آئی ایم ایف کے لیے پوری قوم کا مستقبل گروی نہیں رکھ سکتے، شاہ محمود قریشی

صباح فوٹو

اسلام آباد: وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف کے لیے پوری قوم کا مستقبل گروی نہیں رکھ سکتے، پیپلز پارٹی اور(ن)لیگ ہمیں آئی ایم ایف کی جانب دھکیلنے کے ذمہ دار ہیں، امریکا کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتا ہیں لیکن ہمیں پاکستان کے مفاد کو دیکھتے ہوئے فیصلہ کرنے ہیں،دنیا پاکستان سے توقعات رکھتی ہے تو ہماری بھی ضروریات ہیں، جن سے وہ صرف نظر نہیں کرسکتے،ہم نے ایف اے ٹی ایف کی 27شرائط پوری کردی ہیں،اب پاکستان کو گرے لسٹ میں رکھنے کا کوئی جواز نہیں رہا۔

ایک نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ افغانستان میں داخلی صورتحال تشویشناک ہے، اس وقت وہاں مذاکرات پر کوئی اتفاق دکھائی نہیں دیتا، طالبان سے تعلقات تعطل کا شکار ہیں تو یہ صورتحال پریشان کن ہے، افغان رہنما عبداللہ عبداللہ سے ترکی میں بڑی مفید گفتگو ہوئی، ان کی باتوں سے ہماری تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان برملا کہہ چکا ہے کہ ہم امن کے شراکت دار ہیں، امن کے لئے دنیا کے ساتھ تعاون کریں گے، ہم کسی لڑائی کا حصہ نہیں بنیں گے، قوموں پر دبائو آتے ہیں اور اس کو برداشت کرنا بھی چاہیے، امریکا کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتا ہیں لیکن ہمیں پاکستان کے مفاد کو دیکھتے ہوئے فیصلہ کرنے ہیں، ہم بارہا کہتے رہے کہ پاکستان نے اس جنگ میں بہت قربانیاں دی ہیں۔دنیا پاکستان سے توقعات رکھتی ہے تو ہماری بھی ضروریات ہیں۔ جن سے وہ صرف نظر نہیں کرسکتے۔ ہم کہتے ہیں کہ پاکستان کو اپنی مشرقی سرحد کی بہت فکر رہتی ہے، دنیا کو اسے سمجھنا چاہیے۔

شاہ محمودقریشی کا کہنا تھا کہ ماضی کی حکومتوں کی کارکردگی کی وجہ سے آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑا، پچھلے 10 برس برسر اقتدار رہنے والی پیپلز پارٹی اور(ن)لیگ ہمیں آئی ایم ایف کی جانب دھکیلنے کے ذمہ دار ہیں، ان کی ناقص منصوبہ بندی اور کرپشن نے پاکستان کو کنگال کردیا۔ اب ہم نے اقدامات اٹھائے ہیں، یہ کہنا کہ آئی ایم ایف کی کہی ہر بات ٹھیک ہے یہ کہنا صحیح نہیں، آئی ایم ایف کی کہی پر بات من و عن قبول کرنا ممکن نہیں، ہم نے 3 برسوں کے دوران بہت سے ایسے اقدام اٹھائے جو آسان نہیں تھے، ان اقدامات کی وجہ سے عوام پر بوجھ پڑا ہے، پاکستان کو اپنی معاشی ترقی کو ترجیح دینی ہے، بجٹ سے تمام طبقے مطمئن نظر آرہے ہیں۔ آئی ایم اے کے لئے ملک کے مستقبل کو گروی نہیں رکھ سکتے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ ایف اے ٹی ایف کا تحفہ بھی ہمیں(ن)لیگ دے کر گئی، پی ٹی آئی اقتدار میں آئی تو پاکستان گرے لسٹ میں جا چکا تھا، ہم نے ایف اے ٹی ایف کی 27شرائط پوری کردی ہیں،اب پاکستان کو گرے لسٹ میں رکھنے کا کوئی جواز نہیں رہا، قوموں پر دبا آتے ہیں اور ہمیں اس دبا کو برداشت کرنا چاہیے۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ بھارت کو مقبوضہ کشمیر سے متعلق اپنے اقدامات پر نظر ثانی کرنی چاہیے، اگر مقبوضہ وادی کے حالات درست ہیں تو آل پارٹیز کانفرنس کیوں بلائی گئی، بھارتی سرکار کو چیلنج ہے کہ اگر ان میں ہمت ہے تو وہ 5 اگست کے اقدامات کے حوالے سے کشمیریوں کی رائے لے، دنیا بھر میں ریفرنڈم کرا لیں کیا کشمیریوں کو پانچ اگست کا اقدام قبول ہے۔