چیف جسٹس اطہر من اللہ کے خلاف ریفرنس دائرکردیا گیا

انٹرنیٹ فوٹو

اسلام آباد(عابدعلی آرائیں) پاکستان میں اعلی عدلیہ کے ججزکے مواخذے کے واحد فورم سپریم جوڈیشل کو نسل میں چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس اطہر من اللہ کے خلاف ریفرنس دائر کردیا گیا

ذرائع کے مطابق سپریم کورٹ میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی توسیع کا مقدمہ دائر کرنے والے درخواست گزار ریاض حنیف راہی ایڈووکیٹ سپریم کورٹ کی جانب سے ریفرنس دائر کیا ہے جس میں چیف جسٹس اطہر من اللہ کو فریق بنایا گیا ہے

آئین کے آرٹیکل209(5)کی روشنی میں ایکشن لینے کیلئے دائر ریفرنس رول پانچ اف سپریم جوڈیشل کونسل پروسیجرآف انکوائری رولز2005 کے تحت دائر کیا گیا ہے جو چار صفحات اور گیارہ پیراگرافس پر مشتمل ہے۔

 یاد رہے کہ چیف جسٹس اطہر من اللہ  خود بھی سپریم جوڈیشل کونسل کے رکن ہیں ۔ جسٹس وقار سیٹھ کی وفات کے بعد چیف جسٹس اطہر من اللہ ججز کے مواخذے کے فورم کے رکن بن گئے تھے۔
پیراگراف نمبر ایک
ریفرنس میں درخواست گزار ریاض حنیف راہی نے کہا ہے کہ میں سپریم کورٹ بار کے تاحیات رکن اور جیورسٹس فاؤنڈیشن کا بانی رکن ہوں ، اورمیں بطور پاکستان کے ذمہ دار شہری آئین کے آرٹیکل5(2)اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن رولز 1989کے تحت قانون کی حکمرانی اور عدالتوں کے امور بحال کرنے کیلئے اپنی ذمہ داری ادا کرنا چاہتاہوں
درخواست گزارکا یہ ایمان ہے کہ اگر وکلا اپنے حقوق کیلئے نہیں لڑ سکتے توانہیں وکیل ہونے کا دعوی نہیں کرنا چاہیئے ۔

پیراگراف نمبر دو
اسلام آباد کے سیکٹر ایف 8میں اتوار کی رات کو وکلا کے چیمبر مسمار کرنے کا عمل 8فروری 2021کوہونے والے واقعہ کی وجہ بنا جس کے نتیجے میں تھانہ مارگلہ اور تھانہ رمنامیں دو مقدمات42/21اور99/21 درج کئے گئے ۔ درخواست گزار نے گیارہ فروری 2021کولکھے گئے خط میں 8فروری کے واقعے کی تفصیل لکھی تھی ۔

پیراگراف نمبر تین
شکایت کنندہ ریاض حنیف راہی نے ریفرنس میں لکھا ہے کہ چیف جسٹس اطہر من اللہ کو عدالت کے رجسٹرارنے 9بجے سے ساڑھے بجے کے دوران واقعے کے بارے میں بتا دیا تھا ان حقائق کا اعتراف چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے اپنے اس خط میں کیا ہے جس میں انہوں نے واقعے کی وجوہات،وکلا کے مارچ اور وکلاء کے ایف ایٹ کچہری چھوڑنے کے بارے میں لکھا ہے ۔ اور ساڑھے 8بجے ایگریشن کا مظاہرہ کرتے ہوئے تھانہ مارگلہ پرایک مقدمہ42/21 درج کرلیا گیا لیکن چیف جسٹس اطہر من اللہ صورتحال کو قابوکرنے میں ناکام رہے ۔ چیف جسٹس نے غلط اندازہ لگایا کہ انرولڈ وکلا عام حالات کی طرح تحمل کا مظاہرہ کریں گی اس بات کا اعتراف انہوں نے اپنے خط کے پیراگراف نمبرتین میں کیا ہے ۔ریفرنس میں کہا گیا ہے کہ مزاحمت کرنے والے وکلا انسان تھے اور بغیر نوٹس دیئے چیمبرگرائے جانے کے واقعہ کے متاثرین تھے، اس واقعے کی وجہ سے اس وقت مزاحمت کرنا ایک نارمل انسانی کنڈکٹ تھا اور وکلا کا یہ عمل پاکستان پینل کوڈ کے تحت نہیں آتا۔

