نظرثانی درخواستیں کونسے بینچ سنیں گے؟سپریم کورٹ نے بڑے ضابطے طے کردیئے

انٹرنیٹ فوٹو

سرینا عیسی کے کونسے ایڈیشنل گراؤونڈزنہیں سنے جائیں گے، تفصیلی فیصلہ کا مکمل متن

اسلام آباد(عابدعلی آرائیں) سپریم کورٹ نے جسٹس قاضی فائز عیسی کیخلاف صدارتی ریفرنس میں نظر ثانی کیس کی سماعت کرنے والے بینچ کے خلاف دائردرخواستوں پرتفصیلی فیصلہ سنایا ہے جس کا مکمل ترجمہ صرف صباح نیوز پر پڑھیں۔

عدالت نے بینچ کی تشکیل کیخلاف دائر دس درخواستوں کا 28 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا ہے۔ جسٹس عمر عطا بندیال ، جسٹس منظور احمدملک، جسٹس مظہر عالم میاں خیل، جسٹس سجاد علی شاہ، جسٹس منیب اختر اور جسٹس قاضی محمد امین احمد پر مشتمل چھ رکنی لارجر بینچ نے ان دس درخواستوں کی سماعت کی تھی۔ ان درخواستوں پر سماعت 8اور 10دسمبر2020کوہوئی تھی جس کے بعد فیصلہ محفوظ کیا گیا تھا ۔

یہ درخواستیں جسٹس قاضی فائز عیسی، سندھ ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن،سرینا عیسی، سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن، محمد عارف ریکی صدر کوئٹہ بار ایسوسی ایشن،نائب صدر پنجاب بار اسوسی ایشن شاہنواز اسماعیل،بلوچستان بار کونسل،فیڈرل یونین آف جرنلسٹس،عابد حسن منٹو اور پاکستان بار کونسل کی جانب سے دائر کی گئی تھیں ۔

یاد رہے کہ جسٹس فائز عیسی نے اپنے خلاف صدارتی ریفرنس کو چیلنج کیا تھا توآئین کے آرٹیکل184(3)کے تحت دائرکیس کی سماعت دس رکنی فل کورٹ نے کی تھی لیکن نظرثانی درخواستوں پر سماعت کیلئے اکثریتی فیصلہ دینے والے چھ ججز کا بنچ بنایا گیا تھا فیصلہ دینے والے ایک جج جسٹس فیصل عرب نظرثانی درخواستوں کی سماعت سے قبل ریٹائر ہوگئے تھے ۔

