میں بھی آگ میں رہ کر آگ بجھانا چاہتا ہوں،ڈاکٹر فاروق عبداللہ


سری نگر: مقبوضہ کشمیر کے سابق وزیر اعلی اور بھارتی پارلیمان کے رکن ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے  مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کی بحالی کا عزم دھراتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیر میں  بھارتی فورسز کی بھاری موجودگی ہے،لوگوں کی پکڑ دھکڑ ہورہی ہے بچوں کو گرفتار کر کے لیجارہے ہیں،یہ نہیں ہونا چاہیے،سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کی گئیں ہیں یہ تو غلط ہے، انسان کی نقل و حرکت اسکا جمہوری حق ہے۔ اس عمل کو روکا جائے ۔

عوامی اتحاد برائے گپکار اعلامیہ کے اجلاس کے بعد میڈیا سے بات چیت میں ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ جب انکے والد شیخ محمد عبداللہ سعودی عرب میں تھے اور انہیں معلوم ہوا کہ دہلی واپس آکر انکی گرفتاری ہوگی،اس وقت سعودی عرب کے بادشاہ شاہ فیصل نے انہیں سعودی عرب کی شہریت کی پیشکش کی تھی،تاہم انہوں نے انکار کرتے ہوئے کہا میں آگ میں رہ کر اس آگ کو بجھانا چاہتا ہوں۔

ڈاکٹر عبداللہ کا کہنا تھا میں بھی آگ میں رہ کر آگ بجھانا چاہتا ہوں۔نیشنل کانفرنس صدر نے کہاہمیں جاری افواہوں کے سلسلے میں اب تک کسی چیز کے بارے میں نہیں پتہ ہے ، جو انہیں کرنا ہے وہ کریں گے، ہم تو اللہ کی رسی تھامے ہوئے ہیں،ہمیں امید ہے کہ وہ ہمارے مستقبل کو ٹھیک رکھیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ جہاں تک حد بندی کا سوال ہے تو معاملہ عدالت میں ہے۔انکا کہنا تھا ہم نے ان سے کہا ہے کہ معاملہ عدالت میں زیر التوا ہے، حدی بندی کمیشن کے سربراہ خود سپریم کورٹ کے جج رہے ہیں،سپریم کورٹ کا جواب آئیگا تو پھر ہم فیصلہ کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ کورونا بیماری نے ہر ایک شعبے کو بحران میں مبتلا کیا،جبکہ ژالہ باری کے نتیجے میں زمینداروں کو نقصان پہنچا۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں کو ایک ہزار روپے سے کیا ہوگا،بلکہ سرکار کو ایک جامع پالیسی ترتیب دیں،اور کئی ایسا نا ہی جو ایک استاد کے بچے نے کیا وہی اور کچھ لوگ کریں۔ ٹیکہ کاری پر زور دیتے ہوئے ڈاکٹر عبداللہ نے کہا کہ کئی ڈسپنسریوں میں عملہ موجود نہیں ہے۔عوامی اتحاد کے نئے ترجمان محمد یوسف ، تاریگامی نے کہا کہ جماعت کبھی بھی لوگوں کی بہتری کے لئے کوئی کسر نہیں چھوڑے گی۔

مزید پڑھیں: مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد کشمیری معیشت سخت بحران کا شکار

انہوں نے کہا ، “ہم ( عوامی اتحاد برائے گپکار اعلامیہ) لوگوں کی فلاح و بہبود کے لئے ہر مواقع کو استعمال کریں گے۔ میٹنگ میں محبوبہ  مفتی ، محمد یوسف تاریگامی ، حسنین مسعودی ، جاوید مصطفی میر ، مظفر احمد شاہ اور محبوب بیگ نے شرکت کی۔عوامی اتحاد برائے گپکار اعلامیہ  کا یہ اجلاس  چھ ماہ طویل عرصہ کے بعد طلب کیا گیا ہے اور جموں و کشمیر کو مزید تقسیم کرنے کے بارے میں قیاس آرائوں کے درمیان منعقد ہوا ہے۔