کل جماعتی حریت کانفرنس کے سابق چیرمین کے پاک بھارت ڈئی جی ایم اوز کے درمیان حالیہ معائدے پر تحفظات


سرینگر: کل جماعتی حریت کانفرنس کے سابق چیرمین اور بزرگ کشمیری رہنماء سید علی گیلانی نے پاکستان اور بھار ت کے ڈئی جی ایم اوز کے درمیان ایل اوسی اور دیگر سیکٹروں میں سیز فائر کے حالیہ معائدے پر تحفظات ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان یہ معائدہ کشمیری عوام کے مفادت کی عکاسی نہیں کرتا ہے .

سید علی گیلانی نے پاکستان اور بھارت کے ڈائریکٹرجنرل ملٹری آپریشنز(ڈی جی ایم اوز) کے درمیان طے پانے والے حالیہ معائدے پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان ڈی جی ایم اوز کا نیا معائدہ اب نافذ العمل ہے ،کیا یہ سیز فائر لائن پر امن کو یقینی بنائے گا یہ ابھی قبل از وقت ہے جس کا مشاہدہ ہونا باقی ہے تاہم یہ نئی پیش رفت بذات خود تکلیف دہ ہے کیو نکہ یہ حیران کن ہے۔

انہوں نے کہاکہ بھار ت کی مقبوضہ کشمیر میں5 اگست 2019ء کی کھلی جارحیت کے بعدہم بارہا یہ یقین دہانیاں سن چکے ہیں کہ بھارت کے ساتھ اس وقت تک کوئی رابطے نہیں ہونگے جب تک وہ کشمیر میں 5 اگست کے یکطرفہ اقدامات کو واپس نہیں لیتا اب ہمیں معلوم ہواہے کہ دونوں اطراف سے کئی ماہ سے بیک چینل مذاکرات ہوتے رہے ہیں.

انہوں نے کہاکہ جن  کے نتیجہ میں ڈی جی ایم اوز کا حالیہ معاہدہ عمل میں آیا جس کی وجہ سے کشمیریوں کے ذہنوں میں کئی خدشات پیدا ہو گئے ہیں اور کوئی بھی اس پالیسی یا اقدام پر سوال کررہا ہے۔سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس معاہدے میں کشمیر کہاں موجود ہے ؟دونوں ممالک کے مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں ممالک اس بات پر اتفاق کرتے ہیں کہ وہ لائن آف کنٹرول اور دیگر سیکٹروں میں تمام معاہدوں اور مفاہمت کے علاوہ سیزفائر پر24 اور 25 فروری 2021ء کی درمیانی رات سے سختی سے عمل کریںگے۔5 اگست 2019ء کی جارحیت کا حوالہ دیئے بغیر اس معاہدے کا کیا مطلب ہے؟کیا یہ دوبارہ شملہ معاہدے کی طرف واپس جانے کا عمل ہے اور کشمیر کو دوبارہ پس منظر میں رکھا جائے ۔

سید علی گیلانی نے معاہدے پر سوالات اٹھاتے ہوئے مزید کہا کہ ا س عملی اقدام کا کیامطلب ہے کیا اس معاہدے سے مسئلہ کشمیرکو پاکستان اور بھارت کے درمیان سرحدی تنازعہ کی حد تک تسلیم کرنا ہے؟ جو کہ کشمیری عوام کی خواہش کے عین برعکس ہے۔

سید علی گیلانی نے کہاکہ ہمارے لیے کشمیردونوں ممالک کے درمیان سرحدی تنازعہ نہیں بلکہ یہ 22 ملین عوام کی قسمت اور مستقبل کا مسئلہ ہے اور ہم  ہی اس مسئلہ کے حتمی حل میں اصولی فریق ہونگے۔اس مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ مناسب وقت ہے کہ ہر سمت میں امن کے لیے ہاتھ ملایا جائے۔

انہوں نے کہاکہ اگرچہ یہ ایک اچھی سوچ ہے  تاہم ہم یہ محسوس کررہے ہیں کہ  امن کے لیے جموں کشمیر کے عوام ہی بنیادی نکتہ ہیں۔ڈی جی ایم اوز کا یہ معاہدہ جنگ بندی لائن پر بندوقوں کو خاموش کروا سکتا ہے لیکن کیا یہ کشمیر میں خون خرابے کو روک پائے گا؟کیا یہ کشمیری عوام کے خلاف بھارت کی پھیلائی ہوئی دہشت کو بند کرے گا؟ جس کا جواب نفی میں ہے کیونکہ یہ معاہدہ کشمیری عوام کے مفادات کی عکاسی نہیں کرتا۔