پاکستان کی پھولن دیوی۔۔۔تحریر ماجد حلیم


اسلامی جمہوریہ پاکستان کے ساتھ بدقسمتی ھے کہ اس کی ترقی کے راستے میں کسی نہ کسی روپ میں ھمیشہ سے اپنے ھی ادارے رھے۔جرنیل ، بیوروکریٹ، سرمایہ دار، جاگیر دار اور موروثی و لوٹا کریسی سیاست دان ھی اس خاندان کے پانچوں فرد ھیں جو ملک کو وسائل کو لوٹ رھا ھے اور غریب عوام کی غربت میں مسلسل اضافہ کر رھا ھے۔

بیوروکریسی کی فرعونیت اپنی جگہ پوری طرح پورے نظام میں دیکھی جا سکتی ھے۔ ھمیشہ سے بیوروکریسی کا کردار اس اعتبار سے گھناؤنا رھا ھے کہ طاقت کو سپورٹ کیا ھے اور غریب عوام کو دبایا ھے۔کل کے فردوس عاشق اعوان صاحبہ کے دورے کے ضمن میں بہت سی باتیں کہی جارھی ھیں۔ اور کچھ لوگ خیال کر رھے ھیں کہ یہ قدام صحیح تھا اور انتظامیہ سے کام لینے کا یہ طریقہ کار درست اور موثر ھے۔ حالانکہ ایک غیر مہذب طریقہ کبھی بھی موٹر نہیں ھو سکتا اس سے مثبت کی بجائے منفی پہلو ذیادہ نکلا کرتے ھیں۔

امر واقعہ ھے کہ جب بھی انتظامیہ کی طرف سے کوئی ریڑھی الٹی جاتی ھے ، غریب سے بدسلوکی کی جاتی ھے تو اس کارروائی کے غلط انداز پہ عوامی رویہ یہی ھوتا ھے جو فردوس عاشق کی اے سی صاحبہ سے بدزبانی پہ عوامی رد عمل آیا ھے۔ اور یقینا ان غریب ریڑھیوں والوں سے ایسا سلوک کرنا کسی صورت قابل قبول نہیں ھو سکتا۔ باوجود اس بات کے ریڑھیوں والے سختی کے باوجود سڑک میں آنے اور ٹریفک کے نظام کو معطل کرنے سے باز نہیں آتے۔

اور یہ بھی کہ ان ریڑھیوں کو الٹنے اور نقصان پہنچانے کے عمل میں 90 فیصد لوکل ملازمین ھوتے ھیں جو عوام پہ رعب دبدبہ قائم کرنے اور ان غریب ریڑھی والوں سے انا کا مسئلہ بنا لیتے ھیں۔ ان میں سے اکثر کارروائیوں کا اے سی صاحبان کو معلوم بھی نہیں ھوتا۔ پھر بھی ھم سمجھتے ھیں کہ یہ اے سی صاحبان کی زیادتی ھے۔ انہیں ایسے معاملات کو باحسن طریقے سے حل کرنا چاھئیے۔ جس سے یہ پیغام ضرور جائے کہ ھمارے آفیسر کسی دوسری مخلوق سے نہیں بلکہ ھم سے ھی ھیں اور مجموعی بھلائی کے لیے ھم پہ سختی کررھے ھیں یقینا یہ تاثر بہتر حکمت عملی کے بغیر قائم نہیں رہ سکتا ۔

اب آتے ھیں فردوس عاشق اعوان صاحبہ کی طرف، کون ھے یہ عورت؟ کہاں سے آئی ھے؟ اس کی حیثیت کیا ھے؟ ملک میں انہیں اسٹیبلشمنٹ کے مہرہ کی حیثیت سے جانا جاتا ھے۔ ان کو انتخاب ھارنے کے باوجود وفاقی حکومت میں ایڈجسٹ کروایا جاتا ھے۔ وھاں ان کو برداشت کرنا مشکل ٹھرتا ھے تو ملک کے سب سے بڑے صوبے کو ان کا بوجھ اٹھانا پڑتا ھے۔ ماضی میں بھی کئی جماعتیں تبدیل کر چکی ھیں۔ بدتمیز ،کرپٹ لوٹا کریسی کے معزز ممبر ہیں۔

اصل میں ان کو معلوم ھی نہیں کہ ایک عزت دار بیٹی اگر اے سی بن گئی ھے تو اس سے بات کیسے کرنی ھے۔ ھر جگہ کا ایک ڈیکورم ھوتا ھے۔ آپ آہستہ بات کر کے سمجھا سکتی ھیں۔ آفس اسی لیے ھوتے ھیں۔ یا پھر آپ ان کی خراب کارکردگی رپورٹ کر سکتی ھیں۔ لیکن ان کو عوام کے سامنے پھولن دیوی بننا تھا سو شوق پورا کر لیا۔

یہ بھی حقیقت ھے کہ فردوس صاحبہ کا اپنا ایک کلچر ھے، فردوس عاشق اعوان کھلی ڈھلی طبیعت کی مالک ھیں وہ اس سے بھی زیادہ مردوں کے ہجوم میں داخل ھو سکتی ھیں ان کو لتھی چڑھی کا فرق نہ پڑتا ھو جب کہ دوسری طرف سے جو عذر پیش کیا گیا رش کا توبھئی ایک عزت دار عورت تو مردوں کے رش میں گھسنے سے بھی ایک لحاظ اور فاصلہ قائم رکھے گی۔ لہذا اے سی صاحبہ نے وضاحت دے دی۔

فردوس صاحبہ کی طرف سے پھر عوام کے سامنے جس طرح کا انداز اختیار کیا گیا سراسر جہالت پہ مبنی تھا۔
اے سی صاحبہ نے وقار کے ساتھ وھی کیا جو انہیں وھاں کرنا چاھییے تھا۔ جہالت کا جواب ایسے ھی جیسے قرآن کہتا ھے کہ “رحمان کے بندھے جاھلوں سے الجھتے نہیں ھیں۔ اور کہتے ھیں تمہارے لیے تمہارا راستہ اور ھمارے لیے ھمارا راستہ ” عملی کرتے ھوئے جاھل عورت کو وھیں چھوڑ گئیں۔ ان کے اس انداز سے فردوس عاشق اعوان کی کیا عزت باقی رھی ھو گی جس کی پہلے ھی عزت نہیں ھے۔
آخر میں حکومت سے درخواست ھے کہ فردوس عاشق صاحبہ سے پوچھ کر قوم کو بتا دیا جائے کہ انہوں نے
“بغیرت” حکومت وقت سے کہا ھے
یا
صاحب حکومت سے؟
ماجد حلیم