شہباز شریف کی ایف آئی اے پیشی پر کیا سوال پوچھے گئے؟


لاہور(عابدعلی آرائیں ) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر میاں محمد شہباز شریف کل شوگر ملزمنی لانڈرنگ سکینڈل کی تحقیقات کرنے والی ایف آئی اے کی ٹیم کے سامنے پیش ہوگئے۔
ان کی پیشی کے وقت سخت سیکورٹی انتظامات کئے گئے تھے۔

شوگر ملز اسکینڈل میں 25 ارب روپے کی منی لانڈرنگ کے الزام کاجواب دینے کےلئے قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف ایف آئی اے لاہور آفس پیش ہوئے،حمزہ شہباز بھی والد کے ہمراہ آئے۔ تحقیقاتی ٹیم نے ایک گھنٹہ 5 منٹ تک شہباز شریف سے سوالات کیے۔

شہباز شریف سے ایف آئی اے حکام نے 2 بار پوچھ گچھ کی۔ذرائع کے مطابق قومی اسمبلی میں قائد حزبِ اختلاف شہباز شریف ایف آئی اے حکام کے سامنے تحقیقات کے لیے پیش ہوئے اور آدھے گھنٹے تک سوالوں کے جواب دئیے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ آدھے گھنٹے کی تفتیش کے بعد جب شہباز شریف واپس جانے کے لیے گاڑی میں بیٹھ کر روانہ ہوئے تو اچانک گاڑی روک کر انہیں دوبارہ تحقیقات کے لیے بلا لیا گیا تاہم یہ پتا نہیں چل سکا کہ کس کے کہنے پر شہباز شریف کو دوبارہ بلایا گیا، اس بارے میں ایف آئی اے حکام نے کچھ بھی بتانے سے گریز کیا۔

ذرائع کے مطابق اپوزیشن لیڈر شہباز شریف تحقیقاتی ٹیم کے سوالات کے مکمل جوابات نہ دے سکے۔

ایف آئی اے نے شہباز شریف کو سوالنامہ بھجوایا تھا جس میں شہباز شریف کے اکاؤنٹس میں کروڑوں روپے کی منتقلی سے متعلق سوالات تھے۔ رمضان اور العزیزیہ شوگر ملز کے ملازمین کے اکاؤنٹس سے اربوں روپے شریف فیملی کے اکاؤنٹس میں منتقل ہوئے۔

اس سے قبل شہباز شریف کی آمد پر ایف آئی اے آفس کے باہر لیگی کارکن بڑی تعداد میں موجود تھے، انہوں نے شہباز شریف کی گاڑی پر پھول نچھاور کیےاور خوب نعرے بازی کی۔

شہباز شریف لاہور میں ایف آئی اے کے دفتر میں ڈائریکٹر ایف آئی اے پنجاب زون 1 ڈاکٹر رضوان کی سربراہی میں 5 رکنی ٹیم کے روبرو پیش ہوئے۔ ان سے کم و بیش ایک گھنٹے پوچھ گچھ کی گئی۔ پوچھ گچھ مکمل ہونے کے بعد شہباز شریف میڈیا سے بات کئے بغیر تحقیقاتی ادارے کے دفتر سے واپس اپنی رہائش گاہ روانہ ہوگئے۔

واضح رہے کہ حمزہ شہباز کو بھی ایف آئی اے نے24جون کو طلب کررکھا ہے، ممکنہ گرفتاری سے قبل شہباز شریف اور حمزہ شہباز نے گزشتہ روز ہی لاہور کی سیشن عدالت سے ضمانت کروالی تھی۔

