وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے دو ماہ کے اندر کسان کارڈکا اجراء یقینی بنانے کی ہدایت کردی


پشاور: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے ایگرکلچر ٹرانسفارمیشن پلان کے تحت صوبے میں جاری اقدامات پرا ب تک کی پیش رفت کو تسلی بخش قرار دیتے ہوئے متعلقہ حکام کو ڈیجیٹل سبسڈی میکنزم کے تحت آئندہ دو ماہ کے اندر کسان کارڈکا اجراء یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔

انہوں نے ایگر یکلچر ٹرانسفارمیشن پلان کو شعبہ زراعت کے فروغ و ترقی کیلئے ایک انقلابی اقدام قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ صوبائی حکومت وزیراعظم عمران خان کے وژن کے مطابق مذکورہ پلان کے تحت اپنے اہداف کے حصول کیلئے کامیابی کے ساتھ گامزن ہے ، صوبے میں شعبہ زراعت کی دیر پا ترقی ، کسانوں کی معاونت اور فوڈ سکیورٹی موجودہ صوبائی حکومت کی اہم ترجیحات میں شامل ہیں اور اس مقصد کیلئے دستیاب وسائل کے مطابق ٹھوس اقدامات کئے جارہے ہیں۔

وہ وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں ایگریکلچر ٹرانسفارمیشن پلان پر پیشرفت کے حوالے سے ایک اجلاس کی صدارت کر رہے تھے ۔ صوبائی وزیر زراعت محب اﷲ خان، چیف سیکرٹری ڈاکٹر کاظم نیاز، ایڈیشنل چیف سیکرٹری شہاب علی شاہ، سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو سید ظفر علی شاہ ، سیکرٹری زراعت محمد اسرار اور دیگر متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی ۔

اجلاس کو مذکورہ پلان کے تحت خیبر پختونخوا میں جاری اقدامات پر پیشرفت کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ کسانوں کو معیاری بیج کی فراہمی کے پروگرام کے تحت بیج کی خریداری پر کام جاری ہے۔ ابتدائی طور پر دس سے بار ہ ہزار میٹرک ٹن گندم کے بیج خریدے جارہے ہیں جو کسانوں میں تقسیم کئے جائیں گے۔

اسی طرح آئی سی ٹی بیسڈ ایکسٹنشن سروسز کیلئے ٹیلی فارمنگ اور ایگریکلچر سسٹم پہلے سے فعال ہیں اور صوبہ بھر میں ماڈل فارم سروسز سنٹرز قائم کئے جا چکے ہیں ۔ ماڈل فارم سروسز سنٹرز میں کسانوں کو ون ونڈو آپریشن کے ذریعے سہولیات دی جارہی ہیں جبکہ ٹیلی فارمنگ سسٹم کے تحت فارمر ٹیلی فسلٹیشن سنٹر قائم کیا گیا ہے اس کے علاوہ ویب پورٹل ، موبائل اپیلیکشن ، مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم اور ایس ایم ایس سروس وغیرہ ٹیلی فارمنگ سسٹم کے اہم فیچرز ہیں۔

نجی شعبہ کے تعاون سے آئی سی ٹی بیسڈ  ایکسٹنشن سروسز کا صوابی سے بطور پائلٹ پراجیکٹ اجراء کیا جا چکا ہے ، مذکورہ ماڈل کو بعدازاں دیگر اضلاع تک توسیع دی جائے گی ۔ ڈیجٹیل سبسڈی میکنزم کے تحت کسان کارڈ کے اجراء کی تیاریاں جاری ہیں ۔ اگست 2021 تک کسان کارڈ کا اجراء کردیا جائے گا۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ خیبرپختونخوا اریگیٹڈ ایگر یکلچر پراجیکٹ کے تحت پہلے مرحلے میں بطور پائلٹ پراجیکٹزمین کی نمی معلوم کرنے کیلئے  150 موئسچر میٹرز لگائے جائیں گے ۔شرکاء کو مزید آگاہ کیا گیا کہ ویئر ہاؤس آپریٹرز کیلئے سروسز پر سیلز ٹیکس 16 فیصد سے کم کرکے ایک فیصد کیا جارہا ہے جسے فنانس بل میں شامل کیا جائے گا۔ ایگریکلچر ریسرچ انسٹیٹوٹس ترناب اور مینگورہ کی اپ گریڈیشن کے سلسلے میں مجوزہ ایکٹ نظر ثانی کیلئے محکمہ قانون کو دیا گیا ہے جسے کلیئرنس کے بعد منظوری کیلئے صوبائی کابینہ کو پیش کیا جائے گا۔

مزید برآں مویشیوں کی جنیاتی بہتری کے پروگرام کے تحت مجوزہ منصوبے کے پی سی ون کی تیاری پرکام جاری ہے ۔اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ پانچ سالہ ایگریکلچر ٹرانسفارمیشن پلان کے تحت مجوزہ اقدامات کے سلسلے میں صوبائی حکومت کی رضا مندی اور مجوزہ پلان کے حوالے سے متعلقہ فورم کوآگاہ کردیا گیا ہے جس سے اتفاق کی صورت میں تفصیلی پی سی ون بھی پیش کر دیا جائے گا۔ وزیراعلیٰ نے مذکورہ اقدامات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ پلان کے تحت تمام جاری سرگرمیوں کی مکمل تفصیلات دو ہفتوں کے اندر پیش کی جائیں ۔

انہوں نے کہاکہ شعبہ زراعت ملکی معیشت میں کلیدی اہمیت رکھتا ہے یہی وجہ ہے کہ موجودہ حکومت اس شعبے کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے پر خصوصی توجہ دے رہی ہے ۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ موثر حکمت عملی اور کسانوں کی مالی و تکنیکی معاونت کے ذریعے زرعی پیداوار کو کئی گنا بڑھایا جا سکتا ہے اور اس سلسلے میں وزیراعظم کا ایگریکلچر ٹرانسفارمیشن پلان ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔

محمود خان نے کہاکہ صوبائی حکومت پلان کے تحت پانچ سالہ مجوزہ منصوبوں پر عمل درآمد کیلئے نہ صرف پرعزم ہے بلکہ دستیاب وسائل کے مطابق نظر آنے والے اقدامات بھی کررہی ہے ۔