میرے مقدمہ کی سماعت براہ راست نشر کی جائے،جسٹس قاضی فائزعیسی کی درخواست کا مکمل متن


اسلام آباد(عابدعلی آرائیں) سپریم کورٹ کے فاضل جج جسٹس قاضی فائز عیسی نے صدارتی ریفرنس مسترد کیے جانے کے فیصلے پر نظر ثانی کے لئے دائر درخواستوں کی کاروائی براہ راست میڈیا پر دکھانے کیلئے سپریم کورٹ میں متفرق درخواست دائر کردی درخواست گیارہ صفحات اور انیس پیراگراف پر مشتمل ہے جس میں صدر مملکت و دیگر کو فریق بنایا گیا ہے۔

عنوان:آئین کے آرٹیکل 19، 19اےاورسپریم کورٹ رولز کے تحت سماعت براہ راست نشر کرنے کی درخواست

پیراگراف نمبر ایک
درخواست میں موقف اپنایاگیا ہے کہ جیسے ہی صدر پاکستان نے درخواست گزار کے خلاف ریفرنس سپریم جوڈیشل کونسل کو بھجوایا تو صدارتی ریفرنس کے مندرجات ٹی وی پر نشر ہوئے اور اخبارات میں شائع ہوئے۔ریفرنس بھجوانے والے فریقین نے میرے خلاف جھوٹی پراپیگنڈہ مہم شروع کر دی اور الزام لگایا کہ میں نے دولت بچانے کیلئے انکم ٹیکس آرڈیننس 2001کے خلاف ورزی کی ہے اور بیرون ملک اپنی بیوی اور بچوں کے نام بے نامی جائیداد خریدی یہ الزم بھی لگایا گیا کہ غیر قانونی طور پر بیرون ملک رقم منتقل کر کے منی لانڈرنگ کے جرم کا ارتکاب کیا یہ سارا عمل مجھے ریفرنس کی کاپی دینے قبل کیا گیا۔مجھے ان جھوٹے الزامات کا جواب دینے کا موقع دیا جائے۔

پیراگراف نمبر دو
بطور جج سپریم کورٹ درخواست گزار کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے وہ کسی دوسرے شہری کی طرح پریس کانفرنس کے ذریعے الزامات کا جواب نہیں دے سکتے تھے مخالف فریقین کی میڈیا پر سخت گرپ تھی جس کی وجہ سے میری طرف سے جمع کرائے گئے مواد کو نہ تو نشر کیا گیا اور نہ شائع کیا گیا۔

پیراگراف نمبر تین

سرکاری فریقین کی طرف سے مختلف حربے استعمال کر کے مجھے اور میرے خاندان کے خلاف منفی عوامی تاثر بنایا گیا۔
پیراگراف نمبر چار
درخواست گزار کو یہ توقع تھی کہ سپریم جوڈیشل کونسل یا فاضل چیف جسٹس جو سپریم جوڈیشل کونسل کے چیئرمین بھی ہیں اپنے ساتھ جج کی عام میں ہونے والی تضحیک کو فوری طور پر روکیں گے لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔سپریم جوڈیشل کونسل نے درخواست گزار کی کردار کشی میں حصہ لیا اس نے درخواست گزار کو کبھی نہیں سنا لیکن 19اگست2019 کو اپنے آرڈر میں ریفرنس نمبر 427 کو مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کی تضحیک کی۔اور وہ آرڈر سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر اپلوڈ کر دیا گیا اب تک اس آرڈر کی کاپی درخواست گزار کو نہیں دی گئی تا ہم بڑے پیمانے پر وہ آرڈر میڈیا پر نشر ہوتا رہا۔
پیراگراف نمبر پانچ
جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل نے لاہور سے تعلق رکھنے والے درخواست گزار وحید شہزاد بٹ کو ذاتی حیثیت میں سنا جس نے ریفرنس نمبر 427دائر کیا تھا اس نے یہ بھی نہیں بتایا کہ وہ اسلام آباد میں اور سپریم کورٹ کی عمارت میں کیسے پہنچا جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا ہے کہ وہ سپریم کورٹ کی اسی عمارت اور اسی شہر میں موجود تھے لیکن ان کو نہیں سنا گیا سپریم جوڈیشل کونسل نے میرے خلاف اپنے آرڈر میں چار قسم کے ریمارکس دیئے جن میں کہا کہ میرا موقف درست نہیں ہے صدر سے متعلق میرے موقف کو حقائق کے خلاف کہا گیا۔
میرے خلاف ریفرنس کے مندرجات لیک کرنے والے افراد کے حوالے سے کہا گیا کہ میں نے جو نام لئے ہیں وہ درست نہیں ہیں۔
سپریم جوڈیشل کونسل نے الزام لگایا کہ کونسل کے حوالے سے میرا موقف مفروضوں پر مبنی ہے۔
سپریم جوڈیشل کونسل نے رائے دی کہ میری طرف سے صدر کو خط لکھنا حقائق کے خلاف ہے ۔

