جامعات، اعلی تعلیمی ادارے جدت،تحقیق پر توجہ دیں، سردار مسعود خان


اسلام آباد: آزاد جموں و کشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ تعلیم کو عام کرنے کے ساتھ ہمیں تعلیمی معیار کی بہتری پر اپنی توجہ مرکوز کرنی ہو گی تاکہ ہمارے پڑھے لکھے نوجوان خطے کے دوسرے ممالک کے نوجوانوں سے تعلیمی قابلیت میں کسی طرح پیچھے نہ ہوں۔

یونیورسٹی آف کوٹلی کے زیر اہتمام اعلی تعلیم میں معیار کو یقینی بنانا کے عنوان سے ویبی نار سے خطاب کرتے ہوئے صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ معیار کے بغیر اعلی تعلیم کا کوئی تصور نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں تعلیم یافتہ ہونے اور تعلیمی قابلیت کا حامل ہونے کے درمیان فرق کو سمجھنے کے ساتھ اس بات کا ادراک بھی کرنا ہو گا کہ تعلیم کو گریڈ تعلیمی سکور اور درجہ بندی سے ماپنے کے بجائے اس چیز کو معیار بنانا ہو گا کہ ہماری جامعات اور دوسرے اعلی تعلیم ادارے جو گریجویٹس تیار کر رہی ہیں ان کی علمی استعداد اور تعلیمی قابلیت کس درجے کی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہمیں تعلیمی قابلیت کو مقامی پیمانوں کے بجائے علاقائی اور عالمی معیارات سے چانچنے کی ضرورت ہے۔

آزاد کشمیر میں تعلیمی پھیلا اور تعلیمی معیار پر گفتگو کرتے ہوئے صدر مسعود خان نے کہا کہ ہماری حکومت نے تعلیمی انفراسٹریکچر کے بہتر بنانے اور بنیادی شرح تعلیم کو بہتر بنانے پر ضرور توجہ دی لیکن اب وقت آ گیا ہے کہ ہم معیار تعلیم کو بہتر بنانے کو اپنا ہدف بنائیں اور ہماری جامعات ایسے گریجویٹس تیار کریں جو تعلیمی مقابلہ میں سب سے آگے ہوں کیونکہ جاب مارکیٹ میں اتنی مسابقت ہے کہ صرف قابل اور غیر معمولی صلاحیت کے حامل افراد کو ہی جاب مارکیٹ میں جذب کیا جائے گا اور باقی لوگ غیر متعلق قرار دے  کر نظر انداز کر دیئے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ملک کی تیز معاشی ترقی کے لیے معیار تعلیم کو بلند کرنا ناگزیر ہے اور یہ صرف اسی صورت میں ممکن ہے کہ ہماری جامعات اور اعلی تعلیمی ادارے جدت، تحقیق اور فوق  پر توجہ دیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری جامعات اور تعلیمی اداروں میں نئی تعلیمی شعبہ جات اور مضامین متعارف کرائے جانے کے بعد معیار تعلیم میں بہتری کی ضرورت پہلے سے زیادہ بڑھ گئی ہے کیونکہ ہماری جامعات میں جن نئی ٹیکنالوجیز کے بارے میں طلبہ کو پڑھایا جاتا ہے ان کے بارے میں انہیں کامل آگاہی اور معلومات فراہم کی جانی چاہیے کیونکہ ان ٹیکنالوجیز کی ہیت میں تبدیلی کا عمل مسلسل جاری رہتا ہے۔

صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ معیار تعلیم کو بلند کرنے کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ تعلیم دینے والے اساتذہ اور اتالیق خود قابل اور معیاری علمی استعداد کے حامل ہوں اور ہماری خوش قسمتی ہے کہ ہماری جامعات میں کئی ایسے اساتذہ ہیں جو بیرون ملک سے تعلیم حاصل کر کے آئے ہیں جنہیں اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھانے کا موقع اور ماحول ملنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے ہاں تعلیمی معیار کی بہتری کا عمل سست روی کا شکار رہا ہے جس کو تیز تر کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس سلسلے میں ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے خاص طور پر شکر گزار ہیں جو ہماری جامعات میں تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کے لیے رہنمائی فراہم کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہماری قوم نے گزشتہ دہائیوں میں تعلیمی میدان میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا لیکن ابھی منزل دور ہے جس تک پہنچنے کے لیے مزید کوشش اور جدوجہد کرنے کی ضرورت ہے۔ صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ تعلیمی معیار میں بہتری کا ایک راستہ ملک کی دوسری جامعات کے ساتھ ربطہ و تعلق میں ہے اور ہماری جامعات ملک کے اندر دوسری جامعات اور بیرون ملک اعلی تعلیمی اداروں تک رسائی حاصل کر کے ان کے تجربات سے استفادہ کریں اور اگر ہم موثر انداز میں ایسا کرنے میں کامیاب ہو گئے تو ہمارے طلبہ اور اساتذہ کی تربیت، علمی فہم اور ویژن میں نمایاں تبدیلی آئے گی۔