صدارتی ریفرنس پر سپریم کورٹ کی رائے کا مکمل اردومتن پڑھیں

اسلام آباد (عابدعلی آرائیں) سپریم کورٹ آف پاکستان نے آئین کے آرٹیکل 186 کے تحت صدر مملکت عارف علوی کی جانب سے بھجوائے گئے صدارتی ریفرنس نمبر 1/2020 پر اپنی رائے دیدی ہے۔ آٹھ صفحات پر مشتمل رائے میں جسٹس یحییٰ آفریدی نے اپنا اختلافی نوٹ لکھا ہے۔ چار ججز کی رائے پانچ صفحات پر مشتمل ہے۔

صدارتی ریفرنس 23 دسمبر 2020کو سپریم کورٹ میں دائر کیا گیا تھا۔ 4 جنوری کو 5 رکنی لارجر بینچ نے پہلی سماعت کی عدالت نے 19 ویں سماعت پر پچیس فروری کو رائے محفوظ کی تھی جو چار روز بعد یکم مارچ کو جاری کی گئی ہے۔

دوران سماعت کون کون پیش ہوئے
کیس کی سماعت کے دوران وفاق کی جانب سے اٹارنی جنرل خالد جاوید خان، ایڈیشنل اٹارنی جنرل سہیل محمود، ڈپٹی اٹارنی جنرل ایاز شوکت پیش ہوئے۔ قومی اسمبلی کی جانب سے عبداللطیف یوسفزئی ایڈووکیٹ، ایڈیشنل سیکرٹری قانون سازی محمد مشتاق، سینیٹ کی طرف سے سینیٹر محمد علی خان سیف، ڈپٹی ڈائریکٹر محمد جاوید اقبال، الیکشن کمیشن کی طرف سے چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ، ممبر الیکشن کمیشن پنجاب جسٹس (ر) محمد الطاف ابراہیم قریشی، ممبرالیکشن کمیشن خیبر پختونخواجسٹس (ر) ارشاد قیصر، ممبرالیکشن کمیشن بلوچستان شاہ محمود جتوئی اورممبرالیکشن کمیشن سندھ نثار احمد درانی اپنے وکیل شرجیل شہریار سواتی، ثناء اللہ زاہد اور دیگر افسران کے ہمراہ پیش ہوئے۔ حکومت پنجاب کی طرف سے ایڈووکیٹ جنرل احمد اویس، ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل قاسم علی چوہان اور عمرانہ بلوچ پیش ہوئیں۔ حکومت سندھ کی طرف سے ایڈووکیٹ جنرل سلمان طالب الدین اور ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سبطین محمود پیش ہوئے۔ خیبرپختونخوا کی جانب سے ایڈووکیٹ جنرل شمائل احمد بٹ، ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل عاطف علی خان، بلوچستان کی طرف س یایڈووکیٹ جنرل ارباب محمد طاہر، اسلام آباد کی طرف سے ایڈووکیٹ جنرل نیاز اللہ خان نیازی، جمعیت علمائے اسلام کی طرف سے ایڈووکیٹ کامران مرتضیٰ اور ایڈووکیٹ جہانگیر جدون ، سندھ ہائی کورٹ بار کی طرف سے ایڈووکیٹ صلاح الدین احمد، ایڈووکیٹ عمر سومرو اور ایڈووکیٹ سید رفاقت حسین، پیپلزپارٹی کی طرف سے میاں رضا ربانی، جماعت اسلامی کی طرف سے اشتیاق احمد راجہ، مسلم لیگ (ن) کی طرف سے بیرسٹر ظفراللہ، پاکستان بار کونسل کی طرف سے منصور عثمان اعوان، پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرینز کی طرف سے فاروق ایچ نائیک پیش ہوئے۔

پیراگراف نمبر ایک
عدالتی رائے
عدالت نے اپنی رائے دیتے ہوئے لکھا ہے کہ صدر مملکت پاکستان نے آئین کے آرٹیکل 186 کے تحت ریفرنس بھجوایا تھا جس میں ایک سوال پر رائے مانگی گئی تھی۔
سوال:۔
کیا آئین پاکستان کے آرٹیکل 226کے تحت خفیہ رائے شماری کی شرط صرف صدرپاکستان،سپیکر، ڈپٹی سپیکر ، چیئرمین ، ڈپٹی چیئر مین سینیٹ اور صوبائی اسمبلیوں کے سپیکر ز،ڈپٹی سپیکرز کے انتخابات کیلئے استعمال کی جاسکتی ہے ؟ کیا یہ شرط الیکشن ایکٹ 2017کے تحت دیگرانتخابات جیسا کہ ارکان سینیٹ کے انتخابات کیلئے نہیں ہے کیونکہ الیکشن ایکٹ آئین کے آرٹیکل 222کی روشنی میں بنایا گیا ہے جو کہ آئین کے شیڈول چار میں شامل ہے ۔اگر الیکشن ایکٹ 2017میں شامل کردیا جائے تو کیا سیکرٹ یا اوپن بیلٹ کے ذریعے انتخاب کرایا جا سکتا ہے؟

