شہبازشریف کی ضمانت کیوں نہ ہوئی؟ ہائیکورٹ کے دو ججزکے الگ الگ مکمل فیصلے پڑھیں


اسلام آباد(عابدعلی آرائیں) پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر میاں شہباز شریف کی ضمانت کے مقدمے میں لاہور ہائیکورٹ کی طرف سے چودہ اپریل 2021کا حکم نامہ جاری کیا گیا ہے۔جسٹس محمد سرفراز ڈوگر کا تحریر کردہ فیصلہ دس صفحات ، 16پیراگرافس پرمشتمل ہے جبکہ جسٹس اسجد گھرل کا تحریر کردہ فیصلہ 14صفحات اور 22پیراگرافس پر مشتمل ہے

دوران سماعت شہباز شریف کی طرف سے اعظم نذیر تارڑ،خواجہ محسن عباس،محمد نواز چوہدری،محمد عادل چٹھہ،انور حسین،میاں نسیم ثقلین اور خرم شہزاد ایڈووکیٹ پیش ہوئے۔
نیب کی طرف سے سپیشل پراسیکیوٹر سید فیصل رضا بخاری ایڈیشنل ڈائریکٹر نیب آفتاب احمد اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر نیب لاہور حامد جاوید پیش ہوئے۔

جسٹس محمد سرفراز ڈوگرکا فیصلہ

پیراگراف نمبر ایک
جسٹس سرفراز ڈوگر کی طرف سے جاری حکم میں کہا گیا ہے کہ سب سے پہلے یہ بتانا ضروری ہے کہ یہ کیس ہائیکورٹ کے ڈویژن بینچ کے سامنے مقرر تھا بینچ جسٹس سرفراز ڈوگر اور جسٹس اسجد جاوید گھرل پر مشتمل تھا۔
جسٹس سرفراز ڈوگر نے کہا ہے کہ پارٹیوں کے وکلاء کو سننے اور ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد عدالت میں درخواست گزار کو ضمانت دینے کا حکم سنایا گیا لیکن جب بعد میں رہائی کا مختصر حکم برادر جج اسجد جاوید کے سامنے دستخط کے لئے رکھا گیا تو اس وقت انہوں نے انکشاف کیا کہ وہ اس کیس میں اپنی اختلافی رائے دیں گے اس لئے ہم دونوں مختلف آرڈر جاری کر رہے ہیں جس کے بعد معاملہ چیف جسٹس کے سامنے رکھا جائے گا تا کہ وہ ریفری جج نامزد کر سکیں۔

پیراگراف نمبر دو
جسٹس سرفراز ڈوگر نے فیصلے میں لکھا ہے کہ شہباز شریف نے احتساب عدالت میں دائر ریفرنس نمبر 22/2020 میں ضمانت بعد از گرفتاری دائر کی ہے۔

پیراگراف نمبر تین
عدالت نے کیس کے حقائق لکھتے ہوئے کہا ہے کہ ریفرنس میں استغاثہ نے بتایا ہے کہ حکومت پاکستان کے فنانشل مانیٹرنگ یونٹ نے 12جنوری 2018 کو میاں شہباز شریف اور اس کے خاندان کے افراد کی مشتبہ کرنسی ٹرانزیکشن اور کاروبار سے متعلق رپورٹ دی تھی۔نیب کو 19اکتوبر2018 کو ایک اور شکایت بھی موصول ہوئی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ شہباز شریف،حمزہ شہباز،سلمان شہباز اور دیگر نے سال 2008سے سال 2018تک 9سے زائد انڈسٹریل یونٹ اور اربوں روپے کے اثاثے بنائے ہیں۔درخواست میں مزید کہا گیا تھا کہ سال2000 کے شروع میں شہباز شریف خاندان کے پاس پانچ سے چھ کروڑ تک کے اثاثے تھے۔

پیراگراف نمبر چار
جسٹس سرفراز ڈوگر نے لکھاہے کہ نیب نے 23اکتوبر 2018کو شہباز شریف،حمزہ شہباز،سلمان شہباز اور دیگر کے خلاف آمدن سے زائد اثاثوں کی انکوائری شروع کی جس کو 4اپریل2019کو انویسٹی گیشن میں تبدیل کر دیا گیا اس کے بعد شہباز شریف سمیت سولہ افراد کے خلاف ریفرنس دائر کیا گیا جن میں سے چار افراد یاسر مشتاق،محمد مشتاق،شاہد رفیق اور آفتاب محمودکی طرف سے وعدہ معاف گواہ بننے کی درخواست احتساب عدالت لاہور میں جمع کرائی گئی ہے۔

پیراگراف نمبر پانچ
فریقین کو سنا گیا اور ریکارڈ کا جائزہ لیا گیا۔

پیراگراف نمبر چھ۔
جسٹس سرفراز ڈوگر نے لکھاہے کہ عدالت کے سامنے دیئے گئے دلائل اور ریکارڈ کا جائزہ لینے سے پتہ چلتا ہے کہ 5اکتوبر 2018 کو شہباز شریف کو آشیانہ اقبال کیس میں نیب لاہور نے گرفتار کر کے 64دن جسمانی ریمانڈ پر رکھا ۔
شہباز شریف اور ان کے خاندان کے اثاثوں سے متعلق انکوائری
23اکتوبر 2018کو شروع کی گئی لیکن ان کو اس انکوائری میں گرفتار نہیں کیا گیا۔عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ اسی عرصے کے دوران شہباز شریف کو 10اکتوبر 2018 کو رمضان شوگر مل کے کیس میں گرفتار کیا گیا تھا شہباز شریف نے ان دونوں مقدمات میں ضمانت کی درخواستیں دیں تو ہائیکورٹ نے 14فروری 2019کو ضمانت بعد از گرفتاری دی۔
عدالت نے لکھا ہے کہ اس دوران نیب نے شہباز شریف کا نام ای سی ایل میں شامل کیا تو اس کے خلاف شہباز شریف نے رٹ پٹیشن دائر کی ہائیکورٹ نے رٹ منظور کرتے ہوئے چھبیس مارچ 2019کو شہباز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم دیا۔اس حکم کے بعد شہباز شریف علاج کیلئے بیرون ملک گئے اور واپس آئے جس سے ان کی نیک نیتی ظاہر ہوتی ہے کہ وہ مفرور نہیں ہونا چاہتے اور اپنے خلاف ٹرائلز کا سامنا کرنا چاہتے ہیں۔جب اس عدالت نے شہباز شریف کو ضمانت فراہم کی تو نیب نے عدالتی آرڈر سپریم کورٹ میں چیلنج کیے۔ریکارڈ سے پتہ چلتا ہے کہ سپریم کورٹ نے نیب کی وہ درخواستیں واپس لینے کی بنیاد پر مسترد کر دی تھیں۔
اس کے بعد نیب نے اس جعلی ٹرانزیکشن کیس میں کاروائی تیز کر دی اور بالاخر 28مئی 2020کو شہباز شریف کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کر دیئے جس پر انہوں نے ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست دائر کی جو 28 ستمبر 2020کو واپس لینے کی بنیاد پر خارج کر دی گئی تو انہیں گرفتار کر لیا گیا۔

