مسلم ملکوں کو ساتھ ملا کر اسلامو فوبیا کے خلاف آواز اٹھائیں گے، عمران خان


اسلام آباد: وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ  مسلم ملکوں کو ساتھ ملا کر اسلامو فوبیا کے خلاف آواز اٹھائیں گے، کئی سیاسی و دینی جماعتیں اسلام کا غلط استعمال کرتی ہیں ،مظاہروں اور توڑ پھوڑ سے مغرب کو کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

ان خیالات کااظہار وزیر اعظم عمران خان نے مارگلہ ہائی وے کی تعمیر کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب سے وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے بھی خطاب کیا۔

وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ  جو میری مہم ہے اس سے ہم اس مسئلہ کا ہمیشہ کے لئے حل کریں گے  تاکہ کوئی بھی باہر بیٹھ کر ہمارے نبیۖ کی شان میں گستاخی نہ کرے۔  ہمارے ملک میں  بڑی  بدقسمتی ہے کہ کئی دفعہ ہماری سیاسی جماعتیں بھی  اور دینی جماعتیں اسلام کو غلط استعمال کرتی ہیں اور ایسا استعمال کرتی ہیں کہ اپنے ملک کو ہی نقصان پہنچادیتی ہیں ، دوسروں کو توکوئی  فرق پڑتا نہیں  لیکن ہم اپنے  ہی لوگوں کو اور ملک کو ہی نقصان پہنچا دیتے ہیں۔میں واضح کردوں ، اس ملک میں جو ہمارے لوگ ہیں وہ سب نبیۖ سے پیارکرتے ہیں۔ یہ وہ ملک ہے جو اسلام کے نام پر بنا تھا ۔

انہوں نے کہا کہ میں نے کہیں بھی اس طرح کا اپنے دین سے لگائو اور اپنے نبی ۖ سے عشق ، میں نے کسی ملک میں نہیں دیکھا جو ہمارے ملک میں ہے ۔   کہ ہم سب کا مقصد ایک ہے، یہاں ووٹنگ کروا لیں اور دنیا کے دیگر ممالک میں بھی ووٹنگ کروالیں، میں یقین سے کہتا ہوں کہ یہ لوگ سب سے زیادہ اپنے نبیۖاور دین سے پیارکرتے ہیں۔ مجھے افسوس ہوتا ہے کہ کئی دفعہ اس پیار کو غلط استعمال کیا جاتا ہے، کیا حکومت کو فکر نہیں ہے کہ جب ہمارے نبیۖ کی شان میں گستاخی ہوتی ہے تو کیا ہمیں تکلیف نہیں ہوتی، کیا کسی نے کسی کے دل کو چیر کے دیکھا ہے کہ کون نبیۖ سے  زیادہ پیارکرتا ہے اور کون کم کرتا ہے۔ جب اس کو غلط طریقہ سے استعما ل کرتے ہیںتو ہم اپنے دین کو فائدہ نہیں پہنچارہے۔ ہم جس ملک میں جرم ہوتا ہو ہم ان کو نقصان نہیں پہنچا رہے بلکہ ہم اپنے آپ کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ میں یقین دلاتا ہوں اور میرا اپنی قوم اور اپنے لوگوں سے وعدہ ہے کہ کوئی بھی پاکستان کی تاریخ میں اگر اس کے لئے دنیا میں مہم چلائے گا ، انشاء اللہ ایک وقت وہ آئے گا کہ مغرب کے ملکوں میں بھی لوگوں کو خوف آئے گا کہ وہ ہمارے نبیۖ کی شان میں گستاخی کرے، وہ اس لئے کہ اس کے لئے مہم چلانے کی ضرورت ہے ، ہم یہاں اپنے ملک میں مظاہرے کرکے اور توڑ پھوڑ کر کے مغرب کے اندر کوئی فرق نہیں پڑے گا، جدھر یہ گستاخی ہوتی ہے ان کو کوئی نقصان نہیں پہنچ رہا، اپنے آپ کو کررہے ہیںلیکن جو مہم میں چلائوں گا اور وہ مہم میں نے شروع کردی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مسلمان ملکوں کے سربراہوں کو ساتھ ملا کر ہم پوری طرح اپنا کیس پیش کریں گے اور یورپین یونین، اقوام متحدہ میں کررہے ہیں ، اس دبائو کی وجہ سے یہ جو بار،بار ہمیں تکلیف دی جاتی ہے کہ کسی مغربی ملک میں ہمارے نبیۖ کی بیحرمتی کی جاتی ہے ، ہمیں یہاں تکلیف ہوتی ہے ان کو وہاں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ جب ہم دنیا کے سب مسلمان ملکوں  کے سربراہوں کو اکٹھا کر کے مہم چلائیں گے  اور میں نے ان کو خط بھی لکھا ہے اس سے یہ فرق پڑے گا اور تب جاکرمغرب میں تبدیلی آئے گی، نہیں تو ہم اپنے ملک میں توڑ پھوڑ کرتے رہیں گے ، وہاں تو کسی کو کوئی فرق نہیں پڑے گا، بلکہ وہاں ہر تھوڑی دیر کے بعد کوئی نہ کوئی یہ فتنہ کردیتا ہے اور نقصان ہم اپنا کرلیتے ہیں۔