شہباز شریف اور ان کے خاندان پر الزام 

ایف آئی اے کی طرف سے الزام لگیا گیا ہے کہ شہباز شریف فیملی نے 25 ارب روپے منی لانڈرنگ کی ، شہباز شریف، حمزہ و سلمان شہباز کے خلاف 25 ارب روپے کی منی لانڈرنگ کی انکوائری میں ذاتی ملازمین کے نام شامل ہیں، شہباز شریف اور ان کے بچوں نے چپڑاسی، کلرک، کیشیئرز اور گودام مینجرز کے نام پر منی لانڈرنگ کی، منی لانڈرنگ میں شوگر ملز ہی کے 20 ملازمین کے بینک اکاؤنٹس استعمال کیے گئے، چپڑاسی مقصود کے نام پر 2 ارب 70 کروڑ ، حاجی نعیم کے نام پر 2 ارب 80 کروڑ اور ڈرائیور کے نام پر اڑھائی ارب روپے، چپڑاسی اسلم کے نام پر ایک ارب 75 کروڑ، کلرکس اظہر اور غلام شبیر خضر حیات کے ناموں پر ساڑھے چار ارب کی منی لانڈرنگ کی گئی۔ اس کے علاوہ قیصر عباس، اکبر، اقرار، انور، یاسین، غضنفر، توقیر، ظفر اقبال، کاشف مجید اور مسرور انور کے نام بھی استعمال کیے گئے۔

وفاقی تحقیقاتی ادارے کا الزام ہے کہ شریف گروپ آف کمپنیز کا چیف فنانشل آفیسر تمام منی لانڈرنگ کی نگرانی کرتا تھا، رقوم کی وصولی کے لئے شہباز شریف کا کیمپ آفس استعمال کیا جاتا رہا ، نوٹوں کی بوریاں پولیس پروٹوکول میں سلمان شہباز کے دفتر پہنچائی جاتیں، سلمان شہباز کے دفتر سے تمام رقم ہنڈی، حوالے کے ذریعے بیرون ملک بھیج دی جاتی۔

ایف آئی اے کے کال اپ نوٹس کا متن
ایف آئی اے پنجاب ڈائریکٹوریٹ لاہور کی شوگر سکینڈل کیس کی تحقیقات کرنے والی ٹیم نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر میاں محمد شہباز شریف کو کال اپ نوٹس جاری کیا ہے جو ماڈل ٹاؤن کے پتے پر انہیں بھجوایا گیا ہے۔ یہ کال اپ نوٹس ایف آئی آر نمبر 39/2020 ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل لاہور کی جانب سے پندرہ جون 2021ء کو جاری کیا گیاجس میں انہیں 22جون جوطلب کیا گیاہے۔
دو صفحات اور 8پیراگرافس پر مشتمل نوٹس میں وہ سوالات بھی شامل کئے گئے ہیں جن کے جوابات ان سے مانگے جا رہے ہیں لیکن ابھی تک جواب نہیں دیئے گئے۔

پیرا گراف نمبر 01
نوٹس میں کہا گیا ہے کہ ایف آئی اے لاہورکی شوگر انوسٹی گیشن ٹیم العربیہ شوگر ملزاوررمضان شوگر مل کے حوالے سے فوجداری تحقیقات کر رہی ہے۔ اس معاملے میں میاں شہباز شریف اور ان کے خاندان کے اکاؤنٹس میں 2008ء سے 2018ء کے دوران 25 ارب روپے کی منتقلی کا انکشاف ہوا ہے۔یہ بینک اکاؤنٹ رمضان شوگر ملز کے کلرکس اور چپڑاسیوں کے ذریعے آپریٹ کئے جاتے تھے اور انہی کے نام پر کھولے گئے تھے۔ اس دوران آپ (شہبازشریف) وزیراعلیٰ پنجاب تھے۔
پیراگراف نمبر 02
تحقیقات کے دوران تفتیشی ٹیم نے لاہور کی احتساب عدالت سے 19نومبر 2020ء کو اجازت لے کر شہبازشریف کو پانچ سوالات پر مشتمل سوالنامہ بھجوایا۔ یہ سوالنامہ آئی جی جیل خانہ جات پنجاب کے ذریعے بھجوایا گیا تھا جس میں آپ کے کریمنل مس کنڈکٹ اور منی لانڈرنگ کے الزامات کے حوالے سے سوالات پوچھے گئے تھے۔ یہ سوالنامہ آپ (شہباز شریف)کو ملنے کے بعد تفتیشی ٹیم نے کوٹ لکھپت جیل میں آپ سے 18دسمبر 2020ء کو ملاقات کی تاکہ آپ کو دفاع کا موقع دیا جا سکے۔ تاہم آپ نے ان سوالوں کا جواب دینے کے بجائے ٹیم سے یہ کہہ کر مہلت حاصل کی کہ آپ اپنے وکیل اور قانونی ٹیم سے مشاورت کرنا چاہتے ہیں۔
پیرا گراف نمبر03
آپ کو ایک اور موقع فراہم کرنے کے لئے 08جنوری 2021ء کو تحقیقاتی ٹیم دوبارہ ملاقات کے لئے گئی۔ تاہم آپ نے بتایا کہ آپ کے لیگل ایڈوائزر عطاء اللہ تارڑ آپ کی جانب سے جلد جواب جمع کرائیں گے۔ انوسٹی گیشن ٹیم نے نوٹ کیا ہے کہ معذرت کے ساتھ آپ کو کافی وقت دیا گیا کہ آپ اپنی پسند کے مالی اور قانونی ماہرین سے مشاورت کر لیں لیکن آپ نہ تو تفتیشی ٹیم کے سامنے پیش ہوئے اور نہ ہی اپنی پوزیشن کی وضاحت کی۔

