لداخ میں چین  بھارت کشیدگی کے دوران چینی ہیکرز نے بھارت پر بڑا حملہ کیا تھا،رپورٹ میں انکشاف


نئی دہلی: بھارتی حکومت کو پیش کی گئی  رپورٹ میں انکشاف کیا گیاہے کہ  لداخ میں چین  بھارت کشیدگی کے دوران چینی ہیکرز نے  بھارت میں بجلی سپلائی کرنے دس کمپنیوں، دو بھارتی بندرگاہوں سمیت کئی اہم تنصیبات کو سائبر حملوں کا نشانہ بنایا تھا۔ ممبئی میں بجلی کی ترسیل میں بڑے پیمانے پر خرابیاں پیدا ہوگئی تھی، جس کی وجہ سے ٹرینوں کی آمدورفت رک گئی تھی،

ہسپتال بند ہوگئے تھے اور اسٹاک اکیسچینج بھی کئی گھنٹے تک بند رہا تھا۔ مغربی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق  بھارتی  حکومت کو پیش کی گئی ایک تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق لداخ میں سرحدی کشیدگی کے دوران چین نے بھارت میں بجلی سپلائی کرنے والی متعدد تنصیبات کو سائبر حملوں کا نشانہ بنایا تھا۔ حکومت نے اس انکشاف پر فی الحال کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

ایک تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ لداخ میں سرحد پر جس وقت بھارت اور چین کے درمیان سخت فوجی کشیدگی پیدا ہوگئی تھی اور دونوں ملکوں کی افواج ایک دوسرے کے آمنے سامنے آگئی تھیں اسی دوران چین نے بھارت میں بجلی سپلائی کرنے والی کئی اہم تنصیبات کو سائبر حملوں کا نشانہ بنایا تھا۔ ممبئی میں بجلی کی ترسیل میں زبردست رکاوٹ اس کی ایک واضح مثال ہے۔ گزشتہ برس جون میں گلوان وادی میں چینی فوج کے ساتھ جھڑپ کے دوران بیس بھارتی جوانوں کی ہلاکت کے بعد جب دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی اپنے عر وج پر تھی،

اسی دوران چین نے بجلی فراہم کرنے والی تنصیبات پر سائبر حملے کیے تھے۔اکتوبر سن2020 میں بھارت کے اقتصادی دارالحکومت ممبئی میں بجلی کی ترسیل میں بڑے پیمانے پر خرابیاں پیدا ہوگئی تھی، جس کی وجہ سے ٹرینوں کی آمدورفت رک گئی تھی، ہسپتال بند ہوگئے تھے اور اسٹاک ایکسچنج بھی کئی گھنٹے تک بند رہا تھا۔ رپورٹ میں مبینہ طورپر کہا گیا ہے کہ یہ چینی ہیکرز کی کارستانی ہو سکتی ہے۔ چین نقصاندہ سافٹ ویئر(Malware) بھارت میں بجلی سپلائی کے نظام میں داخل کرنے میں غالبا کامیاب ہوگیا تھا۔رپورٹ کے مطابق غالبا چین سے تعلق رکھنے والا ایک گروپ RedEcho   ہیکنگ میں ملوث تھا ۔

ممبئی میں بجلی کی ترسیل میں ہونے والی خرابی کی جانچ سے اس سلسلے میں اضافی شواہد” ملے ہیں۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ چینی ہیکرز  ہیکنگ کے جدید ترین طریقہ کار کا استعمال کرتے ہوئے منظم حملے کرتے ہیں اور اس کی وجہ سے بھارت کی انتہائی حساس تنصیابت ان کی زد پر ہیں۔سائبر ہیکنگ اور کمپیوٹر نظام میں نقصان دہ کوڈ کی موجودگی کا پتہ ایک امریکی کمپنی ریکارڈیڈ فیوچر نے لگایا ہے، جو اس طرح کے آن لائن ڈیجیٹل خطرات کا تجزیہ کرتی ہے۔ اس نے انکشاف کیا کہ بیشتر Malware ابھی بھی ایکٹی ویٹ نہیں ہوئے اور چونکہ ریکارڈیڈ فیوچر کو بھارت کے بجلی کے نظام تک رسائی نہیں ہے اس لیے وہ خود اس کوڈ کی تفصیلات کا جائزہ نہیں لے سکی جو ملک بھر میں ا نتہائی اہم بجلی کے نظام تقسیم میں داخل کردیے گئے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت میں بجلی فراہم کرنے والی کم از کم دس اہم کمپنیوں کو نشانہ بنایا گیا تھا اور ان میں ملک بھر میں علاقائی سپلائی کے پانچ میں سے چار مراکز شامل ہیں۔ اس کے علاوہ دو بھارتی بندرگاہوں کو بھی نشانہ بنایا گیا تھا۔ریکارڈیڈ فیوچر کا کہنا ہے بجلی کی فراہمی سے وابستہ تنظیموں کو نشانہ بنانے کے واضح  ثبوت پائے گئے ہیں۔ بھارت میں بجلی پیدا کرنے اور ٹرانسمیشن سیکٹر سے وابستہ انتہائی اہم سمجھے جانے والے بارہ اداروں کی مجموعی طور پر 21 آئی پی ایڈریسیز کو نشانہ بنایا گیا تھا۔بھارت کے ایک سابق فوجی جنرل کا کہنا ہے کہ یہ سائبر حملے چین کی طرف سے وارننگ تھی۔ممبئی میں گزشتہ اکتوبرمیں ہونے والے بلیک آٹ کے بعد بھارتی میڈیا نے چینی سائبر حملوں کا امکان ظاہر کیا تھا۔

تاہم بھارتی عہدیداروں نے اس پر مکمل خاموشی اختیار کر لی تھی۔بھارت کے سابق فوجی افسر اور سن 2016 میں لائن آف کنٹرول کے پار سرجیکل اسٹرائیک کی ذمہ داری سنبھالنے والے ریٹائرڈ لفٹننٹ جنرل ڈی ایس ہوڈا کا کہنا ہے کہ یہ چینی سائبر حملے غالبا بیجنگ کی جانب سے بھارت کو ‘اشارہ دینے کے لیے کیے گئے ہوں گے۔جنرل ڈی ایس ہوڈا نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا،میں سمجھتا ہوں کہ یہ چین کی جانب سے ایک اشارہ تھا کہ ہم یہ کر سکتے ہیں اور بحران کے وقت ہمار ے اندر ایسا کچھ کرنے کی صلاحیت ہیں۔ یہ ایک طرح سے بھارت کو وارننگ دینے کے مترادف ہے۔