مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد کشمیری معیشت سخت بحران کا شکار

سری نگر:  مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد کشمیری معیشت سخت بحران کا شکار ہے۔ 5اگست2019کے بعد کشمیر ی  فاکہ کشی کا شکار ہیںکیونکہ ہر تجاری شعبہ یکسان طورپر طری سے متاثر ہوا ہے۔ جموںوکشمیر کی معیشت کو ایک برس کے دوران 5.51 بلین ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا جبکہ 5اگست 2019کے بعد پہلے چار ماہ کے دوران اسے 2.46 بلین ڈالر کا نقصان ہوا۔

سرینگر میں قائم تجارتی ادارہ کشمیر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹر  کے مطابق روزانہ کی بنیاد پر مجموعی طور پر ہزاروں کروڑ روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑا۔ ہندوستان کے 5 اگست 2019 کے اقدام کے بعد کشمیری عوام فاقہ کشی کی سطح پر پہنچ چکے ہیں کیونکہ ہر شعبے کو یکساں نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ معیشت کو ایک سال میں $ 5.51 بلین ڈالر کا سامنا کرنا پڑا ہے جبکہ اس نے 5 اگست 2019 کی غیر قانونی کارروائی کے بعد پہلے 4 ماہ کے دوران 2.46 ارب ڈالر کا نقصان برداشت کیا ہے  وادی کشمیر کو 2020کے دوران کل چالیس ہزار کروڑ روپے کا معاشی نقصان اٹھانا پڑا اور حقیقت یہ ہے کہ بھارت مقبوضہ جموںوکشمیر کی معیشت کو منظم طریقے سے تباہ کر رہا ہے۔

مزید پڑھیں: آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات 25 جولائی کو ہوں گے،انتخابی شیڈول جاری کر دیا گیا

رپورٹ میں کہا گیا کہ جون 2020سے مارچ 2021کے دوران پانچ لاکھ سے زائد کشمیری اپنی نوکریوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ بھارتی فوجی محاصرے اور لاک ڈائون کی وجہ سے مقبوضہ کشمیر کی معیشت برباد ہو چکی ہے جبکہ ہر طرح کی تجارت کو2020میں اپنی کمائی میں کم از کم 50فیصدکمی کا سامنا کرنا پڑا ۔رپورٹ میں سرینگر میں قائم تاجر تنظیم کشمیر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری  کے اعداد وشمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ علاقے کی معیشت کوروزانہ ہزاروں کروڑ روپے کے نقصان کا سامنا کر نا پڑرہا ہے