فیس بک نے ڈونلڈ ٹرمپ کا اکاؤنٹ2سال کے لیے معطل کردیا،اطلاق7جنوری 2021 سے ہوگا


واشنگٹن :فیس بک نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اکاونٹ کو 2 سال کے لیے معطل کردیا۔کمپنی کی جانب سے یہ اعلان فیس بک اوور سائٹ بورڈ کے اس فیصلے کے بعد کیا کہ جس میں کہا گیا تھا کہ سابق صدر کے اکاونٹ پر غیرمعینہ مدت تک پابندی کے معاملے پر نظرثانی 6 ماہ کے اندر کی جائے۔

فیس بک کے عالمی امور کے نائب صدر نک کلیگ کی جانب سے جاری بیان کہا گیا ‘ڈونلڈ ٹرمپ کے اکاونٹ کی معطلی کا باعث بننے والے حالات کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے ہمارا ماننا ہے کہ ان کے اقدامات ہمارے قوانین کی سنگین خلاف ورزی پر مبنی تھے، جس پر نئے پروٹولز کے زیرتحت سخت ترین سزا دی جانی چاہیے، ہم نے ان کا اکاونٹ 2 سال تک معطل رکھنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس کا اطلاق 7 جنوری 2021 سے ہوا ہے’۔کمپنی نے بتایا کہ معطلی کی مدت ختم ہونے پر ماہرین کے ساتھ مل کر جائزہ لیا جائے گا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کا اکاونٹ بحال کیا جائے یا نہیں۔

نک گلیگ کے مطابق ‘ہم تمام عناصر بشمول تشدد کے واقعات، پرامن احتجاج پر پابندیوں اور دیگر معاملات کی جانچ پڑتال کریں گے، اگر ہمیں لگا کہ اب بھی عوامی تحفظ کے لیے سنگین خطرہ موجود ہے، توہم اس پابندی کو مزید بڑھا دیں گے اور حالات کا جائزہ لیتے رہیں گے’۔انہوں نے مزید بتایا کہ جب اکاونٹ بحال ہوجائے گا تو ایسا میکنزم بنادیا جائے گا جو ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے فیس بک پالیسیوں کی خلاف ورزی پر حرکت میں آجائے گا۔

فیس بک کی نئی پالیسی کے تحت اکاونٹس کو ایک ماہ، 6 ماہ، ایک سال اور 2 سال کے لیے معطل کیا جاسکتا ہے۔اس سے قبل فیس بک کے خودمختار بورڈ نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر عائد کی جانے والی پابندی کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔خودمختار اوورسائٹ بورڈ نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم میں ایسا ماحول پیدا کردیا تھا جس سے ممکنہ تشدد کا سنگین خطرہ پیدا ہوگیا۔تاہم بورڈ کا کہنا تھا کہ فیس بک کی جانب سے لامحدود مدت کے لیے اکاونٹس کو معطل کرنا درست نہیں اور کمپنی کو 6 ماہ کے اندر معاملے کی نظرثانی کرتے ہوئے مناسب فیصلہ کرنا چاہیے۔فیصلے میں مزید کہا ‘فیس بک کے لیے یہ درست نہیں کہ وہ کسی صارف کو پلیٹ فارم سے غیرمعینہ مدت تک دور رکھے، جس دوران مدت یا اکانٹ کی بحالی کا کوئی معیار موجود نہ ہو’۔

خیال رہے کہ فیس بک کے بانی مارک زکربرگ نے 7 جنوری کو ایک پوسٹ کے دوران اپنے پلیٹ فارم میں ڈونلڈ ٹرمپ کے اکاونٹس کو غیرمعینہ مدت کے لیے بلاک کرنے کا اعلان کیا تھا۔ایسا پہلی بار ہوا تھا کہ فیس بک کی جانب سے کسی امریکی صدر کے اکاونٹ کے خلاف اس قسم کی کارروائی کی گئی۔سابق امریکی صدر کے فیس بک اور انسٹاگرام اکانٹس کو 8 جنوری کو اس وقت مستقل بین کیا گیا تھا جب واشنگٹن میں کیپیٹل ہل میں ان کے حامیوں نے ہنگامہ آرائی کی، جس کے نتیجے میں ایک پولیس اہلکار سمیت 5 افراد ہلاک ہوگئے۔فیس بک نے امریکی صدر کے فیس بک اور انسٹاگرام اکاونٹس کو پہلے 24 گھنٹے کے لیے بلاک کیا تھا، مگر پھر اس پابندی کو غیرمعینہ مدت تک بڑھا دیا گیا