پاک چین دوستی قیمتی اسٹرٹیجک اثاثہ بن چکی ہے،چینی وزیر خارجہ


اسلام آباد:چین کے وزیر خارجہ وانگ ای  نے کہا ہے کہ کہ پاک چین دوستی دونوں ممالک کا سب سے قیمتی اسٹرٹیجک اثاثہ بن چکی ہے۔ اپنے بیان میں چین کے وزیر خارجہ نے کہا کہ پاک چین دوستی کی تاریخ بہت طویل ہے۔ جیسا کہ چین کے آنجہانی وزیراعظم چو این لائی نے ایک مرتبہ کہا تھا کہ چین اور پاکستان کے عوام کے دوستانہ تبادلوں کی شروعات کا مشاہدہ تاریخی ادوار سے ہی کیا جاسکتا ہے۔

قدیم شاہراہ ریشم نے دو ہزار سال قبل ہی چین اور پاکستان کو مربوط کردیا تھا۔ دونوں ممالک کے عوام کے مابین قدیم وقتوں میں اونٹ کی گھنٹیوں کے ساتھ قائم ہونے والے تعلقات ایک طویل تاریخی عمل کے نتیجے میں اس وقت مضبوط ترین پاک چین دوستی میں تبدیل ہوچکے ہیں، جس میں روزبروز مزید پختگی آتی جارہی ہے۔پاک چین دوستی کی جڑیں انتہائی مضبوط ہیں۔

دونوں ممالک ایک دوسرے کے کلیدی مفادات اور اہم تحفظات سے وابستہ امور میں ہمیشہ ایک دوسرے کی مضبوطی سے حمایت کرتے ہیں خواہ بیرونی ناکہ بندی کو توڑتے ہوئے عوامی جمہوریہ چین کی سفارت کاری کو فروغ دینے کا کلیدی موقع ہو یا پھر پاکستان کو درپیش ملکی بحران اور قومی وقار کے دفاع کے کلیدی لمحات، چین اور پاکستان ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہوئے ہیں اور عملًا ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر حقیقی دوستی کا مظاہرہ کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاک چین دوستی کی جڑیں عوام کے دلوں میں گھر کرچکی ہیں۔ دونوں ممالک کے عوام کسی بھی آزمائش میں ہمیشہ ایک دوسرے کی فوری امداد کرتے رہے ہیں،حمایت و امداد کے یہ جذبات غیر مشروط اور مخلصانہ طور پر دوستی کے بے لوث جذبے کے بہترین ترجمان ہیں،2008 ء میں چین کے ون چھوان شہر میں شدید زلزلہ آیا، اس موقع پر پاکستان نے فوری طور پر اپنے پاس موجود تمام خیمے چین کے زلزلہ زدہ علاقوں کو فراہم کردیئے، 2007 ء میں پاکستان کو شدید سیلاب کا سامنا کرنا پڑا۔ اس مشکل گھڑی میں چین زمینی و فضائی ذرائع سے عوامی جمہوریہ چین کی تاریخ میں وسیع ترین بین الاقوامی انسان دوست امدادی سرگرمیاں عمل میں لایا۔ عظیم دوستی کا سفر ایسی لاتعداد کہانیوں سے بھرا پڑا ہے۔

پاک چین دوستی کو دونوں ممالک کے عوام کی بھرپور تائید اور حمایت حاصل ہے۔ پاک چین تعلقات نئی صدی میں داخل ہونے کے بعد بھی روایتی گرم جوشی سے جاری ہیں جبکہ گزرتے وقت کے ساتھ اعلیٰ درجے کا معیاری تعاون فروغ پارہا ہے،پاک چین دوستی دونوں ممالک کا سب سے قیمتی اسٹرٹیجک اثاثہ بن چکی ہے ، 2015 میں چینی صدر شی نے پاکستان کا تاریخی سرکاری دورہ کیا اور پاکستانی قیادت کے ساتھ مل کر پاک چین تعلقات کو چاروں موسموں کے تزویراتی شراکت دارانہ تعلقات تک آگے بڑھایا، جس سے پاک چین دوستانہ تبادلوں کا ایک نیا باب شروع ہوا۔