پیراگراف نمبر سات۔
جسٹس سرفراز ڈوگر نے لکھا ہے کہ میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ نیب حکام نے اس کیس میں شہباز شریف کو اس وقت حراست میں کیوں نہیں لیا جب وہ گرفتار تھے۔اس دوران نیب نے کیوں انکوائری پینڈنگ رکھی اور کبھی بھی کال اپ نوٹس نہیں دیا گیا۔یہ انکوائری اس وقت کھولی گئی جب نیب کی ضمانت منسوخی کی درخواستیں سپریم کورٹ سے مسترد ہوئیں۔

پیراگراف نمبر آٹھ۔
جسٹس سرفراز ڈوگر نے لکھا ہے کہ جہاں تک شہباز شریف پر منی لانڈرنگ کا تعلق ہے ان کے کسی بھی اکاؤنٹ سے ظاہر نہیں ہوتا کہ انہوں نے کوئی ایک بھی ٹرانزیکشن کی ہو اس حوالے سے بھی کوئی شہادت موجود نہیں ہے کہ انہوں نے کوئی رقم وصول کی ہے۔نیب کے پراسیکیوٹر نے بھی اعتراف کیا ہے کہ جتنی بھی مالی ٹرانزیکشنز ہوئیں وہ ساری اس کیس میں شریک ملزم نے وصول کیں جو ٹرائل کا سامنا کر رہا ہے۔
جسٹس ڈوگر نے لکھا ہے کہ یہ طے شدہ قانون ہے کہ کسی براہ راست اور قانونی شہادت کے بغیر کسی شہری کو ایسے جرم میں ملوث قرار نہیں دیا جا سکتا۔استغاثہ کو یہ آزادی ہو گی کہ ٹرائل کے دوران شہباز شریف کی مبینہ جعلی ٹرانزیکشنز سے متعلق شواہد پیش کرے۔فاضل جج نے لکھا ہے کہ بادی النظر میں شہباز شریف کی منی لانڈرنگ کا کیس مزید انکوائری کے زمرے میں آتا ہے۔

پیراگراف نمبر نو۔
جسٹس سرفراز ڈوگر نے لکھا ہے کہ جہاں تک شہباز شریف پر آمدن سے زائد اثاثے بنانے کا الزام ہے کہ انہوں نے 7.328 ملین روپے کے اثاثے بنائے نیب نے اپنی انوسٹیگیشن میں بتایا ہے کہ شہباز شریف کے نام صرف ستائس کروڑ روپے کے اثاثے ہیں۔انہوں نے لکھا ہے کہ ریکارڈ اور ایف بی آر کی آڈٹ رپورٹ کے مطابق شہباز شریف نے 2016/2017 میں اثاثے ظاہر کیے اور ان پر ٹیکس بھی ادا کیا ان کو ضمانت بعد از گرفتاری دینے کی مضبوط وجہ یہ بھی ہے۔

پیراگراف نمبر دس۔
جسٹس سرفراز ڈوگر نے کہا ہے کہ جہاں تک باقی منقولہ اور غیر منقولہ جائیدادیں جو دیگر ملزمان کے نام ہیںنیب کی طرف سے الزام ہے کہ یہ جائیدادیں بھی شہباز شریف کی ہیں جو انہوں نے دیگر لوگوں کے نام کر رکھی ہیں۔ اب یہ نیب کی ذمہ داری ہے کہ ان اثاثوں کا تعلق ملزم سے جوڑیں اور ایسا مواد یا شواہد فراہم کریں جس سے بے نامی ٹرانزیکشنز ظاہر ہوں۔ جسٹس ڈوگر نے چار نکات اٹھائے ہیں
نمبر ایک
سورس آف کنسیڈریشن۔
نمبر دو
شواہد کے طور پر جو دستاویزات اور ڈیڈز جو نیب کی تحویل میں ہیں پیش کی جائیں۔
نمبر تین
کہ وہ پراپرٹی کس کے قبضے میں ہے۔

نمبر چار
بے نامی ٹرانزیکشن کی وجہ کیا ہے۔
جسٹس ڈوگر نے لکھا ہے کہ نیب کی طرف سے بے نامی جائیدادوں کا تعلق شہباز شریف سے جوڑنے کیلئے ابھی تک ان چاروں چیزوں میں سے کوئی بھی چیز فراہم نہیں کی گئی۔حتی کہ جن لوگوں کے نام پر پراپرٹیز ہیں وہ دعوی کرتے ہیں کہ جائیدادیں ان کی اپنی ہیں اس لیے بہتر ہو گا کہ ٹرائل کورٹ شواہد ریکارڈ کرے کہ ان جائیدادوں کا تعلق شہباز شریف سے ہے یا نہیں۔اس حوالے سے جسٹس ڈوگر نے اعلی عدالتوں کے آٹھ فیصلوں کا حوالہ بھی دیا ہے۔

پیراگرف نمبر گیارہ
دلائل کے دوران شہباز شریف کے وکیل نے خاص طور پر یہ کہا گیا کہ استغاثہ کی طرف سے کسی گواہ نے شہباز شریف پر کسی جرم کا الزام عائد نہیں کیا نہ ہی وعدہ معاف چار گواہوں نے شہباز شریف کے خالف کوئی گواہی دی ہے۔جسٹس ڈوگر نے لکھا ہے کہ دلائل دیتے ہوئے نیب کے سپیشل پراسیکیوٹر نے موقف اپنایا کہ شہباز شریف ٹرائل کورٹ میں نیب قانون کی شق 265 کے تحت بریت کی درخواست ٹرائل کورٹ میں دے سکتے ہیں۔جسٹس ڈوگر نے لکھا ہے کہ انہیں ریکارڈ میں شہباز شریف کے خلاف کوئی بیان نہیں ملا اس بنیاد پر بھی اس کیس میں مزید انکوائری کی ضرورت ہے۔

