حلقہ این اے75سیالکوٹ کے انتخابات کالعدم کرنے کا تحریری حکم آگیا


اسلام آباد(عابدعلی آرائیں)الیکشن کمیشن آف پاکستان نے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 75سیالکوٹ میں ضمنی انتخابات کے حوالے سے تحریری حکم نامہ جاری کیا ہے دو صفحات پر مشتمل حکم نامہ پانچ رکنی کمیشن نے متفقہ طور پر جاری کیا ہے۔

کمیشن میں چیف الیکشن کمشنرسکندر سلطان راجہ بطور چیئرمین جبکہ جسٹس ریٹائرڈ الطاف ابراہیم قریشی ،جسٹس (ر) مس ارشاد قیصر،نثار درانی اور شاہ محمد جتوئی بطور ممبران شامل ہیں۔

حلقہ این اے75کے 23 پولنگ اسٹیشنز کے نتائج کی تصدیق کیلئے درخواست مسلم لیگ ن کی رہنما امیدوارسیدہ نوشین افتخار نے دائر کی تھی
الیکشن کمیشن کی جانب سے نوٹس جاری کرکےڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر، ریٹرننگ افسراظہر عباسی،ریجنل الیکشن کمشنرلاہور، ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسرعابد حسین،پاکستان تحریک انصاف کے رہنما انتخابات میں حصہ لینے والے علی اسجد ملہی کو طلب کیا گیا تھا ۔

حکم نامہ میں کہا گیا ہے کہ مسلم لیگ ن کی امیدوارسیدہ نوشین افتخار کی جانب سے سلمان اکرم راجہ اپنے معاونین کے ہمراہ پیش ہوئے جبکہ پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار علی اسجد کی جانب سے سید علی ظفر اور سید محمد علی بخاری ایڈووکیٹ پیش ہوئے

پچیس فروری2021کو ہونے والی سماعت کا حکم چیئرمین،چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے تحریرکیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ فریقین کے وکلا کے دلائل سنے گئے اور ریکارڈ کا جائزہ لیا گیافریقین،رٹرننگ افسر اور الیکشن کمیشن کی طرف سے مختلف ذرائع سے حاصل کئے گئے ریکارڈ کا جائزہ لیا گیا ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ حلقے میں امیدواروں اور ووٹرز کیلئے مناسب ماحول نہیں تھا اور حلقے میں صاف شفاف انتخابات نہیں ہو سکے اس دوران قتل کے واقعات،فائرنگ اور لوگ زخمی ہوئے امن امان کی بری صورتحال کی وجہ سے حلقے میں ووٹروں کو حراساں کیا گیا اور دیگر حالات کی وجہ سے نتائج اکھٹے کرنے کا عمل مشکوک ہو گیا۔کمیشن آئین کے آرٹیکل 218(3) اور الیکشن ایکٹ 2017 کی شق9 (1) کے تحت حاصل اختیارات استعمال کرتے ہوئے 19فروری2021 کو حلقہ این اے 75 میں ہونے والے انتخابات کو کالعدم قرار دیتا ہے اورحلقے میں 18مارچ 2021کو دوبارہ انتخابات کا حکم دیتا ہے۔

اس آرڈر کی تفصیلی وجوہات بعد میں دی جائیں گیں دفتر کو ہدایت کی جاتی ہے کہ اس حکم کے مطابق مزید اقدامات کرے۔