بچوں کے تحفظ کےلئے قائم شہید اعتزاز حسن چائلڈ پروٹیکشن انسٹیٹیوٹ کا افتتاح


اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری نے بچوں کی حفاظت کے قانون کے تحت بچوں کو ذہنی و جسمانی بد سلوکی سے تحفظ فراہم کرنے کیلئے قائم شہید اعتزاز حسن چائلڈ پروٹیکشن انسٹیٹیوٹ کا افتتاح کردیا۔

شیریں مزاری نے اسلام آباد میں آج  شہید اعتزاز حسن چائلڈ پروٹیکشن انسٹیٹیوٹ کا افتتاح کیا اس تقریب میں مختلف شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی ۔ یہ سنٹر بچوں کی حفاظت کے قانون کے تحت بچوں کو ذہنی و جسمانی بد سلوکی سے تحفظ فراہم کرنے کیلئے قائم کیا گیا ہے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا ہے کہ حکومت بچوں کے حقوق کے تحفظ اور ان سے مشقت لینے کے کی تمام شکلوں کے خاتمے کیلئے اپنے عزم کا اعادہ کرتی ہے ۔

اس موقع پر وفاقی سیکرٹری انسانی حقوق انعام اللہ خان بھی موجود تھے ۔ یہ انسٹی ٹیوٹ وزارت کی کاوشوں سے منظور ہونیوالے اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری چائلڈ پروٹیکشن ایکٹ 2018 کے تحت قائم کیا گیا ہے ۔ اس انسٹی ٹیوٹ کا بنیادی مقصد بچوں کو ہر طرح کے جسمانی یا ذہنی تشدد ، نقصان ، انہیں نظر انداز کرنے ، بدسلوکی ، استحصال اور بدسلوکی سے تحفظ فراہم کرتے ہوئے پسماندہ اور خطرات سے دوچار والے بچوں کو خدمات کی خدمات کی فراہمی ہے ۔

ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا کہ”بچوں کے حقوق کو یقینی بنانا موجودہ حکومت کی ایک اولین ترجیح ہے ، اور نیا چائلڈ پروٹیکشن انسٹی ٹیوٹ پاکستان میں بچوں کے ساتھ ہونے والی زیادتی ، تشدد اور استحصال کی روک تھام کے لئے کوششوں کا ایک اہم سنگ میل ہے۔” یہ ادارہ سٹریٹ چلڈرن ، مشقت کا شکار بچوں ، انسانی سمگلنگ ،گمشدہ اور لاوارث ہونیوالے بچوں کو تحفظ ، رہائش ، مشاورت ، ان کے خدان کی تلاش اور ان بچوں کی ہر اعتبار سے بحالی کی خدمات فراہم کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ وزارت انسانی حقوق کی جانب سے قانون سازی کو مستحکم کرنے اور پاکستان کے آئین فراہم کئے گئے بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لئے حالیہ ، ٹھوس اقدامات کو بھی اجاگر کیا ۔ انہوں نے کہا کہ گھریلو ملازمہ آٹھ سالہ زہرہ شاہ جسے اس کے آجر نے بے رحمی سے قتل کیا ایک لرزہ خیز عمل تھا ۔ اس نے وزارت انسانی حقوق کو بچوں کی ملازمت کے قانون 1991 کے شیڈول ون کے تحت بچوں کو گھریلو ملازم رکھنے کی درجہ بندی کرنے اور اس پر موثر عملدر آمد کو یقینی بنانے کیلئے اس قانون میں فوری ترمیم لانے پر مجبور کیا۔

انہوں نے کہا وزارت انسانی حقوق کے تحت ایک قومی ہیلپ لائن 1099 بھی قائم کی گئی ہے ۔ اس ہیلپ لائن کا مقصد پورے پاکستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی شکایات کا فوری اندراج اور ازالہ کرنا ہے ۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے انسانی حقوق کے وفاقی سکریٹری انعام اللہ خان نے کہا کہ یہ بات ناقابل برداشت ہے کہ بچوں کو استحصالی یا خطرناک حالات میں کام کرنے پر مجبور کیا جائے ۔انہوں کہا کہ اس قسم کی صورتحال سے بچوں کو تحفظ فراہم کرنے کیلئے وزارت انسانی حقوق اپنے فرائض کو بخوبی نبھا رہی ہے ۔

انہوں نے کہا مشقت کا عمل بچوں کی ذہنی اور جسمانی صحت پر انتہائی مضر اثرات مرتب کرتی ہے اور اس عمل سے بچوں کو بچانا نہ صرف ہماری آئینی ذمہ داری ہے بلکہ یہ اس حوالے سے پاکستان کی بین الاقوامی ذمہ داریوں کا بھی تقاضا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کہ نیا چائلڈ پروٹیکشن انسٹی ٹیوٹ پاکستان کی بچوں کے حقوق کے لئے جاری پائیدار کوششوں کی سمت ایک اور اہم قدم ہے ۔