پیراگراف نمبر بارہ
جسٹس سرفراز ڈوگر نے لکھا ہے کہ ریفرنس کا جائزہ لینے سے پتہ چلتا ہے کہ شہباز شریف پر کرپشن،کرپٹ پریکٹسز،کمیشن یا کک بیکس اور اختیارات کے غلط استعمال کا کوئی الزام نہیں ہے تاہم بطور عوامی عہدہ دار ذاتی فائدہ لینے کا الزام ہے لیکن اس حوالے سے ان پر کوئی فرد جرم عائد نہیں کی گئی۔نیب کے پراسیکیوٹر نے تفتیشی افسر کی مدد سے بتایا ہے کہ یہ آمدن سے زائد اثاثوں کا کیس ہے اس لیے کرپشن،کرپٹ پریکٹسز،کمیشن یا کک بیکس اور اختیارات کے غلط استعمال کے حوالے سے شواہد اکھٹے نہیں کیے گئے۔جسٹس سرفراز ڈوگر نے لکھا ہے کہ یہ طے شدہ قانون ہے کہ متعلقہ اثاثوں اور کرپشن میں ملوث ہونے سے متعلق شواہد ہونا ضروری ہیں تا کہ آمدن سے زائد اثاثوں کے الزام کو ثابت کیا جا سکے ایسی کسی بھی شہادت کی عدم موجودگی میں سزا نہیں دی جا سکتی۔اس ضمن میں انہوں نے غنی الرحمان بنام نیب کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کا حوالہ دیا ہے ۔

پیراگراف نمبر تیرہ
جسٹس سرفراز ڈوگر نے لکھا ہے کہ کیس کے ان پہلووں کے باوجود کیس کا ٹرائل مستقبل قریب میں مکمل ہوتا نظر نہیں آتا کیونکہ استغاثہ کے ایک سو دس گواہوں میں سے صرف دس گواہوں کے بیان ابھی تک قلم بند کیے گئے ہیں اور ٹرائل کورٹ کے جج کی سیٹ بھی خالی ہو گئی ہے۔ ضمانت کی درخواست کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ سے رپورٹ منگوائی تھی جس میں ٹرائل کورٹ نے بتایا تھا کہ فریقین کے مکمل تعاون کے باوجودکیس مکمل ہونے میں دس سے بارہ ماہ لگ سکتے ہیں۔اسی بنیاد پر دو مقدمات اس آبزرویشن کے ساتھ نمٹاتے ہوئے سپریم کورٹ نے ہدایت کی تھی کہ ملزمان تاخیر کی بنیاد پر ضمانت کیلئے ہائیکورٹ سے رجوع کریں اور ہائیکورٹ نے شہباز شریف کے شریک ملزمان کو ضمانت فراہم کی۔

پیراگراف نمبر چودہ
جسٹس ڈوگر نے لکھا ہے کہ شہباز شریف ستر سال کے ہو چکے ہیں اور کینسر کے مرض کا سامنا کر چکے ہیں ۔ان کو اپینڈکس کا مرض بھی 2003 سے لاحق ہے جس کی وجہ سے ان کی سرجری ہوئی اور مسلسل ان کا طبعی معائنہ ہوتا رہتا ہے۔
شہباز شریف کی حد تک اس کیس کی انویسٹیگیشن مکمل ہو چکی ہے وہ سات ماہ سے عدالتی تحویل میں ہیں۔ان کے خلاف ریفرنس پہلے ہی دائر کیا جا چکا ہے استغاثہ کے کچھ گواہوں کے بیان بھی قلمبند کیے گئے ہیں ٹرائل کورٹ کے مطابق دس سے بارہ ماہ میں ٹرائل مکمل ہو گا اس وقت ٹرائل کورٹ میں جج موجود نہیں ہیں اس لئے یقین سے یہ بات نہیں کہی جا سکتی کہ کتنے عرصے میں ٹرائل مکمل ہو گا۔
جسٹس ڈوگر نے لکھا ہے کہ شہباز شریف قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف ہیں انہوں نے اپنی آئینی اور قانونی ذمہ داریاں ادا کرنی ہیں اس کو اس کیس میں نہ تو پہلے سزا دی گئی ہے اور وہ اس کیس میں ٹرائل سے پہلے جیل میں موجود ہیں۔انہیں ٹرائل مکمل ہونے سے پہلے غیر معینہ مدت تک جیل میں نہیں رکھا جا سکتا کیونکہ اس کیس میں ان پر لگائے گئے الزامات کو شواہد سے ثابت کرنا باقی ہے۔جسٹس ڈوگر نے لکھا ہے کہ یہ طے شدہ قانون ہے کہ اگر ملزم کو غلطی سے ضمانت کی صورت میں کوئی ریلیف مل جائے تو اس کا مداوا ٹرائل مکمل ہونے پر سزا کی صورت میں موجود ہے لیکن اس صورت میں کوئی مداوا نہیں جب وہ جیل میں رہنے کے بعد ٹرائل مکمل ہونے پر رہا ہو جائے۔جسٹس ڈوگر نے اس حوالے سے خواجہ سعد رفیق اور سلمان رفیق کے مقدمے میں سپریم کورٹ کے فیصلے کا حوالہ دیا ہے۔

پیراگراف نمبر پندرہ
جسٹس سرفراز ڈوگر نے لکھا ہے کہ شہباز شریف کی درخواست ضمانت منظور کی جاتی ہے انہیں پچاس لاکھ کے دو مچلکے ٹرائل کورٹ میں جمع کرانے ہوں گے۔

پیراگراف نمبر سولہ
اس فیصلے میں جو بھی آبزرویشنز دی گئی ہیں وہ اس درخواست ضمانت تک محدود ہیں۔