پیراگراف نمبر 05
کال اپ نوٹس میں کہا گیا ہے کہ صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد انوسٹی گیشن ٹیم نے 17 دسمبر 2020ء کودوبارہ سوالات دیئے تھے ان میں پوچھا گیا تھا کہ

کال اپ نوٹس میں اٹھائے گئے سوالات
سوال نمبر1
ایف آئی اے کے پاس رمضان شوگر ملز اور العربیہ شوگر ملز کے بزنس کے حوالے سے معمولی تنخواہ والے ملازمین کے نام پر اکاؤنٹس کھولے گئے جن میں پچیس ارب روپے سے زائد کی رقم جمع کرائے جانے کے شواہد موجود ہیں۔ ایف آئی آر نمبر 39/2020 کے مطابق یہ دونوں کمپنیاں جعلی ہیں۔ آپ یہ بتائیں کہ کیا آپ نے ان اکاؤنٹس میں جمع کرائے گئے پیسوں میں سے رقم وصول کی یا آپ کی طرف سے کسی نے کوئی رقم وصول کی ؟
اگر نہیں کی تو آپ نے اورنگزیب بٹ سے 05ملین روپے کا چیک کیسے وصول کیا اور وہ چیک رمضان شوگر مل کے چپڑاسی مرحوم گلزار احمد خان کے اکاؤنٹ میں جمع کرایا گیا۔

سوال نمبر02۔
ایف آئی اے کے پاس مصدقہ معلومات ہیں کہ آپ کی طرف سے سلمان شہباز شریف نے کیش میں بھاری رقوم وصول کی ہیں انہوں نے یہ رقوم وزیراعلیٰ پنجاب کا کیمپ آفس قرار دیئے گئے ماڈل ٹاؤن لاہور کے گھر نمبر 87/96 میں وصول کیں اور انہوں نے یہ رقم آپ کی سبز بلٹ پروف لینڈکروزر کے ذریعے کارپوریٹ آفس 55-K ماڈل ٹاؤن لاہور منتقل کی اور آپ کے قابل اعتماد افسران کے اکاؤنٹس میں یہ رقم جمع کرائی گئی۔
ایف آئی اے نے سوال کیاہے کہ آپ کا کیمپ آفس کی رہائشگاہ اور ذاتی گاڑی رقم کی وصولی اور منتقلی کے لئے استعمال ہوئی اور منی لانڈرنگ کے حوالے سے کیا موقف ہے؟