اس کیس میں دو آرڈر جاری ہوئے تھے پہلا مختصر آرڈر19جون2020جبکہ تفصیلی فیصلہ23اگست2020کو جاری کیاگیا تھا جس کے ساتھ جسٹس یحیی آفریدی ، جسٹس مقبول باقر اور جسٹس منصور علی شاہ نے ااختلاف کرتے ہوئے اپنے الگ نوٹ لکھے تھے ۔ سا ت جج کا فیصلہ اکثریتی تھا جبکہ تین ججز کا فیصلہ اقلیتی فیصلہ تھاان درخواستوں میں صدر پاکستان، سپریم جوڈیشل کونسل کو فریق بنایا گیا تھا
جسٹس قاضی فائز عیسی کی اہلیہ سرینا عیسی ذاتی حیثیت میں پیش ہوئیں،جبکہ دیگر وکلا میں منیر اے ملک، رشید اے رضوی، سید رفاقت حسین اور شیریں عمران پیش ہوئیں۔
یہ فیصلہ پانچ ایک کی نسبت سے جاری کیا گیا ہے جس میں جسٹس منظور احمد ملک نے اختلاف کیا ہے ۔
عدالتی آرڈر
عدالت نے حکم میں لکھا ہے کہ نظرثانی کیس کی سماعت کے دائردرخواستیں سپریم کورٹ کے قواعد کے تحت دائر کی گئی تھیں جن میں بینچ کی تشکیل نو کی استدعا کی گئی تھی۔
عدالت نے کیس کے حقائق سے متعلق لکھا ہے کہ درخواستوں میں مختصر فیصلے کے پیراگراف تین سے گیارہ تک پر نظرثانی کی استدعا کی گئی ہے ،یہ درخواستیں ابتدائی طور پر ان سات ججز کے بینچ کے سامنے رکھی گئی تھیں جنہوں نے اکثریتی فیصلہ جاری کیا تھا تاہم نظرثانی درخواستوں کی سماعت درخواست گزاروں کی استدعا پر ملتوی کی گئی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ اکثریتی فیصلے کی وجوہات کا جائزہ لینے کی اجازت کی جائے ۔ اس کے بعد 4نومبر2020کو جسٹس فیصل عرب عہدے سے سبکدوش ہوگئے اس لئے بینچ کی تشکیل دوبارہ کرنا پڑی
اس دوران درخواست گزاروں کی جانب سے درخواستیں دائر کی گئیں کہ ان درخواستوں کی سماعت کے لئے بینچ میں ان تین ججز کو بھی شامل کیا جائے جنہوں نے اقلیتی فیصلہ دیا تھا ۔ جیسا کہ بینچ کی تشکیل چیف جسٹس کی صوابدید ہے اس لئے یہ درخواستیں چیف جسٹس کے سامنے رکھی گئیں تو انہوں نے 11نومبرکوحکم، دیا کہ اس معاملہ کو ان باقی چھ ججز کے بینچ کے سامنے رکھا جائے جواکثریتی فیصلہ دینے والے بینچ کے رکن
تھے۔ اس لئے کل آٹھ درخواستیں سماعت کے لئے اس بینچ کے سامنے رکھی گئیں تاکہ ہم چیف جسٹس کو نظر ثانی بینچ کی تشکیل کیلئے رائے دیں ۔
عدالت نے لکھا ہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسی اور انکی اہلیہ سرینا عیسی کی درخواستوں میں کہا گیا تھا کہ نظرثانی کی درخواستیں سننے والے بینچ میں ان تین ججز کو بھی شامل کیاجائے جنہوں نے اقلیتی فیصلہ دیا جبکہ دیگر چھ متفرق درخواستوں میں کہا گیا تھا کہ نظرثانی کی درخواستیں وہی بینچ کرے جس نے 19جون 2020کو مختصر فیصلہ سنایا تھا ان درخواستوں میں کہا گیا تھا کہ یہ طے شدہ طریقہ کا ر ہے کہ جو بینچ فیصلہ سناتا ہے وہی نظرثانی درخواستیں سنتا ہے ۔ عدالت نے لکھا ہے کہ یہاں یہ ذکر کرنا ضروری ہے کہ سرینا عیسی سمیت درخواست گزاروں نے جسٹس یحیی آفریدی کی طرف سے اقلیتی فیصلے میں جو وجوہات دی گئی تھیں ان کی بنیاد پر نظرثانی کیلئے اضافی گراونڈز بھی جمع کرائے

عدالت نے نظرثانی کا قانونی طریقہ کار لکھتے ہوئے کہا ہے کہ نظرثانی درخواستوں کا جائزہ لینے سے قبل آئین کو دیکھنا ضروری ہے آئین پاکستان کے آرٹیکل 188میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کے پاس اپنے احکامات پر نظرثانی کا اختیار ہے اورآئین کی شق 191میں کہا گیا ہے سپریم کورٹ کے پاس اپنے ماور کی انجام دہی کے لئے قواعد بنانے کا اختیار موجود ہے۔

عدالت نے آئین کے آرٹیکل191کے تحت بنائے گئے قواعد کا حوالہ دے کر لکھا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 188کے تحت عدالت کے پاس نظرثانی کا اختیار موجود ہے
عدالت نے منیر اے ملک کے دلائل کو فیصلے کا حصہ بناتے ہوئے لکھا ہے کہ سپریم کورٹ رولز کے مطابق نظرثانی درخواستیں وہی بینچ سنے گا جس نے فیصلہ سنایا تھا اس لئے نظرثانی درخواستیں سننے والے بینچ میں ان ججز کو بھی شامل کیا جائے جنہوں نے فیصلے سے اختلاف کیا تھا ۔ اس ضمن میں منیر ملک نے متعدد عدالتی فیصلوں کی نظیریں بھی دیں ، فاضل وکیل نے اکثریتی فیصلہ کی فوقیت کو تسلیم کیاتاہم انہوں نے کہاکہ دو ججزنے اختلافی نوٹ لکھتے ہوئے سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دینے کے مقدمہ کے فیصلہ پر انحصار کیا ہے ۔
عدالت نے لکھا ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی کا فیصلہ چار تین کی نسبت سے آیا تھا لیکن نظرثانی کیس میں متفقہ فیصلہ آگیا حالانکہ اسی بینچ نے فیصلہ سنایا تھا۔ اس میں دو وجوہات پر مبنی فیصلے سنائے گئے تھے ایک فیصلہ جسٹس محمد اکرم نے دیا تھا جس سے تین ججز نے اتفاق کیا تھااور بھٹوکی اپیل مسترد کردی گئی تھی جبکہ دوسرا فیصلہ جسٹس دراب پٹیل کی طرف سے سنایا گیا جس سے دو ججز نے اتفاق کیا اور بھٹو کی اپیل منظور کرلی گئی تھی ۔
عدالت نے لکھا ہے کہ ہماری اس انکوائری کیلئے دونوں فیصلے متعلقہ ہیں تاہم درخواست گزار کے وکیل نے ذوالفقار علی بھٹو کیس میں فیصلہ کے پیرا گراف نمبر27پر انحصار کیا ہے
وکیل نے موقف اپنایا ہے کہ یہ بینچ ذوالفقار علی بھٹو کیس کے سات رکنی بینچ کے فیصلہ کاپابند ہے اس لئے نظرثانی درخواتیں سننے کیلئے مناسب حکم جاری کیاجائے اور یہ کیس سننے کیلئے ان ججز کو بھی شامل کیا جائے جنہوں نے فیصلے سے اختلاف کیا تھا۔عدالت نے تمام درخواست گزاروں کے وکلا اور سرینا عیسی کے دلائل کو بھی فیصلے کا حصہ بنایا ہے

