ن لیگ کے 2ارکان کو سینیٹ الیکشن میں ووٹ کاسٹ نہ کرنے کے فون موصول ہوئے ہیں:شاہد خاقان عباسی کا دعویٰ

Internet Photo

اسلام آباد:سابق وزیراعظم و مسلم لیگ(ن) کے رہنما شاہد خاقان عباسی نے دعویٰ کیا ہے کہ ن لیگ کے 2ارکان  کو سینیٹ الیکشن میں ووٹ کاسٹ نہ کرنے  کے فون موصول ہوئے ہیں ہم واقعات کی تصدیق کے بعد معاملہ سب کے سامنے رکھیں گے۔ اگر معاملہ نیوٹرل رہا تو یوسف رضا گیلانی جیت جائیں گے ۔

نجی ٹی وی  کے پروگرام میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ آج ہر ایم این اے ملکی حالات دیکھ رہا ہے۔ اسے ملک مشکل میں نظر آتا ہے  جب وہ اپنے حلقے میں جاتا ہے تو لوگ بڑی سختی سے پیش آتے ہیں۔ امید ہے کہ شہباز شریف  ،خواجہ آصف، خورشید شاہ سینیٹ الیکشن میں اپنا حق استعمال کریں گے۔ حکومت سے تنگ لوگ  سینیٹ الیکشن میں ووٹ کے ذریعے اپنی سیاست  تبدیل کررہے ہیں۔ اگر یوسف رضا گیلانی کے ووٹ زیادہ ہوئے تو اس کا یہ مطلب ہوگا کہ حکومت اکثریت کھوچکی ہے اور پھر حکومت کیلئے گورننس مشکل ہو جائے گی۔ پی ٹی آئی  کے بہت سے لوگ ایسے ہیں جوکہتے ہیں ہمیں اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کہ ہم کس جماعت کے  ٹکٹ پر منتخب ہوئے تھے ۔

انہوں نے کہا کہ ملک نہیں چل رہا حکومت مشکل میں ہے ۔ہم اپنے ووٹر کے مسائل حل نہیں کرسکے۔ اگر وہ کھل کر سامنے  آگئے تو حکومت کی اکثریت ختم ہو جائے گی۔ حکومت کی مورل اتھارٹی ختم ہو جائے گی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ملکی معاملات کا حل ہی نئے الیکشن میں ہے ۔ 2018 کا الیکشن انتہائی  متنازعہ ہے اور اس کے نتیجے میں آنے والی حکومت ناکام رہی ہے۔ ایسے حالات کا ملک متحمل نہیں ہوسکتا۔ حکومتی اتحادیوں نے بھی الیکشن لڑنا ہے۔ اگر حکومت ناکام ہورہی ہے تو وہ حکومت کے مزید اتحادی بن کر اپنی سیاست تباہ نہیں کریں گے۔ وہ ضرورعلیحدگی  چاہیں گے۔

شاہدخاقان عباسی  نے کہاکہ بہتر تو یہی ہے حکومت نئے الیکشن کا اعلان کردے تاکہ لانگ مارچ کی نوبت ہی نہ آئے۔ اگر ایسا نہ ہواتو لانگ مارچ ضرور ہوگا۔ 26مارچ کی لانگ مارچ  پر پی ڈی ایم کی تمام جماعتیں متفق ہیں۔ عدم اعتماد کا فیصلہ پی ڈی ایم کا ہوگا۔ ہمارا موقف ہے ہمیں اس نظام کا حصہ نہیں بننا چاہیے۔ میں اس بات کا حامی ہوں کہ  ہر حکومت پانچ سال پورے کرے مگر جب نظام نہ چل رہا ہو ملکی معیشت تباہ ہوتو پھر حکومت کو مزید چلنے کا کوئی حق نہیں۔