حکومت سٹریٹ چلڈرن کے مسائل حل کرنے میں ناکام،،11ملین بچے مزدوری پر مجبور

اسلام آباد:قومی کمیشن برائے انسانی حقوق کے چیئرمین جسٹس (ر) علی نواز چوہان نے انکشاف کیا ہے پاکستان بچوں کے تحفظ کے حوالے سے 182 ممالک میں 154ویں نمبر پر ہے جبکہ بچوں کے تحفظ کے حوالے سے ایران، بنگلہ دیش ، بھارت ،سری لنکامیانمار اور نیپال بھی پاکستان سے آگے ہیں ۔ ملک میں 45فیصد بچے خوارک کی کمی کا شکار ہیں جس کی وجہ سے ان کی جسمانی ساخت ،تاثر ہوتی ہے 44 فیصد بچے سکول نہیں جاتے جن کی تعداد 22.60ملین ہے یہ اعداد وشمار ملک کے لئے تباہ کن ہیں جبکہ حکومت سٹریٹ چلڈرن کے مسائل سے نمٹنے میں بھی یکسر ناکام رہی ہے ، ان کا کہنا تھا کہ بچوں سے جبری مشقت اور چائلڈ لیبر کا راستہ روکنے کیلئے قانون سازی بھی نہیں کی جاسکی۔ اس وقت ملک میں 11ملین بچے مزدوری کرنے پر مجبور ہیں

نیشنل کمیشن برائے انسانی حقوق (این سی ایچ آر )کے چیئرمین جسٹس (ر)علی نواز چوہان نے بچوں کے حقو ق کے حواے سے گلوبل رینکنگ (عالمی درجہ بندی ) کے 182ممالک میں پاکستان کی سب سے نچلی رینکنگ 154ویں ممبر پر ہونے پر انتہائی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے پاکستان کے لئے بڑا لمحہ فکریہ قرار دے دیا۔چیئر مین این سی ایچ آر ،چائلڈ پروٹیکشن سیکشن یونیسف کی چیف Salvia Pasvia ,،ویلری خان سمیت دیگر نے پاکستان کی جانب سے بچوں کے حوالے سے انٹرنیشنل کنونشن پر دستخط کرنے کے 30سال گزرنے کے باوجود معاہدے پر تاحال مکمل طور پر عمل درآمد نہ کروانے پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا۔مقررین نے انٹر نیشنل کنونشن برائے چائلڈ اور پاکستان میں بچے کی تعریف (عمر کے تعین )جبکہ پاکستان کے مختلف قانونین میںبچے کی عمر کے تعین میں یکسانیت نہ ہونے اور کہیں 15,16,17,18سال کے ذکر پر بھی شدید تشویش اور حیرت کا اظہار کیاہے۔گزشتہ روزنیشنل کمیشن برائے انسانی حقوق (این سی ایچ آر)نے انٹر نیشنل کنونشن برائے چائلڈ ( سی آر سی )پر پاکستا ن کی جانب سے دستخطوں کے تیس سال مکمل ہونے پر بچوں کے حقوق و تحفظ پر کام کرنے والی مختلف تنظیموں اور اداروں کے ہمراہ سیمینار کاانعقاد کیا ۔اس موقع پر چیئر مین این سی ایچ آر جسٹس (ر)علی نواز چوہان نے کہا کہ پاکستان کو سی آر سی پر دستخط کئے ہوئے تیس سال گزر چکے ہیں لیکن آج بھی پاکستان کے قوانین اور سی آر سی میں فرق کا علم ہی نہیں ہے ۔انہوں نے کہا کہ اس وقت بچوں کی ایک بہت بڑی تعداد سکولوں سے باہر ہے جو کہ ہم سب کے لئے لمحہ فکریہ ہے ،بچوں کو ان کے حقوق نہیں مل رہے ،45فیصد بچوں کو مناسب غذا نہیں مل رہی ،اس وقت پاکستان میں 23ملین بچے سکولوں سے باہر ہیں۔