عدالت نے لکھا ہے کہ ان تمام درخواستوں میں قانونی سوال یہی ہے کہ نظرثانی درخواستوں کی سماعت کرنے والے بینچ میں ججوں کی تعد اد کیا ہوگی اور اس کی تشکیل کیا ہوگی؟

عدالت کا کہنا ہے کہ اس سوال کے جواب کیلئے دوچیزوں کو مدنظر رکھاجائے گا
وہ فیصلہ جس پر نظرثانی مانگی گئی ہوگی اورقابل عمل معاملات
یہ دونوں کرائیٹریاز سپریم کورٹ رول 8آرڈر26میں دیئے گئے ہیں۔ چیف جسٹس کونظرثانی بینچ کی تشکیل کے وقت یہ دونوں معاملات مدنظر رکھنا ہوںگے۔ عدالت کی پریکٹس اور عدالت کا طے کردہ قانون نظرثانی بینچ کی تشکیل میں چیف جسٹس کی رہنمائی کرے گا۔

عدالت نے لکھا ہے کہ سپریم کورٹ رولز میں کہیں بھی لفظ ججمنٹ کو ڈیفائن نہیں کیا گیاتاہم سپریم کورٹ رول میں فیصلوں کی تین اقسام متفقہ، اکثریتی اور اختلافی بتائی گئی ہیں۔ اکثریتی فیصلہ ہی قابل نظر ثانی ہوتا ہے۔
عدالت نے لکھا ہے کہ سرینا عیسی کی طرف سے نظرثانی کیلئے جو اضافی گراؤنڈز رکھے گئے ہیں وہ ہمیں نہیں سننے چاہیئں کیونکہ بینچ نے اکثریتی فیصلہ دے دیا ہے اس لئے دفتر کو ہدایت کی جاتی ہے کہ سرینا عیسی نے اقلیتی فیصلہ چیلنج کرتے ہوئے نظرثانی کے جو الگ گراؤنڈدیئے ہیں وہ اس کیس سے الگ کرکے مناسب آرڈر کیلئے چیف جسٹس کے سامنے رکھے ۔

عدالت نے فیصلہ دیا ہے کہ اس کیس میں ہم صرف اصل معاملہ کو دیکھیں گے کہ بینچ کتنے ارکان پر مشتمل ہو اور اس کی تشکیل کیا ہو۔ یہ امر بالکل واضح ہے کہ جس کیس میں عدالت نے متفقہ فیصلہ دیا ہو اس میں کوئی مسئلہ نہیں ہوتا ۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ اکثریتی فیصلے کی صورت میں کیا ہونا چاہیئے ۔ رول 8ایک کے تحت اس کا جواب یہی ہونا چاہیئے کہ جاری کئے گئے اس فیصلہ کو دیکھا جانا چاہیئے اور وہی جج دیکھیں جنہوں نے اصل میںوہ فیصلہ دیا ۔وہی ججز ہونے چاہیئں جنہوں نے فیصلہ لکھا اور وہی بینچ جس نے فیصلہ دیا نظرثانی کرے گا۔

