پاکستان، بھارت کے درمیان تمام حل طلب معاملات کی کنجی کشمیر ہے،اے ایس دلت


نئی دہلی: بھارتی خفیہ ادارے  را  کے سابق سربراہ  اے ایس دلت نے کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تمام حل طلب معاملات کی کنجی کشمیر ہے۔کے پی آئی  کے مطابق  بھارتی اخبار ٹربیون میں لکھے گئے مضمون میں الت نے کہا ہے کہ  معاملات کے حل کے لیے بھارت ایک قدم آگے بڑھانا چاہتا ہے تو پاکستان دو کے لئے تیار ہوگا۔ ہر طرف سے آنے والے ہر پیغام سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان امن کے لئے تیار ہے۔

انہوں نے کہا کہ کشمیر کو کسی بھی چیز سے زیادہ امن کی خواہش ہے۔ جموں وکشمیر میں جنگ بندی معائدے کا احترام کرنے کا فیصلہ اہم ہے ، کشمیری رہنماوں فاروق عبد اللہ ، محبوبہ مفتی اور میر واعظ عمر فاروق ، نے بھی اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے ۔اے ایس دلت نے یہ بھی دعوی کیا کہ آرٹیکل 370 کے خاتمے کے معاملے پر بھی پاکستان سے صلح ہو سکتی ہے۔ پاکستان  لائن آف کنٹرول پر تصفیہ کے لئے اتفاق رائے کے لیے  کام کر رہا ہے  ۔

مزید پڑھیں: بھارت مقبوضہ کشمیر میں ظلم،دہشتگردی کو بندکرے، محمد غالب

اس معاملے  پر سابق بھارتی وزیر اعظم منموہن سنگھ اور جنرل پرویز مشرف قریب آگئے تھے۔  جنرل مشرف نے ہمیشہ سے یہ بات پیش نظر رکھی  کہ جو کچھ بھی کشمیریوں کے لئے قابل قبول ہے وہ پاکستان کو قبول ہوگا۔ پاکستان ، جو بلا شبہ آرٹیکل 370 کے خاتمے سے چونک گیا تھا ، اب آرٹیکل 370 اور 35 پر صلح ہو سکتی ہے۔ یاد رہے  اے ایس دلت   بھارتی وزیر اعظم کے دفتر میںجنوری 2000 سے مئی 2004 تک خدمات انجام دے چکے ہیں ۔