جی۔سیون ممالک میں گوگل،فیس بک اورایمیزون سمیت ملٹی نیشنل کمپنیوں پرٹیکس لگانے پراتفاق


لندن :برطانوی دارالحکومت لندن میں جی سیون ممالک کے وزرائے خزانہ کے اجلاس میں کارپوریٹ ٹیکس کی منظوری دی گئی، گوگل، فیس بک اور ایمیزون سمیت ملٹی نیشنل کمپنیوں پر ٹیکس لگانے پر اتفاق ہوگیا۔

اس معاہدے کے طے پانے سے امید ظاہر کی گئی ہے کہ ٹیکس بچانے کے راستے روکے جا سکیں گے۔لندن میں امیر ترین ملکوں کے گروپ جی سیون کے وزرائے خزانہ کا دو روزہ اجلاس  ہفتہ کو پانچ جون کو ختم ہوا۔ اس اجلاس میں کارپوریٹ ٹیکس کے نفاذ سے متعلق ایک اہم اور تاریخی معاہدے کو شریک وزرائے خزانہ نے حتمی شکل دی۔ برطانوی وزیر خزانہ رشی سناک نے اس معاہدے کو گلوبل ڈیجیٹل عہد کا ایک تاریخی معاہدہ قرار دیا۔

رشی سناک نے کہا کہ انہیں اس معاہدے کا اعلان کرتے ہوئے بے پناہ مسرت  ہو رہی ہے کیونکہ اس کے تحت جہاں ٹیکس ادائیگی سے گریز کے عمل کی حوصلہ شکنی ہو گی وہاں انتہائی بڑی ٹیکنیکل کمپنیوں کو ٹیکس ادا کر کے عالمی معیشت میں مناسب کردار ادا کرنے کا موقع ملے گا۔ اس کی شرح پندرہ فیصد رکھی گئی ہے۔برطانوی وزیر خزانہ کے مطابق اس دور میں صحیح کمپنیوں کی جانب سے درست انداز میں مناسب مقام پر ٹیکس کی ادائیگی ایک احسن قدم ہو گا۔

کارپوریٹ ٹیکس کا معاہدہ جی سیون کے وزرائے خزانہ کی سالانہ میٹنگ میں طے پایا۔ یہ کانفرنس سات امیر ترین ممالک کے سربراہوں کے اجلاس سے قبل طلب کی گئی تھی تا کہ سمٹ کے ایجنڈے کے اہم نکات کا فیصلہ کیا جا سکے۔G-7 ممالک کے وزرائے خزانہ کے لندن میں ہونے والے اجلاس میں شرکا کم سے کم کارپوریٹ ٹیکس 15 فیصد کرنے کے اصول پر متفق ہو گئے ہیں۔ایمیزون اور گوگل جیسی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں اس ٹیکس سے متاثر ہونے والوں میں شامل ہو سکتی ہیں۔اس معاہدے کے نتیجے میں جو ٹیکس عائد ہو گا اس کے نتیجے میں ان ممالک کی حکومتوں کو اربوں ڈالرز کی آمدنی ہو سکتی ہے

جس سے وہ کووڈ-19 کی وبا کی وجہ سے اقتصادی بحران کے دوران لیے گئے حکومتی قرضوں کو واپس ادا کر سکتی ہیں۔امریکہ، برطانیہ، فرانس، جرمنی، کینیڈا، اٹلی اور جاپان کے کے درمیان یہ طے پانے والا معاہدہ 20 دیگر امیر ممالک کے اگلے مہینے ہونے والے اجلاس پر بھی ایک دباو پیدا کر دے گا کہ وہ بھی کثیرالاقوامی یا ملٹی نیشنل کمپنیوں ہر اسی قسم کا ٹیکس لگائیں۔رشی سونک نے کہا کہ اس کارپوریٹ ٹیکس کے نظام کو اس طرح ترتیب دیا گیا ہے کہ عالمی کمپنیوں کو دنیا بھر میں ایک ہی انداز کا ٹیکس دینا پڑے۔انھوں نے کہا کہ ‘کئی برسوں سے جاری بحث و مباحثے کے بعد G-7 کے وزرائے خزانہ عالمی سطح کے ٹیکس کے نظام کی اصلاح کرنے کے تاریخی معاہدے پر متفق ہوئے ہیں تا کہ اسے آج کے ڈیجیٹل دور کے مطابق از سرِ نو وضع کیا جا سکے۔

