حکومت نے لاہور میں لال مسجد واقعہ دہرایا۔۔عائشہ سید


راولپنڈی:سابق رکن قومی اسمبلی اور ڈائریکٹر شعبہ تعلقات عامہ جماعت اسلامی پاکستان عائشہ سید نے لاہور واقعے پر غم وغصہ کا اظہار کرتے ہوئے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ محبت ایمان کا حصہ ہے مومن اسوقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک والدین،اولاد اور دنیا کی چیز سے زیادہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت نہ کرتاہو، امت میں جتنا اختلاف ہو لیکن وہ ناموس رسالت پر متحد ہے۔

ان کا کہنا تھاکہ مغرب میں نبی کریم کے خلاف گستاخیاں اور کارٹون مقابلے کروائے گئے،فرانس نےگستاخانہ کارٹونوں کی سرپرستی کی، ترکی نے امت کی ترجمانی کی فرانس کے اقدام کی مذمت کی ، حکومت نے ایک سیاسی جماعت سے بیس اپریل تک فرانس کے سفیر کو باہر نکالنے کےلئے معاہدہ کیا، قوم انتظار کرتی رہی کہ حکومت معاہدہ پر عمل کرے۔۔ بیس اپریل سے قبل ایسے اقدام کئے گئے جن سے فرانس کی حوصلہ افزائی ہوئی،سعد رضوی کو گرفتار کیاگیا،پولیس نے ردعمل میں وہ اقدامات کئے جو حکومت کےلئے مناسب نہیں۔

عائشہ سید نے کہاکہ چوک یتیم خانہ لاہور میں حکومت نے جو تشدد اور سیدھی گولیاں چلائیں اسے ہلاکو خان اور چنگیز خان دور کی یاد دلوائی ،حکومت نے لال مسجد کے واقعہ کو دہرایا، عائشہ سید نے کہا کہ پولیس کی جانب سے ظلم پر لوگوں میں اشتعال فطری عمل ہے، بے نظیر شہادت پر عوام نے اربوں روپے کا نقصان کیاتھا۔۔ ھم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ بلا جواز طاقت کا استعمال بند کیا جائے، گولیاں دشمن کےلئے خریدیں اپنے نوجوانوں کےلئے نہیں ، حکومت نے جو معاہدہ کیا اس کی پاسداری کرے،
حکومت فرانسیسی سفیر کو باہر نکالے تاکہ فرانسیسی حکومت کو معلوم ہو کہ مسلمان ایسے شخص کو برداشت نہیں کرتے۔

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے ایف اے ٹی ایف معاہدہ کو کامیاب کرنے کےلئے آپریشن و گرفتاریاں کیں، ماہ رمضان میں گرفتاریاں اور ہلاکتیں ان کے پری پلان کا حصہ ہے، ماضی میں مشرف دور میں لال مسجد کا جوواقعہ ہوا اور جو زخم قوم کولگے وہ آج بھی تازہ ہیں، گرے لسٹ سے نکالنے کےلئے ضروری نہیں کہ اپنے لوگوں پر گولیاں چلائی جائیں۔۔جماعت اسلامی مطالبہ کرتی ھے کہ
فی الفور عدالتی کمیشن بناکر حالات کا جائزہ لیاجائے تمام بے گناہ گرفتار لوگوں کو رہا کیاجائے،ملک میں ایسی روایت نہ پیدا کی جائےکہ حکومت کو اختیار ھو کہ مدمقابل پارٹی کو ختم کرے۔،ملی یکجہتی کونسل اور علماکونسل کااجلاس بلا یا جائے،حکومت میڈیا پر پابندی کے بجائے حقائق کو تسلیم کرے۔