 جسٹس اسجد گھرل کامکمل فیصلہ
جسٹس اسجد گھرل نے اپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ مجھے اپنے بھائی جج جسٹس سرفراز ڈوگر کا وہ فیصلہ پڑھنے کا موقع ملا جس میں شہباز شریف کو ضمانت دی گئی تھی ۔ انتہائی احترام کے ساتھ میں ان کی آبزرویشنز وجوہات اور نتائج (کانکلوژن )سے اتفاق نہیں کرتااس لئے اپنا اختلافی نوٹ لکھ رہا ہوں۔
جسٹس اسجد گھرل نے لکھا ہے کہ یہ میرے لئے انتہائی شاکنگ (صدمے کا باعث )ہے کہ جسٹس ڈوگر کے اس فیصلے کے شروع میں لکھا ہے کہ اتفاق رائے سے شہباز شریف کوضمانت دینے کا فیصلہ عدالت میں سنایا گیا، یہ حقیقت کے برعکس ہے۔
حقیقت میں فریقین کو سننے کے بعد میرے برادر جج نے اپیل منظور کرنے کیلئے میری رائے پوچھی تو میں نے عدالت میں انکار کردیا جس کی وجہ سے فیصلہ سنانے کو موخر کردیا گیا تاکہ چیمبر میں مشاورت کی جاسکے، چیمبر میں بھی میں نے براہ راست انکار کردیا لیکن حیران کن طور پر فاضل برادر جج نے یکطرفہ طور پر اپنے نائب قاصد کے ذریعے شہباز شریف کوضمانت فراہم کرنے کا اپنا فیصلہ سنادیا۔ چند منٹس بعدمیں یہ صورتحال چیف جسٹس کے نوٹس میں لایا ۔ اس کے بعد میرے ساتھی جج نے وہ مختصرفیصلہ میرے پاس دستخطوں کے لئے بھجوایاجس کی کوئی وجہ نہیں تھی۔

جسٹس اسجد گھرل نے لکھا ہے کہ یہ عدالتی تحریر کی بد قسمت اور اپنی نوعیت کی پہلی مثال ہے جس کی توقع ڈویژن بینچ کے سینئر ممبر سے نہیں کی جا سکتی۔

پیراگراف نمبر دو
شہباز شریف نے آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت درخواست ضمانت بعد از گرفتاری دائر کی ہے۔

پیراگراف نمبر تین
قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور سابق وزیر اعلی پنجاب پر الزام یہ ہے کہ شروع میں فنانشل مانیٹرنگ یونٹ سے مشتبہ ٹرانزیکشنز کی رپورٹ موصول ہوئی جس میں کہا گیا تھا کہ شہباز شریف اور ان کے خاندان کے دیگر افراد کے اکاونٹس میں ٹرانزیکشنز کی گئیں اس کے بعد ایک اور شکایت درج ہوئی جس میں شہباز شریف اور ان کے خاندان پر آمدن سے زائد اثاثے بنانے اور اربوں روپے کے 9 صنعتی یونٹ قائم کرنے کا الزام لگایا گیا جس کی انکوائری کی منظوری چیئرمین نیب نے 23اکتوبر 2018کو دی انکوائری کے نتیجے میں یہ انکشاف ہوا کہ شہباز شریف اور شریک ملزمان کی دولت میں 412 گنا اضافہ ہوا ہے۔کیونکہ ان کی دولت 14.86 ملین سے بڑھ کر 6122 ملین روپے تک پہنچ گئی ہے اس دولت میں اتنا اضافہ اس عرصہ کے دوران ہوا جب وہ عوامی عہدے پر تھے یعنی یہ اضافہ ان کے 2008تا 2018 کے دوران ہوا جب وہ وزیر اعلی پنجاب تھے۔اس کے بعد انکوائری کو انویسٹیگیشن میں تبدیل کیا گیا جس میں انکشاف ہوا کہ شہباز شریف نے اپنے اور شریک ملزمان نصرت شہباز،حمزہ شہباز،سلمان شہباز،مس ربیعہ عمران،مس جویریہ علی جو ان کے خاندان کے افراد ہیں کے نام پر بھاری اثاثے بنائے ہیں خاندان کے ان افراد نے بے نامی دار جائیدادیں بنانے میں ان کی مدد کی ہے۔ ان کے ساتھ ساتھ نثار احمد،علی احمد خان،سید محمد طاہر نقوی اور راشد کرامت نے آمدن سے زائد اثاثے بنانے میں مدد کی ہے۔ان لوگوں کے اثاثوں کی ملکیت 7328.137 ملین تک بڑھ گئی جو ان کے ذرائع آمدن سے مطابقت نہیں رکھتی۔

پیراگراف نمبر چار
درخواست گزار کے وکیل نے موقف اپنایا ہے کہ شہباز شریف معصوم ہیں ان کا نیب کے الزامات سے کوئی تعلق نہیں ہے شہباز شریف نے بطور وزیر اعلی پنجاب ہوتے ہوئے شفاف انداز میں اربوں روپے کے فنڈ مختلف ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کیے اور ان پر کبھی کرپشن یا کرپٹ پریکٹسز کا الزام نہیں لگا۔وکیل نے کہا کہ شہباز شریف کے وراثتی یا نئے خریدے گئے اثاثے ریگولیٹڈ ہیں اور اس کے سالانہ ٹیکس گوشواروں میں ظاہر کئے گئے ہیں۔وکیل نے موقف اپنایا کہ شہباز شریف کے خاندان کے افراد اور دیگر مبینہ بے نامی دار جن کو شریک ملزمان ٹھہرایا گیا ہے وہ آزاد خود مختار ہیں اور اپنے اعمال کے خود ذمہ دار ہیں شہباز شریف نہیں ۔وکیل نے مزید کہا کہ ستر سالہ شہباز شریف کینسر سے بچے ہیں اس لیے انہیں مرحلہ وار علاج اور باقائدہ ہسپتال جانے کی ضرورت ہوتی ہے ایسے مریض کے لئے جیل کا ماحول خطرناک ہے۔وکیل نے استدعا کی کہ شہباز شریف کو ضمانت بعد از گرفتاری دی جائے۔

