جنوبی کشمیرکے کئی علاقوں میں بھارتی فوج کا آپریشن،چار کشمیری نوجوان شہید


سرینگر: مقبوضہ جموںوکشمیر میںقابض بھارتی فوجیوں نے جنوبی کشمیر کے کئی اضلاع کو محاصرے میں لیکر تلاشی کی پر تشدد کارروائیاں شروع کر دی ہیں،مجاہدین اور بھارتی فوج کے درمیان چار کشمیری نوجوان شہید ہوگئے ،اسلام آباد سے ایک لاپتہ نوجوان کی لاش برآمد کی گئی۔

کے پی آئی کے مطابق قابض فوجیوں نے جنوبی کشمیرکے کئی علاقوں کاکریک ڈاون کرکے فوجی آپریشن شروع کردیا ہے، اسلام آباد کے سریگفوارہ کے جنگلاتی علاقہ شال گل میں مجاہدین  اور قابض فورسز کے درمیان تصادم میں چار مجاہدین کے شہید ہونے کی اطلاع ہے۔  پولیس اور آرمی کی مشترکہ کارروائی کے دوران علاقے کا محاصرہ کر سرچ آپریشن جاری تھا، علاقہ کی طرف جانے والے سبھی داخلی و خارجی راستوں کو بند کر دیا گیا ۔علاقے میں انٹرنیٹ سروس کو بھی بند کر دیا گیا ۔اس سے قبل مقبوضہ کشمیر میں جنوبی ضلع پلوامہ کے قصبہ پانپور سے تین کلو میٹر کی دوری پر واقع لالپورہ گاوں کا بدھ کی صبح فوج نے اس وقت محاصرہ شروع کیا جب فوج کو گاوں میں عسکریت پسندوں کی موجودگی کے بارے میں اطلاع موصول ہوئی۔ قابض فوج نے گاوں کو محاصرے میں لے کر گھر گھر تلاشی شروع کی  ۔

عسکریت پسندوں کو ڈھونڈنے کے لئے ڈرون کیمروں کا بھی استعمال کیا گیا۔گاوں کو فوج نے پوری طرح سے سیل کر کے رکھا  اور کسی بھی شخص کو مخصوص جگہ کی طرف آنے جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی ۔فوج نے علاقہ کے تمام داخلی و خارجی راستوں کو بند کر دیا ، فوجیوں نے شوپیاں اور پلوامہ اضلاع کے کئی علاقوں کو بھی محاصرے میں لیکر گھر گھر تلاشی کا عمل شروع کر دیا۔ ادھر بھارتی فوجیوں اور پولیس اہلکاروں کی طرف سے سرینگر، ترال اور مقبوضہ علاقے کے دیگر قصبوں میں لوگوں کی جامہ تلاشی اورانہیں ہراساں کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ ہری سنگھ ہائی سٹریٹ کے بعد شہر سرینگر کے بڈشاہ چوک علاقے میں سیکورٹی فورسز اور پولیس نے راہگیروں کی جامہ تلاشیاں لیں اور فرن پہنے نوجوانوں سے زیادہ پوچھ تاچھ کر کے انہیں فرن اتارنے پر مجبور کیا۔

با غات سرینگر میں گزشتہ دنوں کے  حملے کے بعد شہر میں فورسز اور پولیس کو متحرک و چوکس کیا گیاہے۔ پیر کو ہری سنگھ ہائی سٹریٹ میں کریک ڈائون کے بعد منگل کو  بڈشاہ چوک میں کھڑا کھڑا کریک ڈائون کیا گیا۔اس دوران گاڑیوں اور موٹر سائیکل سواروں سے پوچھ تاچھ کی گئی اور راہگیروں کی جامہ تلاشی بھی عمل میں لاکر انکے شناختی کارڈ چیک کئے گئے۔ لیکن سب سے غیر معمولی بات دیکھنے میں یہ آئی کہ فرن پہنے نوجوانوں سے فرن اتارنے کیلئے کہا گیا اور بعد مین انہین فرن پہننے کی اجازت نہیں دی گئی۔ ملی تینسی شروع ہونے کے بعد 1989سے ابتک وادی کشمیر میں کبھی بھی فرن پہننے پر روک نہیں لگائی گئی ہے اور نہ کبھی سیکورٹی فورسز نے اس طرح کا کوئی اقدام کیا۔ فرن پہننا کشمیر کی صدیوں پرانی روایت ہے اور اسکا استعمال وزیر سے لیکر چپراسی بھی کرتا ہے لیکن کبھی بھی یہاں کسی کو فرن پہننے سے نہیں روکا گیا۔

مزید پڑھیں: نریندرمودی کا مجوزہ دورہ کشمیر دنیا کو کشمیر میں خود ساختہ امن کا تاثر دینے کی ایک ناکام کوشش ہے:سید صلاح الدین

ادھر ہری سنگھ ہائی سٹریٹ میں لوگوں کو قطاروں میں کھڑا کرنے کا سلسلہ بس اسٹینڈ ترال  میں بھی جاری رہا۔ یہاںقریب15سال بعد بس سٹینڈ ترال کا اچانک محاصرہ کر کے مسافروں کو گاڑیوں سے اتار نے کے علاوہ راہ گیروں کو ایک قطار میں کھڑا کر کے ان کی جامہ تلاشیاں لی گئیں۔ سی آر پی ایف180بٹالین اور پولیس اہلکاروں کی ایک بڑی تعداد اچانک نیو بس اسٹینڈ میں نمودار ہوئی اور تمام علاقے کو چاروں اطراف سے گھیرے میں لے کر کسی کو نہ سٹینڈ کے اندر آنے دیا  گیااور نہ ہی کسی کو باہر جانے کی اجازت دی گئی ۔

یہاں موجود لوگوں اور گاڑیوں میں سوار مسافروں کو نیچے اتار ان کے شناختی کارڑ چیک کئے گئے ۔تاہم کسی کی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی ہے، علاوہ ازیں گزشتہ دو ہفتے سے لاپتہ 35سالہ جاوید احمد کی لاش ضلع کے علاقے دیلگام سے برآمد ہوئی ۔اس کے جسم پر تشدد کے نشانات پائے گئے ۔ بتایا جاتا ہے کہ جاوید احمد ایک مجاہد تنظیم کا سابق رکن تھا اور وہ کئی برس جیل میں بھی رہا۔