کشمیر پر سمجھوتے کی قیمت پر بھارت کے ساتھ امن نہیں ہوسکتا۔جنرل ریٹائرڈ آصف یاسین


اسلام آباد: پاکستان کے سرکردہ دفاعی ماہرین، سابق سفارت کاروں  کے خیال میں پاکستان بھارت  بات چیت کے لیے اسلام آباد میں امید پسندی نئی دہلی کی خاموشی کے برعکس ہے، پاکستانی حکومت کا جوش و خروش اور کشمیر سمیت تمام تصفیہ طلب معاملات پر بات چیت کے لیے مودی حکومت کی سنجیدگی عوام میں سوالات کو جنم دے رہی  ہے ۔

غیر سرکاری تھنک ٹینک  اسلام آباد پالیسی انسٹی ٹیوٹ (آئی پی آئی) کے زیر اہتمام ویب نار میں’پس پردہ مذاکرات اور بھارت ۔ پاکستان تعلقات’ کے موضوع پردفاعی ماہرین اور، سابق سفارت کاروں  نے اظہار خیال کیا ہے ۔

سابق سیکریٹری دفاع لیفٹننٹ جنرل ریٹائرڈ آصف یاسین  نے اس موقع پر   کہا کہ امن اور تعلقات معمول پر لانے کے حوالے سے پاکستان اور بھارت کے خیالات میں اختلاف ہے۔انہوں نے خبردار کیا کہ کشمیر پر سمجھوتے کی قیمت پر بھارت کے ساتھ امن نہیں ہوسکتا۔

انہوں نے مختلف حلقوں کی جانب سے بھارت کے ساتھ امن کے اقتصادی ثمرات کے حوالے سے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے سوال کیا کہ کیا بیک چینل عمل سے بھارت کی پاکستان کے خلاف ففتھ جنریشن جنگ، اس کا افغانستان میں منفی کردار اور ایف اے ٹی ایف جیسے عالمی اداروں میں اس کی طرف سے پاکستان کی مخالفت ختم ہوجائے گی۔

آصف یاسین ملک کا کہنا تھا کہ ‘امن کے منتخب جہتوں کو حاصل کرنے کے عمل کے بجائے، متناسب جامع امن کی ضرورت ہے’۔ اقوم متحدہ ، امریکہ اور برطانیہ  میں پاکستان کی سابق سفیرڈاکٹر ملیحہ لودھی نے کہا کہ وہ مودی حکومت کی طرف سے تمام معاملات پر بات چیت کے لیے تیاری ظاہر کرنے پر پاکستان میں منائی جانے والی خوشی سے اتفاق نہیں کرتیں۔

انہوں نے کہا کہ ‘یہ پتہ چلنا اب بھی باقی ہے کہ جب یہ کہتے ہیں کہ بھارت تمام معاملات پر بات چیت کے لیے تیار ہے تو اس کا حقیقت میں کیا مطلب ہے، بھارت ہمیشہ سے تمام مسائل پر مذاکرات کے لیے تیار ہے لیکن دیکھنا یہ ہے کہ وہ کشمیر پر کس طرح بات کرنا چاہتا ہے’۔

بھارت میں سابق سفیر اور جرمنی میں موجودہ سفیر عبدالباسط،  نے بھی ویب نار سے خطاب  کیا  ویب نار مین کہا گیا  کہ پس پردہ بات چیت کے نتیجے میں اب تک لائن آف کنٹرول پر سیز فائر کی بحالی، طویل وقفے کے بعد بھارت ۔ پاکستان کے مستقل انڈس کمیشن کی بات چیت، دونوں ممالک کے وزرائے اعظم کے درمیان پیغامات کا تبادلہ اور اسلام آباد سیکیورٹی ڈائیلاگ میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ بھارت کو امن کا اشارہ دینا شامل ہے۔