‘عالمی سطح پر کام کرنے والی ملٹی نیشنل کمپنیوں پر کارپوریٹ ٹیکس عائد کرنے کے معاملے پر حکومتیں کافی عرصے سے غور کرتی رہی ہیں کہ یہ ٹیکس کس طرح لگایا جائے اور کس طرح جمع کیا جائے۔تاہم ایمیزون اور فیس بک جیسی بڑی کمپنیوں کے فروغ پانے کے بعد یہ معاملہ اب بہت زیادہ اہمیت اختیار کر چکا ہے۔اب تک ایسا ہو رہا ہے کہ یہ ملٹی نیشنل کمپنیاں اپنے مرکزی دفتر ایسے ممالک میں قائم کر لیتی ہیں جہاں کارپوریٹ ٹیکس کی شرح قدرے کم ہوتی ہے اور یہ اپنے منافعوں کا اعلان انہیں ممالک میں کرتے ہیں۔کیونکہ ان ممالک میں ٹیکس کی شرح کم ہوتی ہے اس لیے یہ کمپنیاں کم ٹیکس ادا کرتی ہیں جبکہ ان کمپنیوں کا منافع کسی اور ملک میں بزنس کرنے سے حاصل ہوتا ہے۔ اس طرح کم ٹیکس ادا کرنا قانونی طور پر تو جائز ہے اور ایسی کمپنیاں عام طور پر ایسا ہی کر رہی ہیں۔

برطانوی وزیرِ خزانہ رشی سونک نے کہا کہ اس کارپوریٹ ٹیکس کے نظام کو اس طرح ترتیب دیا گیا ہے کہ عالمی کمپنیوں کو دنیا بھر میں ایک ہی انداز کا ٹیکس دینا پڑے،G-7 ممالک کے وزرائے خزانہ کے درمیان طے پانے والے معاہدے کا مقصد اسی کام کو دو طریقوں سے روکنا ہے۔اول یہ کہ G-7 ممالک عالمی سطح پر ایک کم سے کم ٹیکس کی شرح قائم کرنا چاہتے ہیں تا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کمپنیوں کو اپنے اپنے ملک میں لانے کے لیے کم سے کم ٹیکس کرنے کی دوڑ شروع ہو جائے۔دوسرا یہ کہ اس معاہدے کے مطابق طے پانے والے اصول و ضوابط میں یہ طے ہو گا کہ یہ کمپنیاں بجائے اس کے ان ممالک میں ٹیکس ادا کریں جہاں یہ رجسٹرڈ ہیں، یہ ان ممالک میں ٹیکس ادا کریں گی

جہاں یہ اپنی خدمات سرانجام دے رہی ہیں یا یہ اپنی مصنوعات فروخت کر رہی ہیں۔اس معاہدے میں یہ بھی طے پایا ہے کہ جس ملک میں یہ کمپنیااں کاروبار کر رہی ہیں وہاں ان کے دس فیصد منافع پر ٹیکس عائد کیا جائے گا۔ اسے فرسٹ پلر کا اصول کہا گیا ہے۔G-7 کے اعلامیے کے مطابق اس کمپنی کے پہلے دس فیصد سے زیادہ بیس فیصد منافع کو جس ملک میں یہ کاروبار کر رہی ہے وہاں سے اس ملک میں شمار کیا جائے گا جہاں پر یہ رجسٹرڈ ہے۔اس معاہدے کی وجہ سے اگر کوئی کمپنی برطانیہ میں کاروبار کر ہی ہے تو یہ یہاں زیادہ ٹیکس ادا کرے گی جس سے سرکاری قرضوں کی واپس ادائیگی میں مدد ملے گی۔

