کشمیر کا سودا کرنے،آٹا،چینی چوری کرنے والے اصل غدار ہیں،مریم نواز شریف


شیخوپورہ: پاکستان مسلم لیگ(ن) کی نائب صدر مریم نواز شریف نے کہا ہے کہ اگر سچ کو سچ کہنا غداری ہے تو یہ جرم بار بار کریں گے، اب عوام نے  ڈرنا چھوڑ دیا ہے، کشمیر کا سودا کرنے اور آٹا،چینی چوری کرنے والے اصل غدار ہیں یہودی کی مہم چلانے والے کس منہ سے فلسطینیوں کی بات کررہے ہیں، عوام مایوس نہ ہوں ن لیگ اور نواز شریف کا سورج جلد طلوع ہوگا،

شیخوپورہ میں جاوید لطیف کے اہل خانہ سے ملاقات اور اظہار یکجہتی کے بعد کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ میں شیخوپورہ کے شیروں کیلئے نوازشریف اور شہباز شریف کا پیغام لے کر آئی ہوں جس نے آئین و قانون اور حق کی بات کی وہ غدار کہلایا غداری کا لقب جاوید لطیف کو نہیں بلکہ شیخوپورہ کے عوام کو دیا گیا ہے اگر سچ کہنا غداری ہے تو بار بار غداری کریں گے ۔ غداری کے الزامات کئی سالوں سے سنتے آرہے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ شیخوپورہ والو آپ کا سرفخر سے بلند ہونا چاہیے کہ نواز شریف کے شیر پاکستان کے بیٹے جاوید لطیف نے خطرہ مول لے کر حق  اور سچ کی بات پر ڈٹے رہ کر نہ صرف نواز شریف  شیخوپورہ بلکہ پاکستان کی مٹی ہونے کا حق  ادا کردیا ہے۔ غداری کا لقب محترمہ فاطمہ جناح کو بھی دیا گیا تھا اور یہ لقب مریم نواز اور نواز شریف کے حصے میں بھی آیا تھا ۔اگر حق کو حق اور سچ کو سچ کہنا آئین کی سربلند ی کی بات کرنا قانون کی پاسداری کرنا غداری ہے تو ہم یہ غداری بار بار کریں گے۔

انہوں نے کہاکہ غداری کی فیکٹری کھولنے والے جان لیں 22کروڑ عوام جان چکی ہے کہ جب تم ہار جاتے ہو اور ڈرتے ہو تو غداری کے سرٹیفکیٹ جاری کردیتے ہو۔ وقت بدل رہا ہے اب لوگوں نے ڈرنا چھوڑ دیا ہے حق اور سچ کی بات کرنا بہت بڑی بہادری ہے اور اس سے بڑی بہادری نہیں ہوسکتی جن کو انہوں نے غدار کہا پاکستان کے عوام نے ان کو اپنا ہیرو بنالیا ۔

انہوں نے نواز شریف پر کونسا غداری کا الزام نہیں لگایا مگر اس کے باوجود نواز شریف کے حق میں فیصلے آرہے ہیں۔ آج نواز شریف کا بیانیہ نہ صرف پاکستان کے کونے کونے میں پھیل چکا ہے   ڈسکہ میں لوگوں نے نواز شریف کے بیانیے پر نہ صرف لبیک کہا بلکہ ووٹ کی حرمت پر پہرا دیا اور اپنی چھینی ہوئی سیٹ واپس لی آج عوام کو علم ہوگیا ہے کہ اس دھرتی کے اصل غدار کون ہیں۔

انہوں نے کہاکہ نواز شریف نے اپنے خاندان پر قربانیاں جھیل کر 22کروڑ عوام کو بیدار کردیا۔ آج عوام کو پتا چل گیا ہے ان کا حق کیا ہے۔ آئین و قانون کیا ہے اور غدار کون ہیں۔ نواز شریف نے اپنی قوم کو سر اٹھا کر چلنا سکھا دیا ہے۔ نواز شریف لندن میں ہے اور ملک کے کونے کونے سے اس کے حق میں فیصلے آرہے ہیں۔جسے چور ڈاکو اور غدار کہا گیا آج اس کا بیانیہ ملک کے کونے کونے میں پھیل چکا ہے۔

انہوں نے کہاکہ حق کی بات کرنے والا غدار نہیں بلکہ غدار اس کو کہتے ہیں جس  نے امریکہ میں بیٹھ کر کشمیر کا سودا کرکے کشمیر کو بھارت کی جھولی میں  ڈال دیا اور منہ لٹکا کر پاکستان واپس آگیا۔ غدار اس کو کہتے ہیں جو پاکستان کی دنیا بھر میں نمائندگی کرنے والے پاکستانی سفارت کاروں کے بارے میں کہتا ہے کہ وہ صحیح کام نہیں کررہے۔غدار اس کو کہتے ہیں  جو پاکستانی عوام سے دھوکہ کرے اور عوام کی زندگی سے کھیلے۔

انہوں نے کہاکہ نواز شریف عوام کے ووٹوں سے وزیراعظم بن کر آیا کسی کے کندھوں پر چڑھ کر نہیں آیا تھا۔ منتخب وزیراعظم کو نکالنے کیلئے اداروں کا استعمال کرنے کو غداری کہتے ہیں ۔ 2018 کے الیکشن  میں آر ٹی ایس بٹھا کر سلیکٹڈ کو مسلط کرنے کو غداری کہتے ہیں۔ ڈرا دھمکا کر میڈیا کی آزادی دبانے کو غداری کہتے ہیں عدلیہ کو متنازعہ بنانے کو غداری کہتے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ میں جانتی ہوں اس نالائق اور نااہل کی وجہ سے آج عوام پر مہنگائی لاقانونیت انتہا ہوچکی لیکن اس بات کی تسلی رکھو کہ اندھیری رات  ضرور ختم ہوگی ۔ مسلم لیگ ن اور نواز شریف کا سورج ایک بار پھر طلوع ہوگا۔ قوم جان چکی ہے کہ اگر کوئی اللہ کی مدد سے اس ملک کو مشکلات سے نکال سکتا ہے تو وہ نواز شریف ہے۔

انہوں نے کہاکہ یاد رکھو اگر تم نے جاوید لطیف جیسے محب وطن کو غدار کہا تو یاد رکھنا تمہارا یوم حساب قریب ہے۔ عوام کے فیصلے عوام پر چھوڑ دو۔ میں نہ صرف جاوید لطیف  جیسے شیر کے ساتھ کھڑی ہوں بلکہ اس شخص کے ساتھ کھڑی ہوں جو نواز شریف کے بیانیے کے ساتھ کھڑا ہے۔

انہوں نے کہاکہ اگر آئندہ تم نے جاوید لطیف کو غدار کہا تو شیخوپورہ کا ہر فرد بلکہ ہم سب غدار ہیں۔ اگر تمہیں غداری کا اتنا ہی شوق ہے تو جن کو آئین و قانون نے غدار کہا ہے ان کو راتوں رات ملک سے کیوں فرار کرادیا نہ کسی ادارے نہ کسی عدالت  میں اتنی ہمت ہے کہ پرویز مشرف جیسے غدار کو پاکستان واپس لائے۔اب تمہارے غداری کے فتوے پر کوئی یقین کرنے کو تیار نہیں۔ انشاء اللہ جاوید لطیف بہت جلد ہمارے درمیان ہوگا اور وہ وقت بھی قریب ہے جب اس دھرتی کا بیٹا نواز شریف اپنے عوام کے درمیان ہوگا۔