وزیر اعظم عمران خان انہوں نے کہا کہ  مارگلہ ہائی وے منصوبہ شروع کرنے پر مبارکباد دیتا ہوں ،  یہ بڑا پرانا منصوبہ تھا اور اس کا پلان بنا ہوا تھا لیکن یہ منصوبہ آگے نہیں بڑھ رہا تھا ۔ اسلام آباد میں جو ہمارے رہنے والے لوگ ہیں ان کو میں ایک چیز بتانا چاہتا ہوں کہ ہمیں اسلام آباد میں انفراسٹرکچر کو ٹھیک کرنے اور سڑکیں بنانے کی کیوں ضرورت ہے، گذشتہ20برس میں اسلام آباد کی آبادی ڈیڑھ گنا زیادہ بڑھی ہے۔ فرض کریں اگر 20سال پہلے اسلام آباد کی آبادی ایک لاکھ تھی تو یہ آج اڑھائی لاکھ پر پہنچ گئی ہے، جب آبادی بڑھتی ہے تو اس کے ساتھ انفرااسٹرکچر بھی بڑھنا چاہیے اور کئی سڑکوں پر دبائوبڑھنا شروع ہو گیا ہے اور یہ بڑھتا جائے گا۔ رنگ روڈ کا خیال  بڑا اچھا ہے، دنیا کے سب شہروں میں رنگ روڈ ہوتے ہیں کیونکہ وہ بھاری ٹریفک کو شہر سے باہر نکالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اسلام آباد میں جتنی بارش ہوتی ہے اتنی بارش لندن میں ہوتی ہے، یہ لوگوں کو اس کا اندازہ نہیں ہے، یہ اور بات ہے کہ ہمارے ہاں زیادہ تر برسات کے موسم میں بارش ہوتی ہے۔ یہ اسلام آباد کی خوبصورتی ہے کہ ہمالیہ کی پہاڑیاں یہاں سے شروع ہوجاتی ہیں ، مارگلہ ساتھ ہے، اس میں گرمی کم پڑتی ہے، اس میں موسم زیادہ ہیں، اسلام آباد ہرا بہت ہے۔ اسلام آباد کے لوگ خاص طور ماحولیات کی فکر کرتے ہیں کہ جب بھی آپ کچھ کریں تو ماحولیات کا تحفظ کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ میں سب کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ اگر  پاکستان کی تاریخ میں کوئی بھی حکومت اپنی ماحولیات کی فکر کرتی ہے  اور جس نے کی ہے تو وہ موجودہ حکومت ہے، آج تک یہاں درخت کٹے ہی ہیں کسی نے درخت لگائے نہیں، جب سے پاکستان بنا ہے ہم نے صرف 60کروڑ درخت لگائے ہیں اور انگریزوں کے لگائے ہوئے بڑے جنگلات چھانگا مانگا یا میانوالی میں کندیاں میں بہت بڑا جنگل تھا ، چیچہ وطنی اور دیپالپور میں انگریزوں نے بڑے جنگل بنائے ہوئے تھے، بڑے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ بجائے اور جنگل لگاتے ہم نے انہیں جنگلوں کو ختم کردیا۔ چھانگا مانگا میں 80فیصد جو پرانے درخت تھے وہ سب کاٹ دیئے ، کندیاں کا سارا جنگل ہی غائب ہو گیا،ہم نے اپنے ملک کے ساتھ بڑا ظلم کیا، اب ا س کے ہماری آنے والی نسلوں پر اس کے بڑے اثرات ہیں ، جو ہم نے ملک میں جنگل کاٹے ہیں اور نئے جنگل نہیں اگائے اس کا سب سے بڑا اثر موسم کی تبدیلی پر پڑے گا۔دنیا  کے اندر خوف آگیا ہے کہ موسم بدلتا جارہاہے کیونکہ دنیا کے اندر گرمی بڑھتی جارہی ہے اور گرمی بڑھنے سے آگے موسم پر بڑے اثرات پڑیں گے، خاص طور پر ہمارے ملک میں پانی کی کمی ہو گی، ہمارے ہاں زیادہ تر پانی پہاڑوں میں جو گلیشیئرز ہیں وہاں سے پانی آتا ہے جیسے جیسے موسم گرم ہو گا وہ گلیشیئرز پگھلیں گے تو آگے جاکرہمیں بہت پانی کے مسئلے آنے والے ہیں، ویسے بھی پاکستان میں پانی کے مسائل ہیں۔ مصرکے بعد ہم دوسرا ملک ہیں جہاں سب سے کم پانی دستیا ب ہے، بھارت میں ہم سے دوگنا پانی ہے، اگر ابھی سے ہم نے اپنی ماحولیات کا خیال نہ رکھا تو آگے آنے والی نسلوں کے بہت برے حالات ہوں گے۔

