صدارتی ریفرنس فیصلہ پرنظرثانی،جسٹس قاضی فائز عیسی کے اپنے مقدمہ میں دلائل

انٹرنیٹ فوٹو

اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان میں ایک اور تاریخ رقم ہوگئی ، عدالت عظمی کے جج جسٹس قاضی فائز عیسی اپنے مقدمہ میں خود دلائل دینے پہنچ گئے ۔ فاضل جج کی استدعامنظورکیس کی سماعت کل تک ملتوی کردی گئی ۔

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد نے  جسٹس قاضی فائز عیسی نظر ثانی کیس  میں درخواستوں کی سماعت کیلئے 10 رکنی لارجر بینچ تشکیل دے رکھا ہے جو کیس کی سماعت کررہا ہے۔

جسٹس قاضی فائز عیسٰی نظر ثانی کیس کی سماعت کا آغاز کیا تو جسٹس قاضی فائز عیسٰی کمرہ عدالت میں پہنچ گئےجسٹس قاضی فائز عیسٰی کی اہلیہ اور بچے بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے۔ جبکہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ ججز ڈریس کوڈ کے بغیر کمرہ عدالت میں موجود رہپے

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے فل کورٹ کے سامنے پیش ہو کر کہا کہ چاہتا ہوں سماعت کل رکھی جائے ۔ اور میں چاہتا ہوں نظر ثانی درخواستوں پر سماعت براہ راست دکھائی جائے۔ جسٹس فائز عیسی نے کہا کہ براہ راست سماعت دکھانے کے لیے پی ٹی وی اور پیمرا کو کوریج کا حکم دیا جائے۔

جسٹس قاضی کا کہنا تھا کہ ہمیں عوامی سطح پر الزام تراشیوں کا سامنا ہے۔ جاننا چاہتا ہوں حکومت میری درخواست کی مخالفت کرتی ہے یا نہیں ۔ جسٹس عمر عطابندیال نے کہاکہ اپ کی درخواست اپنی نوعیت کی سب سے الگ درخواست ہے ۔ ہمارے سامنے ایسا کوئی مواد نہیں کہہ اپکی تضحیک کی گئی۔ عدالت نے تمام حالات کو مدنظر رکھ کر درخواست پر فیصلہ کرنا ہے۔ جسٹس عمر عطابندیال کا مزید کہنا تھا کہ براہ راست کوریج پر فی الحال نوٹس نہیں کر رہے ۔

جسٹس قاضی فائز عیسی کا کہنا تھا کہ نظر ثانی سے پہلے لائیو کوریج کی درخواست پر سماعت کی جائے۔ بعض ممالک میں لائیو کوریج ہوتی ئے۔ عدالت نے فیصلے میں جو ہدایت دی تھی کیا ان پر عمل ہوا؟ معلوم نہیں ہمارا سسٹم عدالتی کاروائی پر براہ راست کوریج کر سکتا ہے یا نہیں۔ جسٹس عمر عطابندیال کا کہنا تھا کہ رولز کے مطابق آپکے وکیل کا پیش ہونا لازمی ہے،

جسٹس عمر عطا بندیال نے کہاکہ ایڈووکیٹ منیر اے ملک تحریری طور پر اپنی بیماری سے آگاہ کریں اور منیر اے ملک لکھ کر دیں کے وہ نظرثانی درخواستوں پر دلائل نہیں دیں گے، جسٹس قاضی فائزعیسی نے کہاکہ منیر اے ملک نے فلایٹ بھی بک کرائی تھی۔

جسٹس عمرعطابندیال نے اپنے ساتھی جج کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ اس بات پر خوش ہیں کہ مقدمہ جلدی مکمل ہوگا،۔

عدالت نے قراردیا کہ اس کیس میں دیئے گئے فیصلے پر کس حد تک عمل ہوا ،پیشرفت رپورٹ پیش کی جائے۔

بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت کل تک ملتوی کردی۔

گزشتہ دنوں جسٹس عمرعطا بندیال کی سربراہی میں6 رکنی بینچ نے معاملہ چیف جسٹس کو بھجوایا تھا جس کے بعد اب چیف جسٹس نے نظرثانی درخواستوں کی سماعت کیلئے 10رکنی لارجر بینچ تشکیل دیا گیاہے۔جسٹس عمر عطا بندیال 10 رکنی بینچ کی سربراہی کریں گے جبکہ بینچ میں جسٹس فائزعیسی کے خلاف صدارتی ریفرنس میں اختلافی نوٹ لکھنے والے ججز بھی شامل ہیں۔

جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس یحیی آفریدی اور جسٹس مقبول باقر بینچ کا حصہ ہیں جبکہ جسٹس امین الدین خان کو جسٹس فیصل عرب کی ریٹائرمنٹ کے باعث بینچ میں شامل کیا گیا ہے۔۔

خیال رہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسی اورمختلف بار کونسلز نے صدارتی ریفرنس کے فیصلے کے خلاف نظر ثانی درخواستیں دائر کر رکھی ہیں