پیراگراف نمبر چھ
جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل نے یہ رائے قائم کی کہ میں دباو میں تھا کیونکہ میرے سسر اور بیٹی کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی جس کی وجہ سے میں نے نامناسب رویہ اختیار کیا۔

پیراگراف نمبر سات
سپریم جوڈیشل کونسل نے عدالتی چھٹیوں کے دوران ریفرنس نمبر 427کی سماعت کی ان دنوں میں رخصت پر تھا،میرے سسر کینسر کی وجہ سے سرجری کے عمل سے گزر رہے تھے میری بیٹی علیل تھی اس کے باوجود کیس کی سماعت کی گئی۔

پیراگراف نمبر آٹھ
چیئرمین جسٹس آصف سعید خان کھوسہ نے میری غیر موجودگی میں سپریم جوڈیشل کونسل کو میری طرف سے بھجوائے گئے موقف کو مسترد کر دیا مجھے سنے بغیر اور مجھ سے حلف لیے بغیر چیئرمین سپریم جوڈیشل کونسل نے یک طرفہ نوٹ لکھا جس میں کہا کہ جسٹس آصف سعید کھوسہ اور میں (قاضی فائز عیسی) صرف ایک بار ملے اور انہوں نے مجھ سے جھوٹی باتیں منسوب کیں۔
فاضل چیئرمین جسٹس آصف سعید کھوسہ نے میرے خلاف لکھاکہ میں سلیکٹو ہوں۔

پیراگراف نمبر نو
جسٹس قاضی فائز عیسی نے موقف اپنایا ہے کہ صدارتی ریفرنس نمبر 427کی سماعت کے دوران سپریم جوڈیشل کونسل نے میری تمام گزارشات مسترد کر دیں اور میرے خلاف غیر ضروری آبزرویشن دیں۔
وزیراعظم کی تجویز پر بھجوائے گئے صدارتی ریفرنس میں مجھ پر ٹیکس قانون کی شق 116 کے خلاف ورزی کا الزام لگاتے ہوئے کہا گیا کہ میں نے ٹیکس ریٹرن میں اپنی بیوی اور بچوں کی جائیدادیں ظاہر نہیں کیں حالانکہ وہ میری کفالت میں نہیں تھے اسی وجہ سے میں نے سوال اٹھایا تھا کہ کیا وزیراعظم نے اپنی بیویوں اور بچوں کے اثاثے ظاہر کیے ہیں اس معاملے میں بھی سپریم جوڈیشل کونسل نے لکھا کہ میں نے وزیراعظم ان کی مختلف بیویوں اور بچوں کو معاملے میں گھسیٹا جو درست نہیں تھا۔
جسٹس قاضی فائز عیسی نے موقف اپنایا ہے کہ دوسرے درخواست گزار عبدالوحید ڈوگر کی معلومات پر بھی صدارتی ریفرنس بھیجا گیا یہ تسلیم شدہ امر ہے کہ وحید ڈوگر نے جھوٹی خبریں شائع کیں وہ کسی کے اشارے پر ایسا کرتا تھا اس کے پاس کوئی ذاتی معلومات نہیں تھی ۔

پیراگراف نمبر دس
جسٹس قاضی فائز عیسی نے موقف اپنایا ہے کہ چیف جسٹس کی سربراہی میں پاکستان کے سینیئر ججز پر مشتمل آئینی باڈی کا رویہ غیر متوقع اور پریشان کن تھا جسٹس شیخ عظمت کی ریٹائرمنٹ سے چھ دن پہلے مجھے سنے بغیر ایک حکم جاری کیا گیا۔

پیراگراف نمبر گیارہ
جسٹس قاضی فائز عیسی نے موقف اپنایا ہے کہ قواعد کے مطابق سپریم جوڈیشل کونسل کی کاروائی خفیہ ہوتی ہے لیکن ریفرنس نمبر 427نمٹانے کا حکم سپریم کورٹ کی ویب سائیٹ پر اپلوڈ کیا گیا جس کی وجہ سے پوری دنیا کو اس بات کا علم ہو گیا کہ سپریم جوڈیشل کونسل کی طرف سے میری کردار کشی کی گئی ہے۔

پیراگراف نمبر بارہ
سرکاری فریقین کی طرف سے میرے خلاف جھوٹا پراپیگنڈہ کیا گیا اس حوالے سے میں نے درخواست دائر کی لیکن سپریم جوڈیشل کونسل نے اس کو نظر انداز کرتے ہوئے نہ اس پر کوئی آرڈر جاری کیا نہ اس کو خارج کیا۔

پیراگراف نمبر تیرہ
جسٹس قاضی فائز عیسی نے موقف اپنایا ہے کہ انہوں نے ریفرنس دائر کرنے والے وحید شہزاد بٹ کے خلاف ایکشن لینے کی درخواست کی اس کو بھی سپریم جوڈیشل کونسل نے نظر انداز کر دیا۔

