احسان اللہ احسان کا فرارہو جانا ایک بہت سنگین معاملہ تھا،ذمہ دارفوجی افسروں کے خلاف کارروائی کی جا چکی:میجرجنرل بابرافتخار


راولپنڈی:پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر)کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل بابر افتخار نے کہا ہے کہ کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے رکن اور سابق ترجمان احسان اللہ احسان کا فرار ہو جانا ایک بہت سنگین معاملہ تھا اور اس پر مکمل تحقیقات کے بعد اس کے ذمہ دار فوجی افسروں کے خلاف کارروائی کی جا چکی ہے۔مسنگ پرسنز کا معاملہ بہت جلد حل ہو جائے گا۔

برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق اپنے دفتر میں غیر ملکی میڈیا کے نمائندوں کے ساتھ بات چیت میں میجر جنرل بابر افتخار کا کہنا تھا کہ احسان اللہ احسان کی دوبارہ گرفتاری کی کوششیں بھی جاری ہیں لیکن فی الوقت انھیں علم نہیں ہے کہ احسان اللہ احسان کہاں ہیں۔گذشتہ دنوں تحریک طالبان کے سابق ترجمان کی جانب سے نوبل انعام یافتہ سماجی کارکن ملالہ یوسفزئی کو ٹوئٹر پر دھمکی کے بارے میں ایک سوال پر فوج کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ان کی معلومات کے مطابق جس ٹوئٹر اکاونٹ سے ملالہ کو دھمکی دی گئی وہ ایک جعلی اکاونٹ تھا۔

فوج کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار نے پاکستان میں غیر ملکی خبر رساں اداروں سے تعلق رکھنے والے صحافیوں کے ساتھ افغانستان امن مذاکرات، سابق قبائلی علاقوں میں شدت پسندی کے واقعات اور انڈیا کے ساتھ تعلقات سمیت مختلف قومی اور علاقائی معاملات پر بات کی۔فوجی ترجمان میجر جنرل بابر افتخار نے صحافیوں کی جانب سے جبری طور پر لاپتہ افراد کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ مسنگ پرسنز کے معاملے پر بننے والے کمیشن نے بہت پیش رفت کی ہے۔انھوں نے کہا کہ اس کمیشن کے پاس چھ ہزار سے زائد افراد کے گمشدہ ہونے کے مقدمات تھے جن میں سے چار ہزار حل کیے جا چکے ہیں۔

ان کا واضح طور پر کہنا تھا کہ مسنگ پرسنز کا معاملہ بہت جلد حل ہو جائے گا۔ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے اپنی گفتگو میں انکشاف کیا کہ گذشتہ ماہ بلوچستان کے علاقے کیچ میں ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے گیارہ کان کنوں کے قتل سے تعلق کی بنا پر چند افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ بہت اہم گرفتاریاں ہیں لیکن ان کی مزید تفصیل دینے سے معذرت کی۔گذشتہ کچھ عرصے کے دوران ملک کے سابق قبائلی علاقوں، خاص طور پر شمالی وزیرستان میں شدت پسندی کے بڑھتے واقعات کے بارے میں ایک سوال پر فوجی ترجمان کا کہنا تھا کہ ان علاقوں میں منظم شدت پسندتنظیموں کو تو بہت عرصہ پہلے ختم کر دیا گیا تھا اور اب ان میں اس علاقے میں بڑا حملہ کرنے کی صلاحیت نہیں ہے لیکن کچھ عرصے سے ان علاقوں میں ایک بار پھر تشدد کے اکا دکا واقعات رپورٹ کیے جا رہے ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے ان تازہ شدت پسند حملوں کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے سکیورٹی اداروں نے بچے کچے شدت پسندوں کے خلاف بہت جارحانہ کارروائیاں شروع کی ہیں اور تازہ تشدد اسی کا نتیجہ ہے۔آپ جب بھی شدت پسندوں کی پیچھے جاتے ہیں، جارحانہ انداز میں تو اس کا لازمی نتیجہ ہوتا ہے کہ ردعمل آتا ہے اور سکیورٹی فورسز کا بھی نقصان ہوتا ہے اور عمومی طور پر بھی تشدد میں وقتی اضافہ ہوتا ہے۔جنرل بابر افتخار نے کہا کہ گذشتہ دنوں خواتین کی کار پر حملہ اسی سلسلے کی ایک کڑی تھی۔

انھوں نے کہا کہ اب اس علاقے میں کوئی منظم گروہ باقی نہیں رہ گیا اور چھوٹے موٹے شدت پسند مختلف ناموں سے کارروائیاں کر رہے ہیں جن کا جلد ہی مکمل خاتمہ کر دیا جائے گا۔ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ پاکستان میں شدت پسندوں کی مدد افغانستان سے کی جا رہی ہے جہاں انڈیا ان تنظیموں کو ناصرف اسلحہ اور پیسے دے رہا ہے بلکہ نئی ٹیکنالوجی سے بھی نواز رہا ہے۔ہمارے پاس ایسے شواہد ہیں کہ جن سے ثابت ہوتا ہے کہ پاکستان مخالف شدت پسندوں کو ناصرف اسلحہ اور پیسے مل رہے ہیں بلکہ نئی ٹیکنالوجی بھی دی جا رہی ہے۔ اس کا مقصد ان دہشت گردوں کی صلاحیت کو بڑھانا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں فوجی ترجمان نے کہا کہ یہ بات بعید ازقیاس نہیں ہے کہ یہ سب کارروائی افغان انٹیلی جنس کے علم میں ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے کافی تفصیل کے ساتھ افغانستان میں امن عمل اور فوجی انخلا پر بات کی۔ ان کی گفتگو کا خلاصہ یہی تھا کہ پاکستان ہر قیمت پر افغانستان میں امن چاہتا ہے اور اس سلسلے میں اس سے جو کچھ ہو سکتا تھا، وہ پاکستان کر چکا ہے۔انھوں نے کہا کہ پاکستان نے طالبان پر اپنا اثر و رسوِخ جس قدر ممکن تھا وہ استعمال کر لیا ہے۔ اس بات کی گواہی اب تو افغان رہنما بھی دے رہے ہیں کہ پاکستان نے افغانستان میں امن کے لیے اخلاص کے ساتھ ہر ممکن کوشش کر لی ہے۔

انھوں نے کہا کہ افغانستان کا مستقبل کیا ہو گا، مذاکرات آگے کیسے بڑھیں گے اور کس فریق کو کیا کرنا ہے، یہ سب افغانستان کے شہریوں اور حکومت کے کرنے کے کام ہیں۔ہمارا صرف ایک مقصد ہے اور وہ ہے افغانستان میں دیر پا امن کا قیام۔انھوں نے زور دے کر کہا کہ اس بات پر ضرور دھیان دینا ہو گا کہ افغانستان میں خلا ہرگز پیدا نہ ہو پائے۔افغانستان سے اتحادی افواج کے ممکنہ انخلا اور اس کے بعد وہاں طالبان کی واپسی کے بارے میں ایک سوال پر فوجی ترجمان نے کہا کہ اب افغانستان بھی نوے کی دہائی والا نہیں ہے کہ اس کا ریاستی ڈھانچہ اتنی آسانی سے ڈھے جائے اور پاکستان بھی بدل چکا ہے۔ یہ ہرگز ممکن نہیں ہے کہ کابل پر طالبان دوبارہ سے قابض ہوں اور پاکستان ان کی حمایت کرے۔ ایسا ہر گز نہیں ہو گا۔