سابقہ حکمرانوں نے قوم کو زخم دیے موجودہ نے انہیں ناسور بنادیا:سرا ج الحق


اسلام آباد: امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ پی ٹی آئی حکومت نے ملک کو خود انحصاری کی راہ پر ڈالنے کے لیے تاحال ایک قدم نہیں اٹھایا ۔ حکومت کی معاشی حکمت عملی صرف ایک نقطہ پر مرکوز ہے کہ کس طرح زیادہ سے زیادہ قرضے لینے ہیں ۔ گزشتہ تیس ماہ میں پی ٹی آئی کے کریڈٹ پر لنگر خانوں کی تعمیر کے علاوہ اگر کچھ اور ہے تو قوم کے سامنے لایا جائے ۔ ملک معاشی اور نظریاتی زوال کے تلخ دور سے گزر رہاہے ۔پی ٹی آئی کو عوامی مسائل کا ادراک نجانے کب ہوگا ۔ پی ٹی آئی حکومت جب سے اقتدار میں آئی ہے ، اسے ترقی کی ایک اینٹ لگانا بھی نصیب نہیں ہوئی ۔

سابقہ حکمرانوں نے قوم کو زخم دیے موجودہ نے انہیں ناسور بنادیا۔ سیاسی جماعتیں حالات کی نزاکت کاادراک نہیں کر رہیں ۔ عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا ہے ۔ کسان ، مزدور ، تاجر ، دکاندار سب پریشان ہیں ۔ 73 سالوں سے عوام کی گردنوں پر سوار اشرافیہ نے ملکی وسائل کے ساتھ کھلواڑ کیا ۔ تبدیلی کے نعرے لگانے والے بھی صرف تیس ماہ میں ہی رسوا ہو گئے ۔ جماعت اسلامی عوام کے دکھوں کا مداوا چاہتی ہے ۔ مہنگائی ، بے روزگاری کے مسائل حل نہ ہوئے تو حکمرانوں کو گھر بھیج کر دم لیں گے ۔ قوم کو کھوٹے اور کھرے کا ادراک ہوچکا،انہیں مزید بے وقوف نہیں بنایا جاسکتا ۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں جماعت اسلامی کے کارکنان سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔

سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ وزیراعظم ہمیشہ چین کی مثال دیتے ہیں کہ کس طرح انہوںنے 70 کروڑ عوام کو غربت سے نکالا مگر انہیں قطعی طور پر اپنی حکومت کی کارکردگی پر پشیمانی محسوس نہیں ہوتی ۔ ملک میں چالیس فیصد سے زیادہ آبادی خط غربت سے نیچے زندگی بسر کر رہی ہے ۔ لاکھوں بچے فیکٹریوں ، ہوٹلوں اور چائے کے کھوکھوں پر مزدوری کرتے نظر آتے ہیں ۔ غریب اپنے بچوں کو سکول نہیں بھیج سکتے کیونکہ ان کے پاس اپنے بچوں کی تعلیم کے وسائل نہیں ۔ کروڑوں لوگوں کو پینے کے صاف پانی جیسی بنیادی سہولت میسر نہیں ۔ انفراسٹرکچر ، ہسپتال ، سرکاری سکول بدحالی کا نوحہ کہہ رہے ہیں ۔ ان حالات میں پی ٹی آئی مفادات کی سیاست میں الجھ کر مافیاز کو نواز رہی ہے ۔

امیر جماعت نے کہاکہ اسلام آباد میں آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کے نمائندوں کے احکامات پر معاشی پالیسیاں تشکیل دی جاتی ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ ملکی وسائل سے فائدہ اٹھا کر انہیں عوام کی فلاح و بہبود کے لیے استعمال کرنے کی ضرورت ہے مگر استعمار کے نمائندے ایسا نہیں چاہتے کیونکہ انہیں عوام خوشحال نہیں بدحال چاہئیں ۔ انہوںنے کہاکہ ملک کا پڑھا لکھا نوجوان روزگار کے حصول کے دھکے کھارہاہے ۔

بے روزگار ی کا جن بے قابو ہے ۔ مہنگائی نے قوم کو بدحال کردیاہے ۔ آٹا ، چینی ، گھی ، آئل ، چکن کی قیمتیں آسمانوں سے باتیں کر رہی ہیں ۔ حکمران خود اپنی ناکامی کا اعتراف کرتے پھر رہے ہیں کہ وہ مہنگائی کو قابو نہیںکرسکے ۔ عوام کا مطالبہ ہے کہ اگر آپ ہمارے مسائل حل نہیں کرسکتے تو مہربانی فرما کر ہماری جان چھوڑ دیں ۔ ملک کو صالح اور دیانتدار قیادت کی ضرورت ہے ۔جماعت اسلامی جمہوری عوامی جدوجہد پر یقین رکھتی ہے ۔ اللہ نے موقع دیا تو ملک کی تقدیر سنوار دیں گے ۔ انہوںنے کہاکہ جماعت اسلامی واحد آپشن ہے ۔ سودی معیشت سے چھٹکارا حاصل کے بغیر ملک ترقی کی راہ پر گامزن نہیں ہوسکتا ۔ عوام اسلامی انقلاب لانے کے لیے جماعت اسلامی کے دست و بازو بنیں ۔