معاہدے کے سیکنڈ پلر کے مطابق، تمام ممالک 15 فیصد سے کم شرح کا ٹیکس عائد نہیں کریں گے۔اب اس معاہدے پر G-20 ممالک کے وزرائے خزانہ اور ان کے مرکزی بینکوں کے سربراہوں کے اجلاس میں زیرِ بحث لایا جائے گا جو جولائی میں ہو رہا ہے۔ری پبلک آف آئرلینڈ کے وزیرِ خزانہ، پاسچل ڈونوہو نے، جن کا ملک اس وقت ان کمپنیوں پر ساڑھے بارہ فیصد کارپوریٹ ٹیکس عائد کرتا ہے، کہا ہے کہ یہ سب کے مفاد میں ہے کہ ٹیکس کی پائیدار، زبردست اور برابر شرح پر اتفاق کیا جائے لیکن اس میں چھوٹے اور بڑے ممالک اور ترقی پذیر اور ترقی یافتہ ممالک کے مفادات کا بھی برابر کی سطح پر خیال رکھا جائے، جی سیون کی سمٹ گیارہ سے تیرہ جون تک برطانوی میزبانی میں منعقد ہو گی۔

جرمن وزیر خزانہ اولاف شلز نے جی سیون  ممالک کی جانب سے عالمی کارپوریٹ ٹیکس کے معاہدے کا خیرمقدم کیا ہے۔ شلز کے مطابق پندرہ فیصد کے اس کارپوریٹ ٹیکس سے انصاف اور مالیاتی یک جہتی کو فروغ حاصل ہو گا۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ بڑے کاروباری اداروں کو مالی ذمہ داریوں کا احساس کرنا ضروری ہے اور انہیں اپنے منافع کا کچھ حصہ ان ملکوں کو دینا چاہیے جہاں ٹیکس کا نظام مبہم ہے۔فرانسیسی وزیر خزانہ برونو لی مائر نے کارپوریٹ ٹیکس کے معاہدے کو ایک نیا آغاز قرار دیا ہے۔ انہوں نے عندیہ دیا کہ اگلے مہینوں میں اس ٹیکس میں زیادہ اضافہ ممکن ہے۔ دوسری جانب آئرلینڈ کے وزیر خزانہ پاشال ڈونوہے کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکس چھوٹے اور بڑے ممالک کی ضروریات کو پورا کرنے کے ساتھ ساتھ پائیدار خواہشات کے حصول کے لیے بھی ضروری قرار دینا چاہیے۔امریکا کی وزیر خزانہ جینیٹ ییلن نے اپنے بیان میں کارپوریٹ ٹیکس کے معاہدے کو شاندار پیش رفت قرار دیا ہے۔

انہوں نے اسے کارپوریٹ ٹیکسیشن میں ایک بڑا قدم بھی کہا۔ ان کا کہنا تھا کہ کم سے کم گلوبل ٹیکس سے عالمی اقتصادیات کو بہتر خطوط پر استوار کرنے میں مدد ملے گی اور یہ کاروبار کے ساتھ ساتھ ممالک کو بھی ترغیب دے گا کہ وہ مثبت بنیادوں پر تعلیم، ریسرچ اور بنیادی ڈھانچے میں بہتری لانے کے عمل کو آگے بڑھائیں۔امریکی وزیر خزانہ جینیٹ ییلن کے مطابق کارپوریٹ ٹیکس کے معاہدے پر مزید بات چیت مستقبل میں منعقد ہونے والی کانفرنسوں میں جاری رکھی جائے گی۔ ان میں رواں ماہ جی سیون لیڈروں کی سمٹ بھی شامل ہے۔ ییلن نے مزید بتایا کہ  بات چیت کا یہ سلسلہ جی ٹوئنٹی کے وزرائے خزانہ کی جولائی میں ہونے والے اجلاس اور پھر اکتوبر میں جی ٹوئنٹی کی سمٹ میں بھی جاری رہے گا۔ امریکا میں قائم بڑے ڈیجیٹل ادارے گوگل نے اس معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ جلد ہی اس حوالے سے ایک متوازن اور پائیدار معاہدے کو حتمی شکل دے دی جائے گی