ریفرنس میں کہا گیا ہے کہ مزیدیہ کہ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے اس حقیقت کو بھی نظر انداز کیا کہ ان وکلا میں بہت سے وکلا  ناسمجھ تھے اور ابھی تک ہائی کورٹ کے وکیل کے طور پر انرول بھی نہیں ہوئے تھے، اس وجہ سے چیف جسٹس نے درست طور پر خو دکو غلط کہا ہے اور انہوں نے خود وکلا کے ہجوم کو دعوت دی اوروکلا کے رہنماؤں کو بلانے کی بجائے براہ راست ان وکلا سے مذاکرات کرنے کی کوشش کی ۔ اس موقع پر چیف جسٹس اعلی گفتارو کردارکا مظاہرہ کرنے میں ناکام رہے اور انہوں نے کوڈ آف کنڈکٹ کے خلاف ایک بچگانہ عمل کیا ۔

پیراگراف نمبر4
ریفرنس میں لکھا گیا ہے کہ چیف جسٹس کی طرف سے خط لکھنا نہ تو عدالتی عمل ہے اور نہ ہی انتظامی عمل ہے یہ ان کا ذاتی فعل تھا کیونکہ کسی قانون میں یہ اجازت نہیں ہے کہ بار کونسلز پر کیچڑ اچھالا جائے۔ اور بارکونسلز سے اپنی پسند کا جواب حاصل کرنا ایک جج کو زیب نہیں دیتا۔

ذاتی خواہشات اور خوشی قانون سے بالاتر نہیں ہوسکتی ایک شخص کیلئے پوری عدلیہ کو داؤپر نہیں لگایا جاسکتاچونکہ مدعا علیہ( چیف جسٹس )خود کو عوام کے سامنے بطور ایساجج پیش کرنے میں ناکام رہے ہیں جو ضابط اخلاق کی پابندی کرتا ہے ، ریفرنس میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ نے بہت سے مقدمات میں ایسے تمام اقدامات کالعدم قراردیئے ہیں جن کو قانون کی سپورٹ (بیکنگ) نہیں تھی۔

پیراگراف نمبر5
ریفرنس میں کہا گیا ہے کہ شکایت نمبر 01/2021کو رجسٹرکرکے اور اس پر18فروری 2021کو آرڈر جاری کرکے چیف جسٹس نے بار کونسل کی آزادی میں مداخلت کی ہے اس آرڈرکے پیرا نمبر6میں انہوں نے بار کونسل میں تحقیقات کیلئے شکایت کی ہے ۔ریاض حنیف راہی نے کہا ہے کہ انہوں نے 15فروری کو اپنی درخواست میں کہا تھا کہ تحقیقات کا حکم بھی مداخلت کے ذمرے میں آتا ہے ۔ جج کا یہ کام نہیں ہے کہ وہ خوداپنے مقصدکا جج بن جائے کیونکہ ججزکے ضابطہ اخلاق کی شق چھ تقاضا کرتی ہے کہ جج کو مقدمہ بازی سے گریز کرنا چاہیئے اور کسی بھی طرح دباؤ ڈالنے سے گریز کرنا چاہیئے۔

پیراگراف نمبر6
ریفرنس میں کہا گیا ہے کہ چیف جسٹس کے 8فروری کے انتظامی حکم کی روشنی میں تھانہ رمنا میں مقدمہ نمبر99/21درج گیا گیا اس سے ایک ہی عدالت کے ججز کے مابین ذاتی انا کو تسکین پہنچانے کا معاملہ بن گیالیکن ہوسکتا ہے کہ فاضل ججز کاموقف مختلف ہو لیکن چیف جسٹس کی سکیم کے مطابق ضابطہ اخلاق کے آرٹیکل9کے تحت ہم آہنگی برقراررکھنا ممکن نہیں ہوگا۔