پیراگراف نمبر پانچ
سپیشل پراسیکیوٹر نیب نے دلائل میں موقف اپنایا کہ شہباز شریف مرکزی ملزم ہیں جو طویل عرصہ تک عوامی عہدے پر رہے۔انہوں نے نہ صرف 269 ملین کے اثاثے بنائے جو ان کے ذرائع آمدن سے مطابقت نہیں رکھتے بلکہ ان بے نامی داروں نے 7328 ملین روپے کے اثاثے بنائے۔نیب پراسیکیوٹر کے مطابق شہباز شریف کے خاندان کے تمام افراد ان کی زیر کفالت تھے جن کا کوئی آزاد ذریعہ آمدن نہیں تھا اس کے باوجود ان کے اکاونٹس میں ساری رقم ٹیلی گرافک ٹرانسفرز (ٹی ٹیز ) کے ذریعے منتقل ہوئی ٹی ٹیز ان لوگوں کے زریعے بھجی گئیں جن کا رقم سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ان لوگو ں کے شق 161 کے بیانات لئے گئے ہیں۔نیب کے وکیل نے کہا کہ ان تمام پراپرٹیز جن میں ماڈل ٹاون میں دس کنال کے گھر خریدے گئے۔یہ گھر اس رقم سے خریدے گئے جو شہباز شریف کی اہلیہ نصرت شہباز کے اکاونٹ میں جعلی ٹی ٹیز کے ذریعے بھجوائی گئی تھی بعد میں وہ گھر وزیر اعلی پنجاب کے کیمپ آفس ڈکلیئر کیے گئے جن پر قومی خزانے سے 50.05 ملین روپے خرچ کئے گئے۔نیب کے وکیل کا کہنا تھا کہ شہباز شریف جب آشیانہ ہاوسنگ پراجیکٹ کیس میں گرفتار تھے اس وقت ان کی اس کیس میں گرفتاری کی ضرورت نہیں تھی کیونکہ انکوائری کا عمل جاری تھا۔بیرون ملک دفتر خارجہ کے دفاتر سے ٹی ٹیز کا ریکارڈ حاصل کرنے کے بعد انہیں اس کیس میں مجاز اتھارٹی کی منظوری کے بعدگرفتار کیا گیا۔
نیب کے پراسکیوٹر نے کہا کہ نیب قانون کا اطلاق 1985 سے کیا گیا ہے اس لئے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ 1999سے پرانے معاملات پر اس کا اطلاق نہیں ہوتا شہباز شریف کو بوڑھا اور کینسر سے متاثرہ ہونے کا فائدہ نہیں دیا جا سکتا کیونکہ ان کی موجودہ صحت زندگی کے لئے خطرناک نہیں ہے ان کو جیل میں چوبیس گھنٹے مناسب سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔نیب پراسیکیوٹر نے ضمانت کی درخواست مسترد کرنے کی استدعا کی۔

پیراگراف نمبر چھ
فریقین کے دلائل سنے گئے اور ریکارڈ کا جائزہ لیا گیا۔

پیراگراف نمبر سات
جسٹس اسجد گھرل نے لکھا ہے کہ شہباز شریف پہلی بار 1990 میں رکن قومی اسمبلی بنے تو انہوں نے اپنے اور خاندان کے اثاثے 2.12 ملین روپے ظاہر کیے۔وہ 1993 سے1997تک پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف رہے۔1997 میں شہباز شریف ممبر صوبائی اسمبلی منتخب ہونے کے بعد وزیر اعلی بنے تو انہوں نے 1998 میں اپنے اثاثے 14.865 ملین ظاہر کیے۔جن میں ان کے خاندان کے اثاثے بھی شامل تھے یہ اثاثے نہ صرف شہباز شریف کے نام تھے بلکہ بطور بے نامی دار ان کے خاندان کے نام پر بھی تھے۔
جسٹس اسجد گھرل نے لکھا ہے کہ شہباز شریف نے اپنی آمدن پانچ کیٹیگریز میں ظاہر کی ہے۔
نمبر ایک
سال 2014تا 2018 میں 124 ملین روپے بزنس انکم لیکن وہ اپنا کوئی بھی بزنس اکاونٹ یا بزنس کی نوعیت دکھانے میں ناکام رہے۔
نمبر دو
شہباز شریف نے زرعی زمین کی آمدن 78 ملین روپے ظاہر کی جس کی سپورٹ میں کوئی دستاویزی شہادت موجود نہیں اور نہ ہی کوئی بینک اکاونٹ بتایا گیا جس سے یہ آمد ظاہر ہوتی ہو تاہم جھاڑ پیداوار کے سرکاری ریکارڈ کے مطابق یہ رقم 13.519 ملین سے ذیادہ نہیں ہو سکتی اس طرح زرعی آمدن میں 64.586 ملین روپے کا فرق آتا ہے۔
نمبر تین
کیپیٹل گین
شہباز شریف نے بحریہ ٹاون ہاوسنگ سوسائیٹی کو 292 کنال زمین فروخت کر کے 200 ملین روپے کی خطیر رقم حاصل کی جس کو نیب ریفرنس کا حصہ نہیں بنایا گیا۔

نمبر چار
غیر ملکی آمدن
شہباز شریف کے اکاونٹ میں 38.00 ملین روپے ٹرانسفر کئے گئے جن کی کوئی وضاحت نہیں دے سکے۔

نمبر پانچ
بیوی سے تحائف
نصرت شہباز شریف نے اپنے شوہر کو 7.35 ملین روپے بطور تحفہ ان کے اکاونٹ میں ٹرانسفر کیے جس کے بارے میں بعد میں پتہ چلا کہ یہ رقم بھی جعلی غیر ملکی ٹی ٹیز کے ذریعے منتقل ہوئی۔

پیراگراف نمبر آٹھ
جسٹس اسجد گھرل نے لکھا ہے کہ جیسا کہ پہلے بتایا گیا شہباز شریف عوامی عہدے پر رہے لیکن ان کی اور بھی جائیدادیں اور آمدن تھی جو ان کے خاندان سمیت دیگر بے نامی داروں کے نام پر تھی۔
اے سی آر کے مطابق نصرت شہباز کے نام 299.00 ملین روپے کے اثاثے تھے لیکن ذریعہ آمدن نہیں تھا ان کے اکاونٹ میں 147.7 ملین روپے چھبیس ٹی ٹیز کے ذریعے ٹرانسفر کیے گئے۔
نصرت شہباز نے بیرون ملک سے آنے والی جعلی ٹی ٹیز کے ذریعے ماڈل ٹاون لاہور میں دس دس کنال کے دو پلاٹ خریدے اور اس کے بعد ان پلاٹس پر گھر تعمیر کیے شہباز شریف نے ان گھروں کو وزیر اعلی کیمپ آفس ڈکلیئر کیا اور ان پر پانچ سو ملین روپے سے زائد رقم خرچ کی۔
حمزہ شہباز شریف نے سال 2001 میں اپنے اثاثے 18.484 ملین روپے ظاہر کئے جو 2018میں بڑھ کر 533ملین ہو گئے جن میں 23 جعلی ٹی ٹیز کے ذریعے ان کے اکاونٹ میںٹرانسفر کی گئی181 ملین کی رقم بھی شامل ہے۔

