ہاتھی تو ایک جیسے ہوتے ہیں،جسٹس قاضی


اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان نے صوبائی دارالحکومت پشاورمیں قائم چڑیا گھر کے لئے ہاتھی درآمد کرنے کیلئے دائر مقدمہ میں وفاقی حکومت سے موقف طلب کرتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل دو ہفتوں میں ہاتھی درآمد کرنے کے طریقہ کار سے متعلق تفصیلی جواب جمع کرائیں

جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے پشاور چڑیا گھر کیلئے زمبابوے سے دو ہاتھی درآمد کرنے سے متعلق کیس کی سماعت کی ۔

دوران سماعت درخواست گزار کے وکیل نے موقف اپنایا کہ خیبرپختوخواہ حکومت ہاتھی درآمد کرنے میں ہمارا ساتھ دے رہی ہے۔بنگالی ٹائیگر اور زیبرے سمیت باقی جانور درآمد کرنے کا این او سی مل چکا ہے۔وفاقی حکومت زمبابوے سے دو ہاتھی درآمد کیلئے این او سی جاری نہیں کر رہی۔ قانون کے مطابق ہاتھی درآمد کرنے کیلئے صرف ہاتھی فراہم کرنے والے ملک کی اجازت درکار ہوتی ہے۔

بینچ کے رکن جسٹس یحی خان آفریدی نے استفسار کیا کہ وفاقی حکومت کس قانون کے تحت این او سی جاری نہیں کر رہی,جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے موقف اپنایا کہ جانوروں کی درآمد سے متعلق قانون اور رولز پڑھ کر جواب دینے کی مہلت دی جائے۔

جسٹس قاضی محمد امین نے کہا اسلام آباد ہائیکورٹ نے بھی ہاتھی سے متعلق فیصلہ دے رکھا ہے۔جس پر درخواست گزار کے وکیل نے کہا اسلام آباد ہائیکورٹ میں ہاتھی سے متعلق مقدمہ اور نوعیت کا تھا۔

جسٹس قاضی محمد امین نے مسکراتے ہوئے کہا مقدمہ اور نوعیت کا ہوگا مگر ہاتھی تو ایک جیسے ہوتے ہیں,جس کے بعد عدالت نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرتے ہوئے مزید سماعت دو ہفتوں کیلئے ملتوی کردی ۔

یاد رہے کہ کنٹریکٹر پشاور چڑیا گھر محمد حنیف نے پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ سے رجوع کر رکھا ہے۔