اشتعال انگیز تقاریر ، فاروق ستار سمیت متحدہ کے 7رہنما بری


کراچی: اشتعال انگیز تقاریر کے 21 مقدمات میں  فاروق ستار سمیت ایم کیو ایم کے 7رہنما بری کردیئے گئے۔

کراچی کی انسدادِ دہشتگردی کی عدالت میں ایم کیو ایم رہنماؤں کے خلاف اشتعال انگیز تقاریر کے 21 مقدمات کی سماعت ہوئی۔ عدالت نے ایم کیو ایم رہنماؤں کی جانب سے دائر بریت کی درخواستوں پر فیصلہ سناتے ہوئے ان کی 21 مقدمات میں بریت کی درخواست منظور کرلی۔

بری ہونے والے رہنماؤں میں رئوف صدیقی، فاروق ستار، وسیم اختر، خواجہ اظہار، سلمان مجاہد اور دیگر شامل ہیں۔ ایم کیو ایم رہنماؤں کے خلاف بانی ایم کیو ایم کی اشتعال انگیز تقاریر میں سہولت کاری کے مقدمات درج تھے۔

فیصلے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فاروق ستار نے کہا کہ 7 ملزمان بری ہوئے ہیں، گذشتہ 6 سالوں سے مقدمہ چل رہا تھا، جو صرف تالیاں بجانے اور تقریر کرانے کا تھا، ہمارے خلاف اسی پس منظر کے دیگر مقدمات بھی ختم ہونے چاہئیں۔

فاروق ستار نے کہا کہ 2016 میں اپنی پالیسی واضح کی، ہم تو الگ ہوگئے لیکن ان مقدمات کے ذریعے ہمیں اسی سے جوڑا جارہا ہے، اب لاپتہ گم شدہ کارکنان اور بے گناہ کارکنان کو باہر آنا چاہئے۔