سلمان شہباز شریف نے سال 2003 میں اپنے اثاثے دو ملین روپے ظاہر کیے جو سال 2018 میں بڑھ کر 2259 ملین روپے ہو گئے جن میں 150 جعلی ٹی ٹیز کے ذریعے ان کے اکاونٹ میں منتقل کی گئی ایک ارب ساٹھ کروڑ روپے کی رقم بھی شامل ہے۔

مس ربیعہ عمران کے اکاونٹ میں دس جعلی ٹی ٹیز کے ذریعے ستاون ملین روپے کی رقم ٹرانسفر کی گئی۔

مس جویریہ علی کے اکاونٹ میں سات جعلی ٹی ٹیز کے ذریعے اکتیس ملین روپے ٹرانسفر کیے گئے۔

جسٹس اسجد جاوید گھرل نے فیصلے میں لکھا ہے کہ شہباز شریف نے خاندان کے افراد کے علاوہ اپنے ملازمین اور دوستوں کو بے نامی دار کے طور پر استعمال کرتے ہوئے آمدن سے زائد اثاثے بنائے ۔

بے نامی داروعدہ معاف گواہ محمد مشتاق کے بینک اکاونٹ میں جعلی ٹی ٹیز کے ذریعے 503 ملین روپے ٹرانسفر کیے گئے۔

بے نامی دار طاہر نقوی جو شہباز شریف کی رمضان شوگر مل میں ملازم تھے اور ابھی تک مفرور ہیں ان کے اکاونٹ میں جعلی ٹی ٹیز کے ذریعے 144 ملین روپے ٹرانسفر کئے گئے۔

بے نامی دار نثار احمد جو وزیر اعلی سیکرٹریٹ میں 2009 سے 2018 تک کنٹریکٹ پر ملازم رہے ان کے اکاونٹ میں 112 ملین روپے ٹرانسفر کیے گئے۔ انہوں نے گڈ نیچر کمپنی کے نام سے ایک جعلی بے نامی کمپنی بنائی اور اس کے چیف ایگزیکٹیو افسر کے طور پر 1.08 ارب روپے کی کمپنی کے اکاونٹ میں نا معلوم زرائع سے ٹرانزیکشن کی۔نثار احمد نے ٹیکس گوشوارے جمع کرائے اور اس وقت اپنے اثاثے 3.5ملین ظاہر کیے۔

بے نامی دار راشد کرامت جو شریف گروپ کا ملازم تھا اس کو نثار ٹریڈنگ کمپنی کا مالک ظاہر کیا گیا نامعلوم ذرائع سے راشد کرامت کے اکاونٹ میںاس کمپنی کے 515 ملین روپے ٹرانسفر کئے گئے جن میں پارٹی فنڈ کے نام سے آنے والی 55 ملین روپے کی رقم بھی شامل تھی۔

بے نامی دار علی احمد خان جو2010سے2018تک وزیراعلی سیکرٹریٹ کے کنٹریکٹ ملازم تھے اور ابھی تک مفرور ہیں ان کے اکاؤنٹ میں جعلی ٹی ٹیز کے ذریعے 41ملین روپے ٹرانسفر کئے گئے تھے۔ علی احمد خان نے بھی گڈ نیچر کمپنی اور یونیتاس کے نام سے دو جعلی کمپنیاں قائم کیں ۔

پیراگراف نمبر9
گڈ نیچر کمپنی کے اکاؤنٹ کو شہباز شریف کے داماد ہارون یوسف جو ابھی تک مفرورہیں، شریف گروپ کے اکرام الحق ندیم سعیداور غلام رسول گورسی آپریٹ کرتے تھے۔انوسٹی گیشن کے دوران پتہ چلا کہ ندیم سعید، اکرام الحق اور غلام رسول گورسی نے 161کے بیان میں اعتراف جرم کیا ہے۔ اس کے علاوہ جن لوگوں نے پارٹی فنڈ جمع کرایا تھا انہوں نے بھی اپنے بیانات قلمبند کرائے ہیں۔

پیراگراف نمبر10
شہباز شریف کے وکیل نے دعوی کیا ہے کہ ان کے خاندان کے افراد بطور ڈائریکٹرز، چیف ایگزیکٹیو آفیسرز اور 9 انڈسٹریل یونٹس کے مالکان اپنے ذرائع آمدن رکھتے ہیں لیکن وہ اس حیران کن حقیقت کا کوئی جواز پیش نہ کر سکے کہ صنعتی یونٹ کیسے لگائے گئے۔ریکارڈ کا جائزہ لینے سے یہ پتہ چلا ہے کہ یہ صنعتی یونٹس وصول ہونے والی جعلی غیر ملکی ترسیلات سے بنائے گئے اس سے قبل کوئی صنعتی یونٹ موجود نہیں تھا یہ سب کچھ جعلی ٹی ٹیز کی بنیاد پر ان افراد نے بنایا جنہوں نے کبھی بھی بیرون ملک دورہ نہیں کیا تھا ان میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جنہوں نے انویسٹیگیشن میں شامل ہو کر شق 161 کے تحت استغاثہ کے حق میں بیان قلمبند کروائے۔

جسٹس اسجد جاوید نے فیصلے میں لکھا ہے کہ اس ساری صورتحال میں شہباز شریف کے وکیل کا یہ دعوی کہ بے نامی دار آزاد افراد ہیں اور اپنے اعمال کے خود ذمہ دار ہیں بالکل بے بنیاد ہے۔ تمام رقم شہباز شریف نے کمائی اور ان کی ملکیت ہے اور وہ خاندان کے سربراہ اوربطور عوامی عہدیدار اس ذمہ داری سے چھپ نہیں سکتے۔یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ بے نامی دار کے طور پر جو اثاثے شہباز شریف نے حاصل کیے ہیں ان میں گڈ نیچر کمپنی بھی شامل ہے شہباز شریف نے اس کمپنی سے کوئی تعلق ظاہر نہیں لیکن حیران کن طور پر 60.03 ملین روپے کی رقم ایک شریک ملزم کیش بوائے مسرور انور نے اکاونٹ سے نکلوائی اور شہباز شریف کے حبیب بینک مسلم ٹاون برانچ لاہور میں موجود اکاونٹ میں جمع کرائی۔

