امریکی حکومت کو اقتصادی دہشت گردی کو روکنا ہوگا: حسن روحانی


تہران:ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے کہا ہے کہ امریکہ کی نئی بائیڈن حکومت کو اقتصادی دہشت گردی کو فوری طور پر بند کرنا ہو گا۔

ایرانی میڈیا کے مطابق صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے بدھ کے روز کابینہ کے اجلاس سے خطاب کے دوران مولائے کائنات حضرت علی (ع)کے یوم ولادت باسعادت کی مبارکباد پیش کرتے ہوئے ایٹمی معاہدے کے فریق مقابل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم نے ایٹمی معاہدے پر دستخط کئے اور اس بین الاقوامی معاہدے پر مکمل طور پر عمل کیا اور مشترکہ ایکشن پلان کے وعدے پر قائم رہے مگر تم خود اپنے تئیں قضاوت کرو اور دیکھو کہ تم ہی ہو کہ جس نے کبھی اپنے وعدوں پر مکمل طور پر عمل نہیں کیا۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ کو تو چھوڑیئے دوسرے یورپی فریق ملکوں نے بھی اپنے وعدوں پر عمل نہیں کیا اور یہ کہا جا سکتا ہے کہ ایران کے سوا کسی بھی فریق ملک نے ایٹمی معاہدے پر سو فیصد عمل نہیں کیا ہے۔صدر مملکت نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ ایٹمی معاہدہ مضبوطی کے ساتھ باقی رہے تاہم ظاہر سی بات ہے کہ اس وقت ایسے حالات  ہیں کہ بین الاقوامی ایٹمی معاہدے کی بقا، حیات اور اس میں تروتازگی لانے کا دارومدار اس بات پر ہے کہ امریکہ اقتصادی دہشت گردی سے باز آجائے. صدر روحانی نے کہا کہ ہم شرط کی کوئی بات نہیں کر رہے اور بہت امید بھی نہیں لگا رہے ہیں بس یہ ہے کہ امریکہ پہلے بین الاقوامی ایٹمی معاہدے میں شامل تھا مگر سابق ٹرمپ حکومت نے اس معاہدے سے علیحدگی کا اعلان کر دیا، اب ٹرمپ حکومت نہیں ہے اور موجودہ بائیڈن حکومت، اس بات کو جانتی و سمجھتی ہے کہ سابق حکومت نے ایٹمی معاہدے سے باہر نکل کر غلطی کی ہے۔

صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے کہا کہ یورپی ملکوں کو ایران کے سامنے جواب دہ ہونا ہوگا۔  انہوں نے  کہا کہ ہم نے تین سال صبر کیا مگر انھوں نے ایران کے لئے کوئی کام انجام نہیں دیا۔ صدر ایران نے کہا کہ میں ایک اہم یورپی اعلی عہدیدار سے کہہ چکا ہوں کہ ان تین برسوں کے دوران یورپی ملکوں نے ایران کو دو سو ارب ڈالر کا براہ راست اور سیکڑوں ارب ڈالر کا بالواسطہ طور پر نقصان پہنچایا ہے، اب دیکھنا یہ ہے کہ اس جرم کا کیسے ازالہ ہو اور وہ کیسے تلافی کریں گے، یہ بعد کے اقدامات سے مربوط ہے تاہم پہلا قدم ارتکاب جرم کو روکنا ہے۔