باغبان انار کے پودوں کو ضرررساں کیڑوں کے حملہ سے محفوظ رکھیں ، ماہرین زراعت


احمدیار: ماہرین زراعت نے انار کے باغبانوں کو سفارش کی ہے کہ وہ پودوں کو ضرررساں کیڑوں کے حملہ سے محفوظ رکھیں.

موسم گرما میں انار کے پودوں پر مختلف ضرر رساں کیڑے انار کی تتلی سکیلز ،سفید مکھی ، پھل کی مکھی وغیرہ حملہ آور ہوتے ہیں .

ماہرین کا کہنا ہے کہ انار کے پودے پر حملہ کی صورت میں کاربوسفان 20 ای سی بحساب 2.5 ملی لیٹر فی لیٹر پانی میں حل کرکے سپرے کریں ۔

باغبانوں سے کہا گیا ہے کہ وہ پودوں کو ضرررساں کیڑوں اور بیماریوں کے حملہ سے محفوظ رکھیں تاکہ فی ایکڑ زیادہ سے زیادہ پیداوار حاصل کی جا سکے ۔ انہوںنے بتایاکہ انار کی تتلی اور پھل کی مکھی پھل میں سوراخ کر کے اند ر داخل ہو جاتی ہے جو اندر سے پھل کو کھا کر نقصان پہنچاتی ہے ۔

انہوں نے بتایا کہ تتلی و مکھی کے حملہ سے پھل گل سڑ جاتا ہے اور پیداوار متاثر ہوتی ہے ۔انہوں نے باغبانوں کو ہدایت کی کہ وہ بیماری کے حملہ کی صورت میں متاثرہ پھل کو اکٹھاکر کے زمین میں دبا دیں اور پھل کی مکھی کے تدارک کیلئے روشنی کے پھندے لگائیں اور ان کے کیمیائی تدارک کیلئے لیمڈا سائی ہیلو تھر ین یا ٹرائی کوفان بحساب 2.5 ملی لیٹر پانی میں حل کر کے سپرے کریں۔

انہوں نے مزید بتایاکہ یہ کیڑے اپنے جسم سے فاسد مادے بھی خارج کرتے ہیں جس سے پتوں پر سیا ہ اولی اگ آتی ہے جس سے ضیائی تالیف کا عمل متاثر ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کیلز کے حملہ کی صورت میں کاربو سلفان 20 ای سی بحساب 2.5 ملی لیٹر پانی اور سفید مکھی کے تدارک کیلئے امیڈا کلو پرڈ 200 ایس ایل بحساب 2.50 ملی لٹر ٹرائی ایزوفاس 40 ای سی 1.50 ملی لٹر پانی میں حل کرکے 8 سے 10 دن کے وقفہ سے سپرے کرکے بہتر نتائج حاصل کئے جا سکتے ہیں۔