پیراگراف نمبر11
یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ یہ منظم جرم کی بہترین مثال ہے کیونکہ محمد مشتاق،یاسر مشتاق،شاہد رفیق اور آفتاب محمود نے مجاز اتھارٹی کو وعدہ معاف گواہ بننے کی درخواست دی جو قبول کر لی گئی اور ان کے اعترافی بیانات بھی قلمبند کیے گیے ہیں۔ان کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کو بطور ٹول استعمال کیا جاتا رہا ان میں سے ایک شہباز شریف کے رہائشی گھر سے رقم وصول کرتا اور وہ رقم ایک منی چینجر کے حوالے کرتا تھا۔جو برطانیہ میں موجود آفتاب احمد کے ذریعے غیر ملکی جعلی ٹی ٹیز کا انتظام کرتا تھا۔ان ٹی ٹیز کے ذریعے اربوں روپے حمزہ شہباز،سلمان شہباز اوران دیگر لوگوں کے اکاونٹس میں جمع کرائے جاتے جن کے کوئی کاروبار نہیں تھے۔وہ صرف یہ رقم وصول کرتے۔یہ رقم عوامی عہدیدار ہوتے ہوئے شہباز شریف کما رہے تھے۔

پیراگراف نمبر12
شہباز شریف کے وکیل نے شریک ملزم حمزہ شہباز و دیگر کی ضمانت کے لئے درخواست پر بھی دلائل دیئے جس کا حکم 24 فروری2021 کو آیا۔اس کیس میں حمز ہ شہباز کومرکزی ملزم شہباز شریف کا بے نامی دار ظاہر کیا گیا عدالتی سوال پر وکیل نے میرٹ پر ایک لفظ بھی نہ بولا اور ضمانت کا مقدمہ انسانی بنیادوں پر لڑا۔عدالت نیحمزہ شہباز کی ضمانت کے فیصلے میں آبزرویشن دی ہے کہ درخواست گزاران (حمزہ شہباز و دیگر) کیس میں مرکزی ملزم نہیں ہیں ان کا جرم کم ظاہر کیا گیا ہے۔اس لئے شریک ملزمان کا کیس مرکزی ملزم شہباز شریف کے کیس جیسا نہیں ہے اور شہباز شریف ابھی تک جیل میں ہے۔
جسٹس اسجد جاوید نے لکھا ہے کہ آج یہ دلائل دیئے جا رہے ہیں کہ حمزہ شہباز سمیت تمام شریک ملزمان آزاد اور اپنے عمل کے خود ذمہ دار ہیں یہ دلائل سابقہ دلائل سے متضاد ہیں۔
جسٹس اسجد جاوید نے لکھا ہے کہ ہائیکورٹ کے ساتھی جج جسٹس سرفراز ڈوگر نے آبزرویشن دی ہے کہ شہباز شریف شریک ملزمان کے عمل کے ذمہ دار نہیں ہیں فاضل جج کی یہ آبزرویشن ہائیکورٹ کے اس بینچ کی طرف سے دیئے گئے پہلے فیصلے سے تضاد رکھتی ہے۔

پیراگراف نمبر 13
اس مشق کا مقصد یہ ہے کہ یہ ظاہر کیا جائے کہ شہباز شریف کے خاندان کے دیگر افراد کا کوئی ذریعہ آمدن نہیں تھا ساری رقم شہباز شریف نے کمائی اور جعلی ٹی ٹیز کے ذریعے ان کے اکاونٹس میں ٹرانسفر کی گئی۔ان جعلی ٹی ٹیز سے خاندان کے افراد کے نام پر صنعتی یونٹ قائم کیے گئے جب کہ وزیر اعلی سیکرٹریٹ کے ملازموں کے نام پر جعلی کمپنیاں بنائی گئیں ان کمپنیوں کے اکاونٹس شہباز شریف کے داماد ہارون یوسف آپریٹ کرتے تھے۔

پیراگراف نمبر 14
بڑے زور سے یہ دلائل دیئے گئے کہ تمام اثاثے شہباز شریف کے سالانہ انکم ٹیکس ریٹرن اور ایف بی آر کے ریکارڈ میں ظاہر کیے گیے ہیں اور اگر کچھ مختلف ہے تو صرف ایف بی آر کے پاس اختیار ہے کہ سوال اٹھا سکے۔نیب کے پاس یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ 1990 میں شہباز شریف کی طرف سے ظاہر کیے گئے اثاثوں کی چھان بین کر سکے۔
جسٹس اسجد جاوید نے لکھا ہے کہ اس دلیل میں کوئی جان نہیں ہے کیونکہ اربوں روپے کے یہ اثاثے جن میں جعلی ٹی ٹیز بھی شامل ہیں اور ان کا کوئی ذریعہ آمدن بھی نہیں ہے تو ان کو ٹیکس ریٹرن میں ظاہر کرنے کی بنیاد پر قانونی قرار نہیں دیا سکتا۔اسی وجہ سے یہ بھی نہیں کہا سکتا کہ نیب کے پاس اس کی تحقیقات کا اختیار نہیں ہے کیونکہ نیب قانون کے مطابق 1985 سے اس قانون کا اطلاق ہوتا ہے اس لئے نیب کے پاس یہ اختیار ہے کہ وہ شہباز شریف سے آمدن سے تضاد رکھنے والی دولت یا اثاثوں کے بارے میں پوچھ گچھ کر سکے۔شہباز شریف نیب حکام کی انوسٹیگیشن کے دوران یہ سب کچھ بتانے میں ناکام رہے ہیں۔
جسٹس اسجد جاوید نے لکھا ہے کہ وہ شہباز شریف کے موقف سے اتفاق نہیں کرتے کیونکہ شہباز شریف کے پاس کوئی جواب نہیں ہے کہ انہوں نے اور ان کے خاندان اور بے نامی داروں نے آمدن کے کس ذریعے سے یہ اثاثے حاصل کیے ہیں۔

