بھارت دنیا میں کورونا کے پھیلاؤ کا مرکز بن گیا،مزید 4ہزار 77 اموات


نئی دہلی: بھارت دنیا میں کورونا کے پھیلاوکا مرکز بن گیا،بھارت میں اتوار کو ایک دن کے اندر تین لاکھ گیارہ ہزار ایک سو ستر افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے اور وائرس سے چار ہزار ستتر اموات ہوئی ہیں۔

کورونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کی مجموعی تعداد دو کروڑ چھیالیس لاکھ سے تجاوز کرگئی ہے اور وبا سے اب تک ہلا ک ہونے والوں کی تعداد دو لاکھ ستر ہزار دو سو چوراسی ہوگئی ہے۔ بھارت میں کورونا کے فعال کیسز کی تعداد چھبیس لاکھ اٹھارہ ہزار تک پہنچ گئی ہے۔

بھارت دنیا میں کورونا وائرس کے پھیلا وکا نیا مرکز  بن گیا ہے جہاں وبا سے اب تک ڈھائی کروڑ کے قریب افراد متاثر ہو چکے ہیں۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق بھارت میں کورونا سے متاثرہ مریضوں کی مجموعی تعداد 2 کروڑ  43 لاکھ سے زائد جبکہ کورونا سے اموات 2 لاکھ 66 ہزار  ہو چکی ہیں۔

دوسری جانب  دریا ئے گنگا میں تیرتی لاشوں کی تلاش میں پولیس نے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے جبکہ کئی شہروں میں لوگ اپنے عزیزوں کے لیے آکسیجن اور  وینٹی لیٹر زکا انتظام کرنے کے لیے بھاگ دوڑ کر رہے ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق چنئی میں دواں کی فراہمی کے لیے لوگوں نے احتجاج کیا جبکہ دہلی میں مودی مخالف پوسٹرز لگانے پر 15 افراد کو گرفتارکر لیا گیا

بھارت میں کورونا وبا کے دوران سیاسی قیدی سب سے زیادہ پریشانی کا شکار

نئی دہلی: بھارت میں کورونا وبا کے دوران سیاسی قیدی سب سے زیادہ پریشانی کا شکار ہوگئے،  فروری 2020 میں دہلی میں ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات کے سلسلے میں تہاڑ جیل میں نظر بند جواہر لعل نہرو یونیورسٹی(جے این یو)کے سابق طالب علم 32 سالہ عمر خالد کورونا وائرس سے متاثر ہوئے ہیں۔

عمر خالد کے والد اور ویلفیئر پارٹی آف انڈیا کے صدر ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس کو جب علم ہوا تو انہوں نے اس معاملے کو عدالت میں اٹھایا جس کے بعد عمر خالد کا کورونا ٹیسٹ ہوا اور ان کا علاج شروع کیا گیا۔ ۔ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس نے امریکی نشریاتی ادارے کو بتایاکہ عمر خالد نے انہیں بتایا تھا کہ ان میں کورونا کی علامات ظاہر ہو رہی ہیں۔

انہوں نے جیل انتظامیہ سے ٹیسٹ کرانے کو کہا لیکن حکام نے کوئی توجہ نہیں دی۔قاسم رسول الیاس کاکہناہے کہ شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) کے خلاف احتجاج میں شامل ہونے والے ایک اور سماجی کارکن خالد سیفی اور دیگر قیدی بھی کوروناسے متاثر ہوئے ہیں البتہ ان لوگوں کی حمایت میں آواز اٹھانے والا کوئی نہیں ہے اس لیے ان پر کوئی توجہ نہیں دی جا رہی۔

رپورٹس کے مطابق دہلی فسادات میں 53 افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں 40 مسلمان تھے۔ اس کے علاوہ کم از کم 400 افراد زخمی ہوئے تھے۔ اس معاملے میں درجنوں مسلمانوں اور انسانی حقوق کارکنوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔مبصرین کا کہنا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی   کے ان رہنماو ں کے خلاف پولیس نے کوئی کارروائی نہیں کی جنہوں نے پولیس کی موجودگی میں اشتعال انگیز تقریریں کی تھیں اور بیانات دیے تھے۔ڈاکٹر قاسم رسول الیاس کہتے ہیں کہ جیلوں میں بند سیاسی قیدیوں کی زندگی کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ لیکن نہ تو جیل انتظامیہ کوئی توجہ دیتی ہے اور نہ ہی عدالتیں اس حوالے سے احکامات جاری کر رہی ہیں۔

ان کے مطابق سپریم کورٹ نے ایک فیصلے میں کہا تھا کہ ہماری جیلوں میں ضرورت سے زیادہ قیدی ہیں۔ ایسے تمام قیدیوں کو، جن کو پانچ چھ سال تک کی سزا ہو سکتی ہے، ضمانت پر رہا کیا جائے۔ لیکن اس کے باوجود لوگوں کو ضمانت نہیں دی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اب متعدد قیدیوں کو رہا کیا گیا ہے۔ البتہ دہلی فسادات اور سی اے اے مخالف احتجاج میں شامل سماجی کارکنوں یا دوسرے رضاکاروں کو ضمانت نہیں دی جا رہی ہے۔ رپورٹس کے مطابق اس وقت انسانی حقوق کے سیکڑوں کارکن، طلبہ، صحافی اور ماہرینِ تعلیم جیلوں میں بند ہیں۔