انہوں نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے آگاہ کیا کہ بچوں کے حوالے سے عالمی رینکنگ میں پاکستان انتہائی نچلی سطح پر ہے جبکہ اس رینکنگ میں بھارت 120،ایران 100،بنگلہ دیش 113،سری لنکا 129،میانمر 130اورنیپال 139جبکہ پاکستان 154نمبر پر ہے ،یہ عالمی انڈیکس بنیادی طور پر ان ممالک میں صحت، تعلیم اور بچوں کے تحفظ سے متعلق اشارے پر مبنی ہے۔انہوں نے کہا کہ 24فیصد پاکستان غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزاررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بچے کی بین الااقوامی تعریف کے مطابق اٹھارہ سال سے کم عمر شہری بچے میں شامل ہے اس حساب سے پاکستان کی 47فیصد آبادی بچوں پر مشتمل ہے،انہوں نے کہا کہ پاکستان نے بچوں کے حقوق پر اقوام متحدہ کے کنونشن پر دستخط اور اس کی منظوری دی ہے جو قوانین کو بنانے اور ان پر عمل کرنے پر توجہ مرکوز کرتی ہے اوربچے کے حقوق کی حفاظت کرنے کے حوالے سے عملی اقدامات کرتی ہے، لیکن حکومت پاکستان اپنی پالیسیوں میں گلی محلے کے بچوں کے حقوق کو شامل کرنے کی پرواہ تک نہیں کرتی ہے۔ممبر چائلڈ فرینڈلی پالیسی چوہدری شفیق نے کہا کہ وہ بچوں کے قوانین ،حقوق اور تحفظ کے حوالے سے اسلام آبادپولیس کے ساتھ مل کر پولیس کی ٹریننگ کررہے ہیں کہ کس طرح بچوں کے ساتھ پیش آنا ہے ۔سپارک کے نمائندے سجاد چیمہ نے کہا کہ پاکستان انٹر نیشنل کمیٹی برائے سی آر سی کی سفارشات پر عمل درآمد کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہا ہے تاہم حکومت پاکستان کو 2021میں بچوں کے مذکورہ کمیٹی کے سامنے پیش ہونا ہے۔ویلری خان نے کہا کہ ملک میں بچوں کے حقوق اور تحفظ کے حوالے سے فوری طور پر ایمرجنسی نافذ کی جائے ۔ممبراین سی ایچ آر خلجی نے کہا کہ بچوں کے ساتھ ساتھ ٹرانس جینڈر کے تحفظ اور حقوق کے حقولے سے بہت کام کی ضرورت ہے ،ٹرانس جینڈر اور خواجہ سراہ بچے اپنے گرو کے ڈیروں پر ایک ظالمانہ اورغلامانہ زندگی گزار رہے ہیں،ان کے والدین نے بھی انہیں گرو کے رحم و کرم پر چھوڑ دیاہے اور یہ ٹرائنس جینڈر انتہائی پست زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔یونیسف کی نمائندہ Salvia Pasvia نے کہا کہ وہ حکومت کو بچوں کے حوالے سے اپنی مدد فراہم کررہے ہیں،اوراین سی ایچ آر کے ساتھ مل کر بچوں کے لئے پاکستان میں موجود قوانین کو سی آر سی کے قوانین سے ہم آہنگ کرنے کیلئے قانون سازی کررہی ہیں۔پروفیسر جاویدنے کہا کہ یہ امر انتہائی تشویش ناک اور حیرت انگیز ہے کہ ہمارے ملک کے مختلف قوانین میں بچوں کی عمر سے متعلق مختلف تعریفیں درج ہیں کہیںپر عمر کی حد اٹھارہ سال تو کسی قانونی میں عمر کی حد پندرہ سے سولہ سال ہے،جبکہ بین الاقوامی قوانین میں 18سال سے کم عمر کوبچوں میں شمارکیاگیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم آج تک بچے کی عمر کی حد کا تعین نہیں کرسکے ہم کیسے ان کے لئے قانون سازی اوران قوانین پرعمل درآمد کو یقینی بنا سکتے ہیں ۔