چین کے وزیر خارجہ وانگ ای نے کہا کہ دونوں ممالک نے ہمیشہ اعلی سطح کے قریبی تبادلوں کو برقرار رکھا ہے۔ دونوں ممالک کے صدور اور حکومتی سربراہوں نے دوطرفہ دوروں، ٹیلی فونک مشاورت، کثیرالجہتی کانفرنسوں میں شرکت کے ذریعے تبادلے کو برقرار رکھا ہے، دوطرفہ تعاون اور مشترکہ دلچسپی کے اہم تزویراتی مسائل پر گہرائی سے تبادلہ خیال کیا گیا، پاک چین تعلقات کی ترقیاتی سمت کا مضبوطی سے تعین کرتے ہوئے دوطرفہ تعلقات کیلئے اسٹرٹیجک رہنمائی فراہم کی گئی اور دونوں ممالک کے اسٹرٹیجک تعاون میں نئی جہتوں کو مسلسل فروغ دیا گیا،دونوں ممالک کے حقیقت پسندانہ تعاون کی بدولت نمایاں ثمرات حاصل ہوئے ہیں۔

فریقین نے پاک چین اقتصادی راہداری کے تحت مرکزی منصوبے گوادر بندرگاہ اور نقل و حمل کے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر سمیت توانائی منصوبہ جات اور صنعتی تعاون کے لیے ون پلس فور ڈھانچہ کامیابی سے تشکیل دیا ہے۔اقتصادی راہداری کے تحت فریقین نے ارلی ہاروسٹ کے 70 منصوبوں کا مشترکہ تعین کیا، جن میں 46 منصوبوں کو یا تو مکمل کیا جاچکا ہے یا پھر تعمیراتی سرگرمیاں جاری ہیں۔ تاحال 25.40 ارب امریکی ڈالرز کی سرمایہ کاری کی جاچکی ہے جبکہ پاکستان میں روزگار کے 70 ہزار مواقع فراہم کیے گئے ہیں۔ سی پیک بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو کا ایک مثالی نمونہ بن چکا ہے، جس نے چین اور دوسرے اسلامی ممالک کے درمیان ترقیاتی حکمت عملیوں کو مربوط کرنے میں غیر معمولی کردار ادا کیا ہے۔

چین اور پاکستان کے درمیان رنگارنگ افرادی و ثقافتی تبادلوں کو فروغ مل رہا ہے۔ دونوں ممالک ثقافتی مہینوں، فلم ویک، سیاحتی سال، قومی تہواروں سمیت دیگر سرگرمیوں کا وقتا فوقتاً اہتمام کرتے چلے آرہے ہیں۔ فریقین کے درمیان میڈیا، تھنک ٹینک، اسکالرز، تعلیم، ثقافت، کھیلوں سمیت دیگر شعبوں میں تبادلوں و تعاون کو مسلسل آگے بڑھایا جارہا ہے،2015 میں فریقین نے پاک چین دوستانہ تبادلوں کا سال سمیت سلسلہ وار ثقافتی سرگرمیوں کا کامیابی سے انعقاد کیا جس سے دونوں ممالک کے دوستانہ تبادلوں کو ایک نیا عروج ملا ہے۔ حالیہ برسوں میں نسل در نسل دوستی کے تصور کی روشنی میں 100 نوجوانوں پر مشتمل وفود نے کامیابی سے ایک دوسرے کیممالک کے دورے کیے ہیں جسے وسیع پیمانے پر سراہا گیا ہے۔

مزید پڑھیں: لداخ میں چین  بھارت کشیدگی کے دوران چینی ہیکرز نے بھارت پر بڑا حملہ کیا تھا،رپورٹ میں انکشاف

چین میں زیر تعلیم پاکستانی طلبا کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ پاک چین دوستی کی میراث مضبوط تر ہوتی جارہی ہے جو دوطرفہ تعلقات کی ترقی کیلیے ٹھوس بنیاد فراہم کررہی ہے۔دونوں ممالک کے درمیان قریبی کثیرالطرفہ تعاون فروغ پارہا ہے۔ چین اور پاکستان نے اقوام متحدہ کے منشور کی روشنی میں عالمی قواعد و ضوابط کی ہمیشہ پاسداری کی ہے۔ دونوں ممالک کثیرالجہتی، آزاد تجارت، تعاون اور مشترکہ مفادات کی حمایت، یکطرفہ پسندی، تحفظ پسندی اور بالادستی کی مخالفت میں یکساں نظریات کے حامل ہیں۔ دونوں ممالک موجودہ بین الاقوامی آرڈر اور اقوام متحدہ کی مرکزی حیثیت سے عالمی نظام کے تحفظ کیلئے کوشاں ہیں اور پرامن مذاکرات اور مشاورت کے ذریعے تنازعات و اختلافات کو بخوبی حل کرنے کی حمایت کرتے ہیں۔