پیراگراف نمبر چودہ
جسٹس قاضی فائز عیسی نے موقف اپنایا ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل نے متعدد بار یہی کیا کہ ان کے معاملے کو شفاف اور غیرجانبدارانہ،کھلے ذہن کے ساتھ نہیں نمٹایا جائے گا۔

پیراگراف نمبر پندرہ
جسٹس قاضی فائز عیسی نے موقف اپنایا ہے کہ درخواست گزار جج رہتا ہے یا نہیں لیکن اس کی ساکھ سرکاری فریقین اور سپریم جوڈیشل کونسل کے اقدامات کی وجہ سے متاثر ہوئی ہے وفاقی وزیر اطلاعات کے خلاف سپریم کورٹ نے ایکشن کا حکم دیا تھا لیکن وزیراعظم اور وزیر اعلی پنجاب نے سپریم کورٹ کا تفصیلی حکم آنے کے بعد انہیں خصوصی معاون مقرر کر دیا ہے سپریم کورٹ کے ساتھ ایسا رویہ نامناسب ہے۔

پیراگراف نمبر سولہ
جسٹس قاضی فائز عیسی نے موقف اپنایا ہے کہ ان کے خلاف سوشل میڈیا پر غلیظ کمنٹس موجود ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ درخواست گزار بے ایمان ہے اور اس نے غیرقانونی طور پر دولت حاصل کی ہے۔میری بیوی اور بچوں کو بھی گالیاں دی گئیں۔درخواست گزار اظہار رائے کی آزادی کا سپورٹر ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ عوامی عہدے رکھنے والوں کو یہ اجازت دی جائے کہ وہ صدارتی ریفرنس لیک کریں اور اس بارے میں باتیں کر کے جھوٹے حقائق بیان کریں۔جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا ہے کہ وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم نے سرکاری دستاویزات کے خلاف جھوٹا موقف اپنا کر معاملے میں سنسنی پیدا کی اس کے ساتھ ساتھ ریاست کے سربراہ صدر پاکستان نے مختلف ٹی وی انٹرویوز میں صدارتی ریفرنس کے بارے میں اس وقت بات کی جب یہ معاملہ عدالت میں زیر سماعت تھا۔

پیراگراف نمبر سترہ
سرکاری لوگوں نے صدارتی ریفرنس میڈیا کو لیک کیا جھوٹ پھیلایا لیکن میرا موقف یا جوابات شائع نہیں کیے گیے اس طرح انہوں نے منفی عوامی رائے بنائی جھوٹے پراپیگنڈے کی وجہ سے میری ساکھ کو متاثر کرنے کی تمام کوششیں کی گئیں اس وقت مجھے ناقابل تلافی نقصان پہنچ چکا ہے جس کا مداوا ممکن نہیں ہے حتی کہ میرے حق میں سپریم کورٹ کا فیصلہ بھی آچکا ہے اور نظر ثانی کی درخواستوں کا فیصلہ بھی آئے گا۔

پیراگراف نمبر اٹھارہ
جسٹس قاضی فائز عیسی نے موقف اپنایا ہے کہ میرے بارے میں بنائے گئے تاثر کو درست اور توازن قائم کرنے کیلئے درخواست کی جاتی ہے کہ میرے کیس کی مستقبل میں ہونے والی سماعتیں براہ راست نشر کی جائیں۔عدالتی سماعتوں کی براہ راست نشریات درخواست گزار اور عوام کا بنیادی حق ہے یہ عمل احتساب اور شفافیت کا نکتہ آغاز ہو گا۔

پیراگراف نمبر انیس
جسٹس قاضی فائز عیسی نے موقف اپنایا ہے کہ عدالتی کاروائی کی براہ راست نشریات بہت سے ممالک میں دکھائی جاتی ہیں جن میں ہائیکورٹ آسٹریلیا ،سپریم کورٹ کینیڈا،سپریم پیپلز کورٹ آف چائینہ،امریکا کی وفاقی عدالتیں ،یورپین کورٹ آف ہیومن رائٹس،فیڈرل کانسٹیٹیوشنل کورٹس اینڈ سپریم کورٹ آف جرمنی،سپریم کورٹ آف نیوزیلینڈ،سپریم کورٹ آف جنوبی افریقہ،سپریم کورٹ آف برازیل، انٹرنیشنل کرمنل کورٹ،سپریم کورٹ آف انڈیا اور سپریم کورٹ آف برطانیہ شامل ہیں۔

استدعا
جسٹس قاضی فائز عیسی نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ
سرکاری ٹی وی پاکستان ٹیلی ویژن کو ہدایت کی جائے کہ کیس کی سماعت براہ راست نشر کی جائے۔
پیمرا کو ہدایت کی جائے کہ وہ تمام نجی چینلز کو تحریری ہدایات جاری کرے کہ ان کو براہ راست نشریات سے نہیں روکا جا سکتا۔
نجی ٹی وی چینلز کو حکم دیا جائے کہ عدالتی کاروائی کو براہ راست نشر کریں۔
جسٹس قاضی فائز عیسی نے موقف اپنایا ہے کہ یہ استدعا انصاف کے بہترین مفاد کیلئے کی گئی ہے۔