مزید پڑھیں: معاشی معاملات میں استحکام کیلئے شوکت ترین  بہتر پلاننگ سے کام کریں گے:عمران خان

ان کا کہنا تھا کہ ہم زور لگاتے ہیں کہ ہمارے جو درخت ہیں اور جو ہمارا گرین کور ہے اس کا کم ازکم نقصان ہو اور اگر کوئی درخت کاٹیں بھی تو اس کو پوری طرح ری پلیس کریں۔ میں سی ڈی اے چیئرمین سے پوری بریفنگ لی، خدشہ تھا کہ یہ جو نیا  رنگ روڈ  بن رہا ہے یہ مارگلہ پارک کے بیچ میں سے جارہا ہے  ، یہ بالکل غلط ہے  بلکہ اس سے مارگلہ کی نیشنل پارک بچے گی، یہ سڑک دیوار بن جائے گی کہ پارک کے اوپر کوئی تجاوزات نہ ہوں۔ مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے ہرے علاقوں میں جو ہمار ے پارکس ہیں ان میں  گذشتہ20سالوں میں بڑی تیزی سے تجاوزات ہوئی ہیں۔ اس سڑک کی تعمیر سے سیاحت کو بھی بڑا فائدہ ہو گا، جو ہماری ساری ٹریفک جا کر بہارہ کہو میں پھنس جاتی ہے ، گرمیوں میں جب لوگ گلیات جاتے ہیں تو وہاں میلوں کی ٹریفک جام ہو جاتی ہے۔ یہ رنگ روڈ اسلام آباد میں بڑھتی ہوئی آبادی کا مسئلہ حل کرے گا۔