جنگ مسائل کا نہیں،مسئلہ کشمیر مذاکرات سے ہی حل ہوسکتا ہے ،عمران خان


کولمبو: وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر صرف مذاکرات سے ہی حل ہوسکتا ہے ،جنگ مسائل کا نہیں، برصغیر کے تمام تنازعات بات چیت سے حل کرنے کے خواہشمند ہیں، کاروباری برادری کے لئے سہولتیں فراہم کرنا اولین ترجیح ہے سرمایہ کاری کے ذریعے ہم غربت میں کمی لا سکتے ہیں ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے کولمبو میں ٹریڈ اینڈ انویسٹمنٹ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

سری لنکا کے دارلحکومت کولمبو میں پہلی پاکستان-سری لنکا تجارت و سرمایہ کاری کانفرنس کا انعقاد پاکستانی وزارت تجارت نے ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان، بورڈ آف انویسٹمنٹ پاکستان اور سری لنکا میں پاکستانی ہائی کمیشن کے تعاون سے کیا جس میں وزیراعظم عمران خان کے علاوہ سری لنکا کے وزیراعظم مہندا راجا پاکسے بھی شریک ہوئے،کانفرنس میں پاکستان کا قومی ترانہ بجایا گیا۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، مشیر تجارت عبدالرزاق داد اور سری لنکن سٹیٹ منسٹر فار کامرس اجیت نیوات نے بھی کانفرنس سے خطاب کیا۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ میری سیاست کا محرک صرف غربت کا خاتمہ تھا جس کے لیے میں نے تقریبا ً25 سال جدو جہد کی اور میں نے سیاست میں حصہ اس لیے لیا کیوں کہ میں سمجھتا تھا کہ غربت کے خاتمے کا بہترین طریقہ ایک فلاحی ریاست کا قیام ہے ، سیاست میں آنے سے قبل میں نے ایک کینسر کا ہسپتال قائم کیا جس کو بنانے کا مقصد یہ تھا کہ جو لوگ کینسر کا مہنگا علاج کرانے کی استطاعت نہیں رکھتے تو وہ غریب افراد ایسے ہسپتال میں کینسر کا علاج کراسکیں جہاں انہیں اخراجات کے حوالے سے پریشان ہونے کی ضرورت نہ پڑے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جس وقت میں ہسپتال تعمیر کررہا تھا مجھے یہ احساس ہونا شروع ہوا کہ 22 کروڑ آبادی والے ملک میں زیادہ سے زیادہ غریب افراد کی مدد کرنے کا بہترین طریقہ فلاحی ریاست کا قیام ہے، یہ وہ محرک تھا۔انہوں نے کہا کہ آج میری سری لنکن صدر کے ساتھ ہونے والی بات چیت بہت اچھی تھی کیوں وہ بھی غربت کے خاتمے سے موٹیویٹ ہوئے۔انہوںنے کہا کہ اس وقت پاکستان میں ہمیں اشیائے خور و نوش کی مہنگائی کے مسئلے کا سامنا ہے اور ہم نے اس بارے میں بات چیت کی کہ کس طرح ان قیمتوں کو نیچے لایا جائے اور سری لنکن صدر نے اپنے دورہ چین کے تجربات سے آگاہ کیا کہ انہوں نے وہاں فارمز کا دورہ کیا اور انہیں معلوم ہوا کہ کس طرح وہاں ہول سیل اور ریٹیل کے فرق کو کم کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک میں کسان کی پیداوار اور جس قیمت پر وہ ریٹیل کی دکانوں میں فروخت کی جاتی ہے اس میں بہت بڑا فرق ہے اور اس فرق کو چین نے ٹیکنالوجی کے ذریعے کم کیا۔وزیراعظم نے یہ خیال پیش کرنے پر سری لنکن صدر کا شکریہ ادا کیا اور ارادہ ظاہر کیا کہ وہ وطن واپس جا کر اس فرق کو دور کرنے کے لیے ٹیکنالوجی منگائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ غربت کے خاتمے کا دوسرا طریقہ سرمایہ کاری، کاروبار میں منافع کو فروغ دینا ہے جس پر میرا دوسرا سب سے زیادہ زور ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے پاکستان میں پالیسیوں کو مکمل طور پر تبدیل کردیا ہے جو بدقسمتی سے 40 سال سے جاری تھیں،حکومت کا پورا ڈھانچہ، بیوروکریسی کا ڈھانچہ اس انداز میں ڈھال دیا گیا ہے کہ وہ کاروباری اور تاجر برادری کی سرمایہ کاری کی راہ میں رکاوٹ نہ بنے، ہم نے گذشتہ 2 سال کے عرصے میں اس پوری سوچ کو تبدیل کرنے کی کوشش کی ہے اور کاروباری آسانیوں میں آنے والی رکاوٹ کو دور کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے 28 چیزوں میں بہتری کی ہے، عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق ہمارے ہاں کاروباری آسانی بہتر ہوئی ہے، اور اس کا مقصد دولت کی پیداوار اور اس دولت کو اپنی آبادی کے نچلے طبقے پر خرچ کر کے انہیں غربت سے نکالنا ہے جیسا کہ چین نے کیا، میں چین کی ایک بات کو بہت سراہتا ہوں کہ انسانی تاریخ میں یہ واحد ملک ہے جس نے 30 سے 35 سال کے عرصے میں 70 کروڑ افراد کو غربت سے نکالا ہے، اس سے قبل ایسا کبھی نہیں ہوا۔انہوں نے کہا کہ اس بارے میں میری سری لنکن صدر سے بہت اچھی بات چیت ہوئی اور جب سے اقتدار سنبھالا ہے میرا اس پر بہت زور ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ کاروبار، کاروباری برادری اور سرمایہ کاری کی پشت پناہی کرنے کا حتمی مقصد غربت کا خاتمہ ہے، دولت پیدا کریں، غربت ختم کریں۔

مزید پڑھیں:سینیٹ انتخابات ہائی جیک کر نیوالے جمہوریت پردھبہ ہیں،عمران خان

انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر صرف مذاکرات سے ہی حل ہوسکتا ہے، جنگ مسائل کا نہیں، برصغیر کے تمام تنازعات بات چیت سے حل کرنے کے خواہشمند ہیں، جب تک مسائل سے نہیں نکلیں گی خوشحالی نہیں آئے گی۔انہوں نے کہا کہ بھارت سے کاروبار بڑھانے اور کشیدگی کم کرنے کیلئے رابطہ کیا، لیکن کامیاب نہیں ہوسکے، مودی کو پیغام دیا مذاکرات کے ذریعے اختلافات ختم کریں، برصغیر میں تمام تنازعات کو مذاکرات سے حل کرنے کے خواہاں ہیں، خطے کے ممالک کے ساتھ تجارتی تعلقات استوار کر کے غربت کم کرسکتے ہیں، ایک مسئلے کے حل کیلئے جنگ چھڑنے سے مزید تنازعات جنم لیتے ہیں۔قبل ازیں وزیراعظم عمران خان نے سری لنکا کے صدر گوٹابایا راجا پاکسے سے کولمبو کے صدارتی سیکریٹریٹ میں ون آن ون ملاقات کی جس میں دونوں ممالک کے مابین باہمی تعلقات کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