مبصرین کہتے ہیں کہ حکومت نے ان افراد کو سیاسی وجوہات پر جیل میں قید کیا ہوا ہے۔ البتہ ان کے ساتھ مجرموں جیسا سلوک کیا جاتا ہے۔انسانی حقوق کے سرگرم کارکن ہرش مندر نے قطر کے نشریاتی چینل الجزیرہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت زیرِ سماعت مقدمات میں ملوث افراد اور سیاسی قیدیوں کے ساتھ دہشت گردوں جیسا سلوک کرتی ہے۔

ان کے بقول ان تمام لوگوں کے تحفظ کے پیشِ نظر رہا کیا جانا چاہیے۔ لیکن اس کے بجائے مزید گرفتاریاں کی جا رہی ہیں۔جے این یو کی ایک سابق طالبہ 32 سالہ نتاشا نروال کا معاملہ اور بھی سنگین ہے۔ انہیں بھی دہلی فسادات کے سلسلے میں گرفتار کیا گیا تھا۔پہلی گرفتاری پر انہیں اگلے روز ہی عدالت نے ضمانت دے دی تھی۔

لیکن پولیس نے اس کے ایک روز بعد ان پر کئی سنگین دفعات لگا کر پھر گرفتار کر لیا تھا۔نتاشا نروال کے والد مہاویر سنگھ نروال نے گزشتہ سال نومبر میں کہا تھا کہ اگر میری بیٹی کو زیادہ دنوں تک جیل میں رکھا گیا تو وہ مجھے نہیں دیکھ پائے گی۔ ان کی بات درست ثابت ہوئی۔ 9 مئی کو ان کا دہلی میں انتقال ہوا۔

ان کے انتقال کے ایک روز بعد دہلی کی ایک عدالت نے ان کی آخری رسومات ادا کرنے کے لیے نتاشا کو تین ہفتوں کی ضمانت دی ہے۔نتاشا کو بھی یو اے پی اے کے تحت گرفتار کیا گیا تھا۔ اس دفعہ کے تحت فرد جرم داخل کیے بغیر 180 دنوں تک جیل میں رکھا جا سکتا ہے۔انسانی حقوق کے ایک سرگرم کارکن اویس سلطان خان نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ جیلوں میں بند سیاسی قیدیوں کو کورونا وبا کے دوران زبردست خطرات لاحق ہیں۔

ایک رپورٹ کے مطابق جیل میں بند دہلی یونیورسٹی کے ایک 55 سالہ پروفیسر ہینی بابو نے اپنی ایک آنکھ میں شدید انفیکشن کی شکایت کی جس کی وجہ سے ان کی بینائی جا چکی ہے۔ان کی اہلیہ جینی رووینا نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ نیشنل انوسٹی گیشن ایجنسی(این آئی اے) نے انہیں گزشتہ سال جولائی میں گرفتار کیا تھا۔

پروفیسر ہینی بابو ذات پات کے نظام کے سخت خلاف ہیں۔یکم جنوری 2018 کو بھارت کی مغربی ریاست مہاراشٹرا کے بھیما کورے گاو ں میں دلتوں کے ایک پروگرام میں تشدد برپا ہوا تھا جس میں ایک 28 سالہ شخص ہلاک اور پانچ زخمی ہوئے تھے۔پولیس نے اس تشدد کے سلسلے میں متعدد سماجی کارکنوں اور جامعات کے اساتذہ کو گرفتار کیا ہے جن میں گوتم نولکھا، فادر اسٹن سوامی، سدھا بھاردواج، آنند تیل تمبڈے اور ورورا راو  قابل ذکر ہیں۔

رپورٹس کے مطابق ان میں سے بیشتر معمر افراد ہیں البتہ ان لوگوں کے خلاف سنگین دفعات لگائی گئی ہیں اس لیے انہیں ضمانت نہیں دی جا رہی۔ان میں پارکنسن کے ایک مریض 84 سالہ فادر اسٹن سوامی بھی ہیں جو ہاتھوں میں رعشے کی وجہ سے کچھ کھا پی نہیں پاتے۔انہوں نے عدالت سے پینے کے لیے اسٹرا کا مطالبہ کیا لیکن عدالت نے انہیں اسٹرا دینے سے انکار کر دیا۔

مقامی میڈیا کے مطابق بھیما کورے گاو ں کیس میں گرفتار 70 سالہ انسانی حقوق کے کارکن گوتم نولکھا کو پڑھنے کے لیے چشمہ فراہم کرنے کے سلسلے میں عدالت نے کوئی فیصلہ دینے سے انکار کر دیا۔نولکھا کی اہلیہ صہبا حسین کے مطابق 27 نومبر 2020 کو جیل میں نولکھا کا چشمہ چوری ہو گیا تھا جس پر انہوں نے ایک جوڑی چشمہ پارسل کیا لیکن پانچ دسمبر کو جیل انتظامیہ نے پارسل قبول کرنے سے انکار کر دیا۔

ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس کہتے ہیں کہ سی اے اے مخالف احتجاج اور دہلی فسادات کے سلسلے میں پولیس نے جتنے بھی لوگوں کو گرفتار کیا ہے ان تمام کے خلاف دائر چارج شیٹ میں بالکل یکسانیت ہے اور ان تمام پر ایک جیسے الزامات لگائے گئے ہیں جن کو عدالت افسانہ اور کہانی قرار دے چکی ہے۔ اس کے باوجود ان لوگوں کو رہا نہ کیا جانا ان کے انسانی حقوق کی خلاف ورزی تو ہے ہی جیل انتظامیہ اورعدالتوں کے رویے کا بھی پتہ چلتا ہے۔