غزہ پر مسلسل ساتویں روز اسرائیلی بمباری،شہداء کی تعداد 174 ہو گئی


غزہ:غزہ کی پٹی میں جاری اسرائیلی بمباری کا سلسلہ اتوار کو ساتویں روز میں داخل ہوگیا اور اتوار کو کیے گئے فضائی حملوں میں مزید 15 فلسطینی جاں بحق اور درجنوں زخمی ہوگئے جبکہ مزید 2 رہائشی عمارتیں زمین بوس ہوگئیں۔

عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق اتوار کے روز فضائی حملوں میں اسرائیلی فوج نے خان یونس کے مغربی غزہ سٹی کے علاقے خان یونس میں غزہ میں حماس کے سیاسی و عسکری ونگ کے سربراہ یحی السنور کے گھر کو نشانہ بنایا، مذکورہ رہنما کو سال 2011 میں اسرئیل کی جیل سے رہائی ملی تھی۔

علاوہ ازیں اسرائیلی میزائلوں نے پناہ گزینوں کے ایک کیمپ کو بھی نشانہ بنایا جس میں 8 بچوں سمیت 10 فلسطینی جاں بحق ہوئے۔حماس کے زیر کنٹرول غزہ میں  حالیہ تنازعہ کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 174 ہو گئی ہے۔ ان ہلاکتوں میں 47 بچے اور 23 خواتین شامل ہیں۔

دو ملین آبادی والی غزہ پٹی میں جمعے کو ایک ہی خاندان کے دس اور ایک ہی خاندان کے چھ افراد اسرائیلی بمباری میں شہید ہوئے۔قبل ازیں ایک حملے میں ایک 12 منزلہ الجلا نامی رہائشی عمارت کو مسمار کردیا گیا تھا جہاں الجزیرہ، امریکی خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پرین (اے پی)سمیت میڈیا کے دیگر اداروں کے دفاتر موجود تھے، عمارت کے مالک کو پیشگی حملے کے اطلاع دینے کے بعد تباہ کیا گیا تھا۔

غزہ میں پیر کے روز سے جاری اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں اب تک 42 بچوں سمیت 153 فلسطینی جاں بحق ہوچکے ہیں جبکہ ایک ہزار سے زائد زخمی ہیں۔دوسری جانب حماس کے راکٹ حملوں کے نتیجے میں اسرائیل میں  10 افراد کی ہلاکت ہوئی۔الجلا عمارت کی تباہی کے ردِ عمل میں حماس نے رات بھر میں اسرائیل میں 120 راکٹ داغے جس میں اکثر کو اسرائیلی دفاعی نظام نے راستے میں ہی تباہ کردیا جبکہ درجنوں غزہ میں ہی جا گرے۔

دوسری جانب مغربی کنارے میں بھی ہلاکت خیز جھڑپیں جاری جس میں اب تک اسرائیلی فوجیوں کے حملوں میں 12 فلسطینی جاں بحق ہوچکے ہیں۔دوسری جانب اسرائیلی وزیر اعظم بینجمنت نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ جب تک ضرورت ہے غزہ کی پٹی میں حملے جاری رہیں گے۔انہوں نے دعوی کیا کہ جس عمارت میں متعدد میڈیا ہاوسز تھے اسے حماس سمیت مختلف فلسطینی گروہ استعمال کررہے تھے۔

اسرائیلی وزیراعظم نے دعوی کیا کہ اسرائیل غزہ پر کیے جانے والے حملوں میں بچوں اور شہریوں کی ہلاکت سے بچا کے لیے ‘خصوصی کیئر’ کررہا ہے۔

خیال رہے کہ رمضان المبارک کے آغاز سے ہی مقبوضہ بیت المقدس (یروشلم)میں اسرائیلیوں کی جانب سے فلسطینیوں پر حملوں اور دیگر پرتشدد کارروائیوں کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا جبکہ اس دوران دنیا کے 3 بڑے مذاہب کے لیے انتہائی مقدس شہر میں کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جس پر پاکستان نے شدید مذمت بھی کی ہے۔