مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں کو خود کشی سے بچانے کے لیے نفسیاتی کورسز کا آغاز


 سری نگر: مقبوضہ کشمیر میںبھارتی فوجیوں میں خود کشی کے بڑھتے ہوئے رحجان کے پیش نظر جوانوں کے لیے نفسیاتی کورسز کا آغاز کر دیا گیا ہے ۔ بھارتی فوج ، نیم فوجی دستوں اور پولیس کے جوانوں میں خودکشی کے بڑھتے ہوئے رجحان نے  بھارتی فوجی حکام کو پریشان کر دیا ہے ۔

نفسیاتی یا ذہنی دباوء کے پیش نظر، ہندوستانی حکومت نے اپنے مسلح اہلکاروںکے لئے نفسیاتی کورسز کا آغاز کیا ہے۔ مقبوضہ جموں و کشمیرجموں میں بارڈر سکیورٹی فورس(بی ایس ایف)  کے جوانوں کے لیے  ورکشاپ کے نام پر چھ روزہ کورس  شروع ہو گیا ہے ۔ بی ایس ایف  کے ایک اعلی افسر نے بتایا  کہ پہلے مرحلے میں 90 اہلکار اس پروگرام میں شامل ہوں گے۔

کے پی آئی  کے مطابق بی ایس ایف کے ڈی آئی جی ایس پی ایس سندھو نے کہا کہ آرٹ آف لیونگ (اے او ایل )فانڈیشن کے تعاون  سے ورکشاپ کا مقصد  جوانوں میں ذہنی دبا کو کم کرنا ہے ۔۔یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ2007    کے بعد ہندوستانی فوج ، نیم فوجی دستوں اور پولیس کے 490 اہلکاروں نے خود کشی کی ہے جبکہ سیکڑوں افراد نے اپنی جان لینے کی کوشش کی ہے۔سری نگر میں تعینات ایک فوجی جوان گگن جاہ نے پیر کی صبح اپنی ہی سروس رائفل سے اپنے آپ کو گولی مار کر خود کشی کرنے کی کوشش کی۔  سری نگر کے بمنہ علاقے میں تعینات شاسترا سیما بل (ایس ایس بی )کے اہلکار نے اپنی ہی سروس رائفل سے اپنے آپ کو گولی مار کر زخمی کر دیا۔

مزید پڑھیں:بھارت مقبوضہ کشمیر میں ظلم،دہشتگردی کو بندکرے، محمد غالب

زخمی اہلکار کو علاج و معالجے کے لئے جے وی سی اسپتال بمنہ منتقل کیا گیا ہے۔ بھارتی حکومت کے  اعداد وشمار کے مطابق سال 2010 سے 2019 تک بھارت  میں 1113 فوجی اہلکاروں کی خودکشی کے 1113  واقعات رپورٹ کیے گئے۔۔وزیر مملکت برائے دفاعی امور شریپد نائیک نے گزشتہ برس دسمبر میں لوک سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں کہا کہ خودکشی کے ان 1113 کیسز میں سے فوج میں 891، بھارتی فضائیہ میں 182 اور بحری فوج میں 40 اہلکاروں نے یہ انتہائی قدم اٹھایا۔