پیرا گراف نمبر 02:۔
عدالت نے اپنی رائے میں لکھا ہے کہ دوران سماعت ہم نے اٹارنی جنرل پاکستان، چاروں صوبائی ایڈووکیٹ جنرلز، ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد، قومی اسمبلی، سینیٹ، الیکشن کمیشن، سیاسی جماعتوں، پاکستان بار کونسل، سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن اور ان افراد کو سنا ہے جو ذاتی حیثیت میں فریق بنے۔
پیرا گراف نمبر 03:۔
رائے کی تفصیلی وجوہات بعد میں دی جائیں گی لیکن ریفرنس کا جواب دیا جاتا ہے کہ
نمبرایک

سینٹ آف پاکستان کے الیکشن آئین پاکستان اور قانون کے تحت ہوتے ہیں۔

نمبر2
آئین پاکستان کے آرٹیکل 218(3) کے تحت الیکشن کمیشن آف پاکستان کی ذمہ داری ہے کہ انتخابات کا انعقاد ایماندارانہ، شفاف اور غیرجانبدارانہ طور پر ہونے کا عمل قانون کے مطابق یقینی بنائے۔ الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے کہ سپریم کورٹ کی طرف سے دیئے گئے فیصلوں کی روشنی میں انتخابات میں ہونے والی کرپٹ پریکٹسز کو روکے۔ عدالت نے اس ضمن میں ورکرز پارٹی بنام وفاق پاکستان کیس کا فیصلہ دیا ہے۔

نمبر3

عدالت نے قرار دیا ہے کہ الیکشن کمیشن آئین کے آرٹیکل 222 کے تحت حاصل مینڈیٹ اور ذمہ داریوں کی ادائیگی کے لئے تمام ضروری اقدامات اٹھائے۔ آئین کا آرٹیکل 222 پارلیمنٹ کو الیکشن کے حوالے سے قانون سازی کا اختیار دیتا ہے اور یہ بھی اختیار دیتا ہے کہ کرپٹ پریکٹسز اور الیکشن کمیشن کے حوالے سے دیگرجرائم کو روکنے کی قانون سازی کر سکے لیکن یہ آرٹیکل واضح کرتا ہے کہ ایسا کوئی قانون قابل عمل نہیں ہو گا جو چیف کمشنر یا الیکشن کمیشن کے اختیارات کم کرتا ہو۔

نمبر4 

عدالت نے لکھا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 220 کے تحت وفاق اور صوبوں کی تمام انتظامی اتھارٹیز کی ذمہ داری ہے کہ وہ کمشنر یا الیکشن کمیشن کو اپنے امور کی انجام دہی میں معاونت فراہم کریں۔ ایسا آئین کے آرٹیکل 218(3) میں بھی کہا گیا ہے۔

نمبر5

عدالت نے لکھا ہے کہ جہاں تک بیلٹ کو خفیہ رکھنے کا تعلق ہے اس سال کا جواب عدالت کے پانچ رکنی بینچ نے نیاز احمد بنام عزیز الدین و دیگر کے مقدمے میں دیا جا چکا ہے۔ اس فیصلے میں عدالت نے یہ قرار دے رکھا ہے کہ بیلٹ کو تاحیات خفیہ نہیں رکھا جا سکتا۔ بیلٹ کو خفیہ رکھنے کے حوالے سے رائے پر اس انداز میں عمل نہیں کیا جا سکا۔ اس پر عملی اقدامات نہیں کئے گئے۔

نمبر6

عدالت نے لکھا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 218(3) اور آرٹیکل 220 اور دیگر آئینی و قانونی شقوں کے مینڈیٹ کو حاصل کرنے کے لئے الیکشن کمیشن کو چاہئے کہ وہ تمام مطلوبہ اقدامات کرے جن میں شفاف انتخابات کو یقینی بنانے کیلئے ٹیکنالوجی کا استعمال شامل ہے۔ عدالت نے لکھا ہے کہ قانون کے مطابق وہ تمام اقدامات کئے جانے چاہئیں جس سے کرپٹ پریکٹسز کو روکا جا سکتا ہے۔ ریفرنس کا جواب دیدیا گیا ہے۔

