروں کو بھی اس بات کا ادراک کر لینا چاہیے کہ خان صاحب سکیورٹی رسک ہیں اور انہیں جانا ہوگا۔

بلاول بھٹو زرداری نے عمران خان کے غیرملکی میڈیا کو دئیے گئے انٹرویو میں خواتین سے متعلق بیان کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں مظلوم کا ساتھ دینا چاہیے نہ کہ ظالم کا۔ عمران خان ایک ایسے مقام پر بیٹھا ہے جہاں اسے اس بات کی احتیاط کرنی چاہیے کہ وہ کیا کہہ رہا ہے۔ اگر وہ اس قسم کی بات کرے گا تو یہ پیغام جائے گا کہ ناانصافی کے شکار افراد ہی کی غلطی تھی کہ ان کے ساتھ زیادتی ہوئی کیونکہ وہ جرم کرنے والے کے لئے بہانہ تلاش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریپ کا کپڑوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ہمیں اپنی زبان اور معاشرے پر نظرثانی کرنی چاہیے اور مظلوم لوگوں کا ساتھ دینا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان نے ہر ادارہ تباہ کر دیا ہے۔ اسامہ بن لادن کے متعلق ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ حکومت بزدل ہے اور عمران خان تو ہمیشہ سے ہی بزدل ہے کیونکہ کبھی انہوں نے دہشتگرد کو دہشتگرد نہیں کہا۔ یہاں تک کہ جب اے پی ایس نے ہمارے بچوں کو بیدردی سے قتل کیا گیا تو اس نے اس وقت بھی بیت اللہ محسود کو دہشتگرد قرار دینے سے انکار کیا۔

اسامہ بن لادن دنیا بھر میں ایک دہشتگرد کی حیثیت سے جانا جاتا ہے۔ اس نے 1993میں رمزی یوسف کے ذریعے اس وقت کی وزیراعظم پر حملہ کرنا چاہا، 1994میں دہشتگردوں نے پاکستان میں انقلاب لانے کی کوشش کی۔ کیا عمران خان کو پتہ ہے کہ اسامہ بن لادن نے پوری دنیا کو دہشتگردی کا شکار کر دیا ؟ کیا اسے نہیں پتہ کہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے قتل میں بھی اس کا ہاتھ تھا؟ اگر اسامہ بن لادن دہشتگرد نہیں ہے تو پھر دہشتگرد کون ہے؟ اسامہ بن لادن نے دنیا بھر میں اسلام کو بدنام کیا۔

ہر پاکستانی اور مسلمان کی یہ ذمہ داری ہے کہ اسامہ بن لادن کو دہشتگرد کہے اور وہ اسلام کی نمائندگی نہیں کرتا۔ اسلام ایک پرامن مذہب ہے، ہم ایک دوسرے سے ملتے ہیں تو سلامتی کی دعا دیتے ہیں۔ عمران خان کو اپنی پالیسی پر نظرثانی کرنا پڑے گی۔ اگر ہمارا وزیر خارجہ بین الاقوامی فورمز پر اسامہ بن لادن کے متعلق بات نہیں کر سکتا تو اس سے پاکستانی خارجہ پالیسی پر برا اثر پڑے گا۔

اس وقت ساری دنیا کی نظریں افغانستان کی صورتحال پر ہیں اور ہمارے دشمن چاہتے ہیں کہ ہمیں الزام دیں لیکن ہمارا وزیراعظم اسمبلی کے فلور پر اسامہ بن لادن کو شہید کہتا ہے۔ ہمارا وزیر خارجہ دہشتگردوں کو دعوت دیتا ہے کہ وہ ہمارے نظام پر حملہ کریں۔ یہ بات ہماری ریاستی ناکامی ہے۔ عمران خان اور شاہ محمود قریشی قوم اور دہشتگردی کا شکار ہونے والے لوگوں سے معافی مانگیں۔

بعد ازاں چیئرمین پیپلزپارٹی سے اراکین قومی اسمبلی سردار محمد بخش خان مہر، عبدالقادر پٹیل، رفیق جمالی،ڈاکٹر نفیسہ شاہ، شازیہ عطا مری، آغا رفیع اللہ، خورشید جونیجو، شگفتہ جمانی، نصیبہ چنا، ڈاکٹر مہرین بھٹو، شاہدہ رحمانی، رفعت مہیسر اور دیگر اراکین قومی اسمبلی نے ملاقات کرکے اپنے علاقوں کی سیاسی صورتحال سے آگاہ کیا۔

کراچی ڈاک لیبر بیورو کے صدر داؤد شاہ اور بورڈ آف ٹرسٹی کے رکن حسین کھچی نے بھی ملاقات کی اور  کراچی لیبر بورڈ میں ہونے والی ناانصافیوں سے آگاہ کیا۔ وفد نے چیئرمین پیپلزپارٹی کو شکایت کی کہ ڈاک لیبر بورڈ کی آزادانہ حیثیت پر ضرب لگا کر 900افراد کو ملازمتوں سے فارغ کرنے کی سازش ہو رہی ہے۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ کراچی ڈاک لیبر بورڈ کا قیام شہید ذوالفقارعلی بھٹو کی کاوشوں سے ہوا تھا ہم اس کا ہر ممکن دفاع کریں گے۔ پیپلزپارٹی مزدوروں کے ساتھ تھی، ہے اور رہے گی۔ ہم مزدوروں کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔ ملاقات کے دوران رکن قومی اسمبلی قادر پٹیل اور آغا رفیع اللہ بھی موجود تھے۔