پیراگراف نمبر 15
جسٹس اسجد جاوید نے لکھا ہے کہ یہ استغاثہ کی ذمہ داری نہیں ہے کہ ثابت کرے کہ شہباز شریف نے کسی خاص منصوبے سے کک بیکس،کمیشن یا غیر قانونی مالی فائدہ حاصل کیا ہے استغاثہ نے یہ ثابت کرنا ہے کہ شہباز شریف کے پاس جو اثاثے ہیں وہ اس کے ذرائع آمدن سے زائد ہیں اس کے بعد ملزم پر ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ ایسے اثاثوں کی منی ٹریل دے اور بتائے کہ اس نے کیسے یہ اثاثے حاصل کیے۔انوسٹیگیشن کے دوران شہباز شریف یہ بتانے میں ناکام رہے کہ انہوں نے اپنے ذرائع آمدن سے موجودہ اثاثے بنائے ہیں۔فاضل جج نے لکھا ہے کہ شہباز شریف سمیت کوئی بھی ملزم یہ نہیں بتا سکا کہ بیرون ملک سے ان کے بینک اکاونٹ میں یہ رقوم کون بھجواتا رہا۔

پیراگراف نمبر 16
جسٹس اسجد جاوید نے قرار دیا ہے کہ شہباز شریف کے وکیل اس بات پر دیتے رہے کہ کسی گواہ یا وعدہ معاف گواہوں نے شہباز شریف پر کرپشن یا کرپٹ پریکٹسز کا الزام نہیں لگایا جس کے جواب میں نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ شہباز شریف کو اس حوالے سے ٹرائل کورٹ میں بریت کی درخواست دائر کرنی چاہیئے لیکن شہباز شریف کے وکیل نے اس حوالے سے بات نہیں کی۔

پیراگراف نمبر 17
یہ واضح کیا جاتا ہے کہ اس ریفرنس میں شہباز شریف کی طرف سے قانونی ذرائع،تنخواہ ،زرعی آمدن اور رمضان شوگر مل کی آمدن سے بنائے گئے اثاثے اس ریفرنس کا حصہ نہیں بنائے گئے۔

پیراگراف نمبر 18
جسٹس اسجد جاوید نے لکھا ہے کہ شہباز شریف کے وکیل نے موقف اپنایا کہ ان کے موکل 70 سال کی عمر کو پہنچ چکے ہیں اور بیماری کی وجہ سے جیل کا ماحول ان کی صحت کے لئے صحیح نہیں ہے۔وکیل کی اس دلیل میں کوئی جان نہیں ہے کیونکہ نیب مقدمات کے ملزمان ساٹھ ستر سال کی عمر کے ہوتے ہیں جو اہم عوامی عہدوں پر رہے ہیں اس کے علاوہ بھی ستر سال کی عمر کی بنیاد پر رعایت دے کر ضمانت نہیں دی جا سکتی اگرچہ شہباز شریف کینسر سے بچ چکے ہیں ان کو کوئی بیماری نہیں ہے ان کی صحت بالکل ٹھیک ہے ان جیل کے اندر یا باہر جس طرح کی طبی سہولت کی ضرورت ہے وہ فراہم کی جا رہی ہے۔شہباز شریف کی صحت کے حوالے سے کوئی تازہ میڈیکل سرٹیفکیٹ بھی پیش نہیں کیا گیا۔

پیراگراف نمبر 19
جسٹس اسجد جاوید نے لکھا ہے کہ جہاں تک قومی اسمبلی میں حلقے کے نمائندے اور اپوزیشن لیڈر کے طور پر پیش ہونے کا معاملہ ہے تو اس بات میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ سپیکر کے جاری کردہ پروڈکشن آرڈر پر شہباز شریف ہر اہم سیشن میں شریک ہوتے رہے ہیں۔

پیراگراف نمبر 20
فاضل جج نے لکھا ہے کہ یہ بھی کہا گیا کہ 19 جنوری 2021 کو حمزہ شہباز کے مقدمے میں پیش کی گئی ٹرائل کورٹ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ابھی تک 110 گواہوں میں سے صرف دس کے بیانات ریکارڈ ہو سکے ہیں اور دس سے بارہ ماہ کیس کا ٹرائل مکمل ہونے میں لگ جائیں گے۔شہباز شریف کے وکیل نے یہ بھی کہا کہ ٹرائل کورٹ کے جج بھی موجود نہیں ہیں۔
نیب پراسیکیوٹر نے بتایا کہ لاہور میں پانچ نئی احتساب عدالتیں قائم کی جا رہی ہیں جن کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے یہ عدالتیں ایک ماہ کے اندر کام کرنا شروع کر دیں گی۔اس صورتحال میں شہباز شریف کے مقدمے کا ٹرائل چند ماہ میں مکمل ہو جائے گا۔

پیراگراف نمبر 21
جسٹس اسجد جاوید نے قرار دیا ہے کہ شہباز شریف 28 ستمبر2020 کو گرفتار ہوئے اور انوسٹیگیشن میں ثابت ہوا کہ وہ اس کیس میں ملوث ہیں۔وعدہ معاف گواہوں سمیت استغاثہ کے تمام گواہوں نے اپنے بیانات میں مکمل طور پر شہباز شریف کو اس کیس میں ملوث بتایا ہے اور ان کے خلاف دستاویزی ثبوت بھی موجود ہیں۔شہباز شریف نے اپنے خاندان کے افراد کے نام پر جعلی ٹی ٹیز کے ذریعے بے نامی دار اثاثے بنائے نیب حکام نے شہباز شریف کے آمدن اور اثاثوں میں تضاد پایا ہے جس کی وجہ سے ملک کی بد نامی ہوئی ہے۔فاضل جج نے لکھا ہے کہ شہباز شریف کے ساتھ اس جرم کا تعلق جوڑنے کے لئے کافی مواد ریکارڈ پر موجود ہے اس لئے وہ جو ریلیف مانگ رہے ہیں اس کے حقدار نہیں ہیں۔ْ

پیراگراف نمبر 22
شہباز شریف کی طرف سے ضمانت کے لئے دائر درخواست کوئی میرٹ نہیں رکھتی اس لئے مسترد کی جاتی ہے۔