سینیٹ ٹکٹ سے متعلق بیان:پی ٹی آئی نے لیاقت جتوئی کو نوٹس جاری کردیا


کراچی:پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی مرکزی قائمہ کمیٹی برائے نظم و احتساب نے سینیٹ انتخابات کے لیے ٹکٹ دینے کے حوالے سے بیان پر پارٹی رہنما لیاقت جتوئی کو اظہارِ وجوہ کا نوٹس جاری کردیا۔نوٹس تحریک انصاف کی مرکزی قائمہ کمیٹی برائے نظم و احتساب کے سربراہ سلمان آفتاب کی جانب سے جاری کیا گیا،

جس میں لیاقت جتوئی سے ان کے متنازع بیان پر 7 روز میں وضاحت طلب کی گئی ہے۔نوٹس میں کہا گیا ہے کہ آپ نے پارٹی قیادت کے خلاف گفتگو کی اور سنگین الزام تراشی کی، آپ کا طرزِ عمل جماعتی پالیسی اور آئین کی صریحا خلاف ورزی ہے۔نوٹس میں مزید کہا گیا ہے کہ کارروائی کے لیے معاملہ سندھ کے مغربی ریجن کی قائمہ کمیٹی برائے نظم و احتساب کو بھجوایا جارہا ہے،

قائمہ کمیٹی 7 روز میں معاملے پر کارروائی کرے گی۔واضح رہے کہ سینیٹ انتخابات میں ٹکٹوں کی تقسیم کے حوالے سے پی ٹی آئی سندھ میں اختلافات سامنے آئے تھے۔لیاقت جتوئی نے سیف اللہ ابڑو پر 35 کروڑ میں سینیٹ ٹکٹ خریدنے کا الزام لگایا تھا جس پر سیف اللہ ابڑو نے انہیں 2 ارب روپے ہرجانے کا قانونی نوٹس بھیجا ہے۔وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے سیاسی روابط شہباز گِل نے کہا تھا کہ لیاقت جتوئی اپنے دعوے کا ثبوت نہ دے سکے تو ان کے خلاف سخت کارروائی ہوگی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق چند روز قبل لیاقت جتوئی نے وزیر اعظم عمران خان کو ایک شکایتی خط بھی بھیجا تھا جس میں انہوں نے وزیراعظم کو پارٹی ہائی جیک کرنے سے متعلق اشارہ دیا تھا،دریں اثناء پاکستان تحریک انصاف کے رہنما لیاقت جتوئی نے کہا   کہ وہ کوئی 20 ویں گریڈ کا افسر نہیں جو پارٹی کے نوٹس کا جوب دیں۔ شوکاز نوٹسز مجھے خوفزدہ نہیں کر سکتے ،

اس حوالے سے وزیراعظم عمران خان کو خط لکھ دیا ہے کہ ہمیں اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ نجی ٹی وی  کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے لیاقت جتوئی نے پارٹی کی جانب سے جاری کیے گئے شوکاز نوٹس پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ سیف اللہ ابڑو چھ ماہ قبل پارٹی میں آئے جو پہلے پیپلزپارٹی کے فرنٹ مین رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ   سیف اللہ ابڑوایسامیٹھاشہدسب اس کیپیچھیلگ گئے۔ انہوں نے کہا گورنرہاس میں سینیٹ الیکشن کیامیدواروں کیفیصلیہوئے لیکن ہمیں اعتمادمیں نہیں لیاگیا۔ اس حوالیسے میں وزیراعظم عمران خان کو خط بھی لکھ چکا ہوں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ  26فروری کوہمارااجلاس ہےآئندہ کالائحہ عمل اس میں طے کیا جائے گا۔