ضرورت برائے تسلسل…تحریر:طارق عثمانی


سنڈے ٹائمز اسلام آباد سے شائع ہونے والا معتبر کثیر الاشاعت ہفت روزہ تھا جو میری ادارت میں شائع ہوتا رہا۔ 1996 میں ملک کے صدر فاروق احمد خاں لغاری سرکاری دورے پر امریکہ گئے ان کے ساتھ جانے والوں میں پولیس کا ایک باڈی گارڈ بھی امریکہ گیا ہوا تھا جو واپسی پر چند ہفتوں کے بعد ہی پراسرار طور پر غائب ہو گیا۔ ایوانِ صدر میں متعلقہ پولیس کے باڈی گارڈ اے ایس آئی اکبر خاں کے اچانک غائب ہو جانے پر بہت شور اٹھا اس وقت الیکٹرانک میڈیا یا سوشل میڈیا/ سماجی رابطے کی ویب سائٹس وجود کا نہیں تھا۔ اخبارات میں باڈی گارڈ کی پراسرار گمشدگی کے قصے کہانیوں پر مبنی خبریں روز چھپ رہی تھیں۔ ایسے میں مجھے اپنے مصدقہ ذرائع سے خبر ملی کہ مذکورہ باڈی گارڈ اسی سرکاری پاسپورٹ پر جس پروہ صدر کے سرکاری دورے پر گیا تھا، پر دوبارہ امریکہ بھاگ گیا ہے۔ تحقیقات کیں تو پتہ چلا کہ وہ نیویارک شہر میں ٹیکسی چلاتا ہے۔ 16 مارچ 1996 کو میں نے “سنڈے ٹائمز” کے صفحہ اول پر سٹوری شائع کردی یوں صدر صاحب کے باڈی گارڈ کی ‘پراسرار لاپتگی’ کا معاملہ تو حل ہوگیا لیکن اس کہانی نے یہ راز کھولا کہ اب تک سینکڑوں سرکاری ملازم جو مختلف اوقات میں سربراہان حکومت کے ساتھ سرکاری دوروں پر جاتے رہے ہیں وہ حکومتی نوکریاں چھوڑ کر ملک سے بھاگ چکے ہیں۔ اس وقت ان خبروں کا بھی خوب چرچا ہوا اور حکومتی سطح پر اس دوسرے بڑےانکشاف پر بھی بڑی لے دےہوئی اپوزیشن کی جماعتوں نے پورا آسمان سر پر اٹھائے رکھا اور کئی روز تک یہ معاملہ پارلیمنٹ میں پورے زور کے ساتھ زیر بحث رہا۔ چند دنوں بعد ہی حکومت کی طرف سے آرڈر پاس ہوگئے کہ آئندہ کوئی سرکاری ملازم جو سرکاری دوروں پر بیرونِ ملک جائے گا واپس آتے ہی اپنا سرکاری پاسپورٹ محکمہ خارجہ میں جمع کروائے گا خواہ وہ جس بھی گریڈ کا آفیسر ہو۔
پاس کیے گئے ان حکومتی آرڈرز کو آج پچیس سال سے زائد عرصہ گزر چکا ہے میری ذاتی اطلاع ہے کہ ہزاروں سرکاری ملازمین جن میں گریڈ 20 سے 22 کے اعلیٰ حکومتی عہدیدار بھی شامل ہیں سرکاری پاسپورٹوں کے ذریعے ملک سے بھاگ چکے ہیں ۔ نہ صرف وہ اس ملک سے بھاگے ہیں بلکہ جاتے ہوئے وہ اس ملک کے قومی خزانے سے لوٹے گئے ارب ہا روپیہ بھی اپنے ساتھ لے گئے ہیں۔ اس ملک سے بھاگ جانے والے یہ وہ سرکاری پرزے تھے جو سالہا سال ہماری سرکار چلاتے رہے انھوں نے اپنے منصوبہ بند پروگرام کے تحت پہلے اپنے بیوی بچوں کو باہر بھجوایا، لوٹا گیا پیسہ منتقل کیا اور پھر خود بھی بھاگ نکلے ، لیکن 25 سال پہلے کے أس حکومتی آرڈر پر آج تک عمل درآمد نہ ہو سکا، لوگ لٹتے رہے، خزانہ خالی ہوتا رہا اور یہ لوگ لوٹ لوٹ کر بھاگتے رہے نہ کسی نے روکا نہ کوئی روک سکا اور چلتے چلتے آج کازمانہ آگیاہے ۔
یہ کہانی بہت پرانی ہے لیکن آج بھی تروتازہ ہے۔ اگر تحقیق تسلسل سے جاری رہتی ، آنکھیں کھلی رکھتے نہ سرکار چلانے والے پرزے بھاگتے نہ کسی بڑے سرکاری سیاسی انجن میں خرابی آتی نہ کوئی پاناما ہوتا ۔
اخبارات سے الیکٹرانک، ڈیجیٹل اور سوشل میڈیا کا سفر جس تیزی سے گزرا ہے وہ پوری ایک الگ داستان ہے، آج دن اور رات میں آوازیں ہی آوازیں ہیں، میڈیا کی اس بھیڑ میں تحقیق کا کوئی نام و نشان نہیں۔ ہر کوئی شہرت کی بلندیوں کو چھو کر کروڑ پتی بننا چاہتا ہے میرے قبیلے میں شامل آج کا نوجوان تحقیق سے بھاگ رہا ہے حالانکہ تحقیق ہی آنکھوں پر پڑے پردے کو ہٹاتی ہے، تحقیق سے آپ کو حقائق ملتے ہیں اور حقائق کو کوئی جھٹلا نہیں سکتا، چھان بین سے سراغ ملتا ہے۔ آج بھی اگر سرکاری پاسپورٹوں پر ملک سے بھاگ جانے والے سرکاری عہدیداروں کی چھان بین کی جائے تو ہر ایک کا پورا پورا سراغ مل سکتا ہے آپ کو پتہ چلے گا کہ بھاگے ہوئے انسانوں کے پیروں کے نشان اس کی نشاندہی کریں گے کہ وہ کہاں گئے اور کیا لے گئے ان کا سرپرست کون تھا اور ان کی پشت کے چہروں عیاں ہوں گے۔
آج کا نوجوان تحقیق سے بھاگتا ہے حالانکہ تحقیق سے چھپی ہوئی چیز کا کھوج ملتا ہے۔ تحقیق کا تسلسل ہی انسان کو ترقی دیتا ہے اور اس کی دائمی شہرت کا حوالہ بھی تحقیق کا تسلسل ہے۔ تحقیق کا تسلسل ہی انسان کو ذہنی ترقی کے اعلیٰ مرتبہ پر پہنچاتا ہے، ذہنی سرگرمی سے انسان کی تمام ترقیاں بندھی ہوئی ہوتی ہیں وہ ذہن کی سطح پر اعلیٰ حقیقتوں کو دریافت کرسکتا۔ زندہ انسان وہ ہے جو اپنے آپ کو ذہنی ترقی کے اعلیٰ مرتبے تک لے جائے۔ صلاحیت ایک خدائی عطیہ ہے، صلاحیت کا کم تر استعمال خدا کی ناقدری ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ تحقیق کا تسلسل جاری رکھا جائے خواہ وہ صحافتی سطح پر ہو یا پھر سرکار آگے بڑھ کر آئے ۔