جسٹس یحییٰ آفریدی کا اختلافی نوٹ
جسٹس یحییٰ آفریدی نے لکھا ہے کہ وہ بھی اپنی وجوہات بعد میں دیں گے لیکن نہایت احترام کے ساتھ رائے دیتے ہیں کہ قابل احترام صدر پاکستان نے آئین کے آرٹیکل 186 کے تحت بھجوائے گئے ریفرنس کے اندر جو سوال اٹھایا ہے وہ قانونی نہیں ہے۔ اس لئے یہ ریفرنس بغیر جواب کے واپس بھجوایا جاتا ہے۔

اختلافی نوٹ لکھنے کے بعد عدالت نے اپنی رائے دوبارہ فیصلے کا حصہ بنائی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ چار ایک کی نسبت سے دی گئی اس رائے کی وجوہات بعد میں دی جائیں گی کیونکہ جسٹس یحی آفریدی نے اختلاف کیا ہے
رائے کا جواب یہ ہے کہ

نمبرایک

سینٹ آف پاکستان کے الیکشن آئین پاکستان اور قانون کے تحت ہوتے ہیں۔

نمبر2
آئین پاکستان کے آرٹیکل 218(3) کے تحت الیکشن کمیشن آف پاکستان کی ذمہ داری ہے کہ انتخابات کا انعقاد ایماندارانہ، شفاف اور غیرجانبدارانہ طور پر ہونے کا عمل قانون کے مطابق یقینی بنائے۔ الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے کہ سپریم کورٹ کی طرف سے دیئے گئے فیصلوں کی روشنی میں انتخابات میں ہونے والی کرپٹ پریکٹسز کو روکے۔ عدالت نے اس ضمن میں ورکرز پارٹی بنام وفاق پاکستان کیس کا فیصلہ دیا ہے۔

نمبر3

عدالت نے قرار دیا ہے کہ الیکشن کمیشن آئین کے آرٹیکل 222 کے تحت حاصل مینڈیٹ اور ذمہ داریوں کی ادائیگی کے لئے تمام ضروری اقدامات اٹھائے۔ آئین کا آرٹیکل 222 پارلیمنٹ کو الیکشن کے حوالے سے قانون سازی کا اختیار دیتا ہے اور یہ بھی اختیار دیتا ہے کہ کرپٹ پریکٹسز اور الیکشن کمیشن کے حوالے سے دیگرجرائم کو روکنے کی قانون سازی کر سکے لیکن یہ آرٹیکل واضح کرتا ہے کہ ایسا کوئی قانون قابل عمل نہیں ہو گا جو چیف کمشنر یا الیکشن کمیشن کے اختیارات کم کرتا ہو۔

نمبر4 

عدالت نے لکھا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 220 کے تحت وفاق اور صوبوں کی تمام انتظامی اتھارٹیز کی ذمہ داری ہے کہ وہ کمشنر یا الیکشن کمیشن کو اپنے امور کی انجام دہی میں معاونت فراہم کریں۔ ایسا آئین کے آرٹیکل 218(3) میں بھی کہا گیا ہے۔

نمبر5

عدالت نے لکھا ہے کہ جہاں تک بیلٹ کو خفیہ رکھنے کا تعلق ہے اس سال کا جواب عدالت کے پانچ رکنی بینچ نے نیاز احمد بنام عزیز الدین و دیگر کے مقدمے میں دیا جا چکا ہے۔ اس فیصلے میں عدالت نے یہ قرار دے رکھا ہے کہ بیلٹ کو تاحیات خفیہ نہیں رکھا جا سکتا۔ بیلٹ کو خفیہ رکھنے کے حوالے سے رائے پر اس انداز میں عمل نہیں کیا جا سکا۔ اس پر عملی اقدامات نہیں کئے گئے۔

نمبر6

عدالت نے لکھا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 218(3) اور آرٹیکل 220 اور دیگر آئینی و قانونی شقوں کے مینڈیٹ کو حاصل کرنے کے لئے الیکشن کمیشن کو چاہئے کہ وہ تمام مطلوبہ اقدامات کرے جن میں شفاف انتخابات کو یقینی بنانے کیلئے ٹیکنالوجی کا استعمال شامل ہے۔ عدالت نے لکھا ہے کہ قانون کے مطابق وہ تمام اقدامات کئے جانے چاہئیں جس سے کرپٹ پریکٹسز کو روکا جا سکتا ہے۔