پیرا گراف نمبر7
ریفرنس میں کہا گیا ہے کہ ایک جج اپنی انا کی تسکین کیلئے ریاستی مشینری کو استعمال نہیں کرسکتااور حالات اس بات کی اجازت نہیں دیتے تھے کہ وکلا کے خلاف مقدمات میں انسداد دہشتگردی کی دفعہ7لگائی جائے ایسا کرنا سپریم کورٹ کے سات رکنی بینچ کے فیصلے کی خلاف ورزی ہے ۔ ضابطہ اخلاق کی شق  دوکے مطابق عدالت میں ایک جج کا عمل ایسا نہیں ہونا چاہیئے۔

پیراگراف نمبر8
ریفرنس میں کہا گیا ہے کہ چیف جسٹس نے ہڑتال پر جاکر آئین کو معطل کردیا  اور انہوں نے9فروری کو اسلام آباد ہائیکورٹ کی کاز لسٹیں چھپا کر انتہائی نامناسب، جارحانہ اور غیر ذمہ دارانہ رویئے کا مظاہرہ کیا اس کے بعد کام کو ریگولرائزکرنے کیلئے ایک آفس آرڈر جاری کیا گیایہ بھی ایک جج کی غیر معمولی حرکت ہے انہوں اس کام سے انکار کیا جس کی وہ تنخواہ لیتے ہیں۔

پیراگراف نمبر9
ریفرنس میں کہا گیا ہے کہ چیف جسٹس ان مقدمات میں دلچسپی لے رہے ہیں جو وکلا کے خلاف ہیں لیکن کئی مقدمات کے فیصلے نہیں سنائے جیسا کہ چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی کے خلاف کو وارنٹو کی رٹ پٹیشن نمبر2977/19چیف جسٹس نے28اگست2019کو سنی گئی تھی لیکن ابھی تک اس کا فیصلہ نہیں سنایا گیا۔ اس لئے چیف جسٹس مقدمات کا تیزی سے فیصلہ نہ کرکے مسلسل ضابطہ اخلاق کی شق دس کی خلاف ورزی کے مرتکب ہورہے ہیں ۔

پیراگراف نمبر10
ضابطہ اخلاق کی شق دس کے مطابق جج کا مینڈیٹ یہ ہے کہ وہ اپنے فیصلے کے ذریعے بولتا ہے لیکن چیف جسٹس مشہوری حاصل کرنے کیلئے ریمارکس کے ذریعے بولتے ہیں ۔ جو کہ ضابطہ اخلاق کی شق پانچ کی خلاف ورزی ہے۔ مشہوری کا خواہش مند جج کبھی غیر جانبدار نہیں رہتا اور جج کی کوالٹی کھو دیتا ہے۔

پیراگراف نمبر11
ریفرنس میں کہا گیا ہے کہ وکلا کے اس معاملے کے دوران (رسپانڈنٹ) چیف جسٹس اپنے ذاتی مسائل میں الجھے رہیں گے اور سائیلین کو مشکلات کا سامنا ہوگاحالانکہ ضابطہ اخلاق چیف جسٹس کو کسی بھی عوامی تنازعے کا حصہ بننے سے روکتاہے۔
متذکرہ الزامات اس ریکارڈ کی روشنی میں لگائے گئے ہیں جو اس شکایت کے ساتھ منسلک ہے۔
استدعا
ریفرنس میں سپریم جوڈیشل کونسل سے استدعا کی گئی ہے چیف جسٹس اظہر من اللہ کے خلاف مندرجہ بالا الزامات کی روشنی میں انکوائر ی شروع کرکے قانونی کارروائی کی جائے۔
درخواست دہندہ
رہاض حنیف راہی ایڈووکیٹ سپریم کورٹ
سی ای او
جیورسٹس فاؤنڈیشن
سیل نمبر03337436493