سلامِ صد احترام پہنچے….محمد عبدالشکور صدرالخدمت فاؤنڈیشن پاکستان


پاکستان حادثات کی سر زمین بنتی جا رہی ہے۔ کورونا، سیلاب اورزلزلے جیسی قدرتی آفات کی پیش بینی اور پیش بندی تو انسانوں کے بس ہی میں نہیں۔
مگر ائیر لائن کریش، ٹرینوں اور بسوں کے حادثات، بلوے اور آتش زدگی جیسے واقعات بھی تھمنے کا نام نہیں لے رہے۔ قومی قیادت کے سوچنے کی ضرورت ہے کہ
“اِن سب” کے ہوتے ہوئے ہم سب مل جُل کر اِن آفات سے نجات کیوں نہیں پا سکتے؟
اپنے حالات کا جائزہ اور اپنے رویوں کی اصلاح کا دوسرا نام” توبہ” ہے۔ ہم توبہ کرنے سے کیوں کتراتے ہیں؟ کیوں آمادہ نہیں ہو پاتے؟
توبہ کے ساتھ ساتھ آفات و حادثات سے نمٹنے کے لئے ہمہ وقت تیار رہنا اور تیاریوں کو جاری رکھنا بھی بہت اہم کام ہے اور الخدمت کی قیادت اور کارکن اپنی ان ذمہ داریوں سے پوری طرح آگاہ ہے۔

روہڑی میں ہونے والے بدقسمت واقعے کی اطلاع ملتے ہی الخدمت کی مقامی قیادت کارکنوں، ایمبولینسوں اور میڈیکل ٹیموں سمیت جائے حادثہ پہ پہنچ گئی۔
وہ زخمیوں کو ہسپتال پہنچانے، میتوں کے نہلا کر ، تابوتوں کے ذریعے آبائی مقامات تک بھجوانے، بے سہاروں اور لواحقین کے کھانے پینے اور بستروں کا بندوبست کرنے کے کام میں ایک خودکار نظام کی طرح جُت گئے۔ رضاکاروں نے دن اور رات کی شفٹوں کے لئے خود ہی اپنی اپنی ذمہ داریاں سنبھال لیں۔
روہڑی، ڈھرکی، سکھر اور صادق آباد میں پھنسے ہوئے مسافروں کو سہولیات پہنچانے کےلئے کیمپ لگ گئے۔
الخدمت سندھ کے تمام ذمہ داران اور خاص طور پر جائے حادثہ کے مقامات کی قیادت اور کارکنان اس قابل ہیں کہ اُن کی اِن خوبصورت خدمات پراُن کے ہاتھ چوم لئے جائیں اور اللہ سے ان کے لئے بہترین اجر کی دعا مانگی جائے۔
الخدمت سندھ کے
ذمہ دارو : کارکنو ؛
آپ سب تک
میرا سلام پہنچے
سلامِ صد احترام پہنچے
آپ کا بھائی