حکومت تشدد کی بجائے اپنے وعدوں کی پاسداری کرے، دردانہ صدیقی


اسلام آباد: تحفظ ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں کے ایمان کی اساس اور روح ہے۔ عالم اسلام کے جذبات کی شدت اور عاشقان رسول ﷺ کی اس حوالے سے حساسیت فطری عمل ہے ۔ اس موقع پر ریاست کی جانب سے کئے گئے عہد کی پاسداری سے انکار اور غیر دانشمندانہ طرز عمل نے ملک کو انتشار سے دوچار کردیا ہے –

ان خیالات کا اظہار حلقہ خواتین جماعت اسلامی پاکستان کی سیکرٹری جنرل دردانہ صدیقی نے مسئلہ تحفظ ناموس رسالت ﷺ پر لاہور میں ہونے والے پولیس عوام تصادم اور قیمتی جانوں کے ضیاع کے افسوسناک واقعہ پر اپنے بیان میں کیا -انہوں نے کہا کہ اسلام فوبیا میں مبتلا فرانس کے صدر میکرون نے ہمارے محبوب نبی صلی اللہ علئیہ وسلم کی ذات کو نشانہ تضحیک بنانے کی سرکاری سرپرستی کی جس سے عالم اسلام کے جذبات شدید مجروح ہوئے جس کے نتیجے میں پوری دنیا کے مسلمانوں میں احتجاج اور غم و غصہ کی لہر دیکھنے میں آئ جس کی ایک کڑی پاکستان میں تحفظ ناموس رسالت پراحتجاج کا سلسلہ ہے ۔

انہوں نے کہاکہ 15 نومبر کو حکومت نے ایک سیاسی جماعت سے وعدہ کیا تھا کہ ہم قومی اسمبلی میں بحث کے بعد مسلہ تحفظ ناموس رسالت ﷺ پر لائحہ عمل بنائیں گے اور 20.اپریل تک فرانس کے سفیر کو ملک بدر کریں گے مگر افسوس کا مقام ہے کہ اس عہد کو وفا کرنے کی بجائے مقررہ وقت سے قبل ہی گرفتاریوں , الجھاؤ اور طاقت کے ذریعے خاموش کروانے کی پالیسی اپنائ گئی جس سے بغاوت , بگاڑ اور انتشار کی فضا پیدا ہوئی ۔

انہوں نے کہا کہ ہم حکومت کے اس اقدام کی شدید مذمت کرتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ ریاست کی حثیت ماں کی سی ہوتی ہے لہذا حکمت کی تدابیر اختیار کرتے ہوئے افہام و تفہیم کی جانب قدم بڑھایا جائے تاکہ مزید خون ریزی سے بچا جا سکے – اور حکومت تشدد کا راستہ اختیار کرنے کے بجائے اپنے کئے ہوئے وعدوں کی پاسداری کرے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایک اعلی سطحی عدالتی کمیشن بنایا جائے جو اس پورے معاملے کی غیر جانبدار تحقیقات کرے۔مزید یہ کہ ریاست کی پولیس قانون کے تحفظ کے لئے تشکیل دی جاتی ہے اسے غیر قانونی اور غیر آئینی سرگرمیوں میں نہ الجھایا جائے
انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ رمضان جیسے مقدس مہینے میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کے اندر قتل و خون کا یہ سانحہ رونما ہوا- انہوں نے کہا کہ مسلمان سنت نبوی ﷺ کی روشنی میں اپنے کردار کو سنواریں اور اسوہ رسول ﷺ کے مطابق اپنی زندگیوں کو ڈھالیں تاکہ اہانت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مرتکب نامرادوں کے خلاف سیسہ پلائ دیوار بن سکیں ۔