سوال نمبر03۔
ایف آئی اے کے پاس مصدقہ معلومات ہیں کہ رمضان شوگر مل کے چھوٹے ملازمین کے اکاؤنٹس کے ذریعے منتقل کی گئی رقم آپ نے وصول کی یا آپ کی طرف سے وصول کی گئی۔ یہ رقم ہنڈی اور حوالہ نیٹ ورک کے ذریعے پاکستان سے باہر بھجوائی گئی اور آخرکار وہ رقم آپ کے خاندان تک پہنچی۔ ان منی لانڈرنگ کی سرگرمیوں کے حوالے سے آپ کا کیا موقف ہے؟۔

سوال نمبر04۔
مہربانی کر کے اپنے بیرون ملک تمام اثاثوں، کمپنیوں اور جائیدادوں، سرمایہ کاری اور اکاؤنٹس کی تفصیلات فراہم کریں۔ ان میں ان چار اپارٹمنٹس کی تفصیلات شامل نہ کی جائیں جو پہلے سے ایف بی آر میں ظاہر کئے گئے ہیں ۔ دیگرکونسے اثاثے تمہارے یا تمہارے خاندان کے افراد کے نام پر ہیں یا وہ اثاثے جو تمہاری بیویوں اور بچوں کے نام ہیں یا ان سے مالی فائدہ لے رہے ہیں۔ آپ بیرون ملک آف شور کمپنی اور کوئی گاڑی رکھتے ہیں یا نہیں۔

نوٹس کاپیراگراف نمبر06۔
آپ سے درخواست کی جاتی ہے کہ شوگر انوسٹی گیشن ٹیم کے سامنے 22 جون 2021ء کو 11 بجے پیش ہوں اور وہاں ایمانداری سے ان سوالات کے اور اگر ان کے علاوہ کوئی سوالات پوچھے جائیں تو ان کے بھی جوابات دیں۔ آپ یہ جوابات بند لفافے میں دے سکتے ہیں۔ آپ کو ہدایت کی جاتی ہے کہ الزامات کے حوالے سے تمام دستاویزی ثبوت ساتھ لے کر آئیں جو آپ کے موقف کو سپورٹ کرتے ہوں۔

پیراگراف نمبر07 ۔
تحقیقاتی ٹیم بہت سی انکوائریوں اور انویسٹی گیشنز میں مصروف ہے اس لیے آپ سے درخواست کی جاتی ہے کہ اگر آپ کو کسی معاونت کی ضرورت ہو تو ڈپٹی ڈائریکٹر لاء رقیہ امبرین سے رابطہ کریں ۔ رقیہ امبرین کو ایف آئی اے آفس میں فوکل پرسن تعینات کیا گیا ہے ان سے اگر حاضری یا جاری تحقیقات کے حوالے سے معلومات کے لیے رابطہ کیا جا سکتا ہے ۔ فوکل پرسن ٹمپل روڈ لاہور میں واقع ایف آئی اے کے دفتر میں آپ کی تفتیشی ٹیم کے سامنے آپ کی حاضری میں معاونت فراہم کریں گی ۔

پیراگراف نمبر08۔
اگر آپ نے اس کال اپ نوٹس پر عمل نہ کیا تو ٹیم یہ سمجھے گی کہ آپ کے پاس اپنے دفاع میں پیش کرنے کے لیے کچھ نہیں ہے اور تحقیقاتی ٹیم آپ کے خلاف قانونی کارروائی کر سکتی ہے جس میں گرفتاری بھی شامل ہے ۔ اور یہ ایکشن کال اپ نوٹس اور ریکارڈ پر موجود شواہد کی بناء پر لیا جائے گا ۔

یہ کال اپ نوٹس ایف آئی اے کی ڈپٹی ڈائریکٹر لاء رقیہ امبرین کی جانب سے جاری کیا گیا ہے جس کی کاپی معلومات کے لیے سیکرٹری قومی اسمبلی پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد ، ڈائریکٹر ایف آئی اے پنجاب لاہور ، تفتیشی ٹیم کے سربراہ و ممبران اور ڈائریکٹر جنرل ایڈیشنل ڈی جی نارتھ کے پی ایس کو بھجوائی گئی ہیں ۔