عدالت نے کہا ہے کہ منیر اے ملک نے دلائل میں کہا تھا کہ بینچ کی جانب سے دیا گیا فیصلہ تمام ججز کا فیصلہ ہوتاہے اس میں وہ جج بھی شامل ہوتے ہیں جنہوں نے اختلافی نوٹ دیا ہو۔ اس دلیل کی سپورٹ میں انہوں نے ذوالفقارعلی بھٹو کیس کا حوالہ دیا ہے۔تاہم ہم یہ مسئلہ حل کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں کیونکہ ذوالفقارعلی بھٹو کیس کا فیصلہ سات رکنی بینچ نے دیا تھا اور ہم چھ جج ہے اس لئے ہم اس کیس میں سات رکنی بینچ کے بنائے گئے قانون کے اس وقت تک پابند ہیں جب تک سات ججز سے زائد کا بینچ اس کو ری ایگزامن کرکے مختلف رائے نہیں دیتا۔

فیصلے میں عدالتی پریکٹس کے حوالے سے مختلف قواعد کا ذکر کرتے ہوئے لکھا گیا ہے کہ یہ پریکٹس رہی ہے کہ چیف جسٹس بینچ تشکیل دیتے ہیں عدالتی نظام کی بہتر اندازمیں روانی کیلئے رول 11چیف جسٹس کے فرائض واضح کرتا ہے جن میں بینچوں کی تشکیل چیف جسٹس کی صوابدید ہے۔ اس ضمن میں عدالت نے وفاق بنام نواز شریف کیس کا حوالہ دیا ہے۔
عدالت نے لکھا ہے کہ چیف جسٹس واضح طور پر روسٹر کے ماسٹر ہیں اور نظرثانی بینچ تشکیل دینے کا اختیار رکھتے ہیں اور چار ذرائع سے رہنمائی لیتے ہوئے صوابدیدی اختیارات کے تحت نظر ثانی بینچ تشکیل دے سکتے ہیں
ایک
آرڈر26
رول8
آرڈر11
اورسپریم کورٹ کے طے کردہ قانون اور پریکٹس
عدالت نے فیصلے میں لکھا ہے چیف جسٹس کے پاس اختیار ہے کہ بینچ کی تشکیل کو متاثر کرنے والے حالات و واقعات کو دیکھیں۔
عدالت نے قراردیا ہے کہ نظر ثانی بینچ میں ججز کی تعداد کا تعین اور سابقہ فیصلے کے مصنف جج اگر موجود بھی ہوں توانکی بینچ میں شمولیت بھی چیف جسٹس کی صوابدیدہے۔ اس حوالے سے آفس آرڈر کا متعلقہ حصہ بھی فیصلے میں شامل کیا گیاہے۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ چیف جسٹس کو بینچ تشکیل دینے کے لئے دو کرائٹیریاز کو دیکھنا ہوگا
نظر ثانی بینچ میں ججز کی تعداد کم از کم اصل بینچ جتنی ہونی چاہیئے
دوسرا یہ کہ بینچ میں فیصلہ لکھنے والے جج کو نظرثانی بینچ میں شامل کیا جانا چاہیئے اور اگر وہ دستیاب نہ ہوتو سابقہ بینچ کے دوسرے جج کو شامل کیا جانا چاہیئے اور دوسرا جج وہ ہونا چاہیئے جس نے فیصلہ لکھنے والے جج سے اتفاق کیا ہو۔
عدالت نے لکھا ہے کہ منیر اے ملک کے دلائل کے برعکس یہ عدالتی پریکٹس نہیں ہے کہ بالکل وہی جج نظرثانی بینچ میں شامل ہوں جنہوں نے اصل کیس سنا ہو۔ عدالت نے کہا کہ نظرثانی بینچ میں سابق بینچ والے جج شامل کرنے والی پریکٹس ناقابل عمل ہے اگر ایسا کیا گیا توزیر التواسینکڑوں نظرثانی کیسوں پر اس کے خطر ناک اثرات ہونگے۔

عدالت نے قراردیا ہے کہ
بینچ کی تشکیل چیف جسٹس کی صوابدیدہے
چیف جسٹس کی صوابدیدہے کہ نظرثانی درخواستیں ضرور ت کے مطابق اسی بینچ کے سامنے سماعت کیلئے مقرر کریں
بینچ کی تشکیل کے دوران چیف جسٹس رول 8کی روشنی میں اس امر کو یقینی بنائیں کہ فیصلہ لکھنے والے جج کو بینچ میں شامل کریں تاہم یہ ضروری نہیں کہ وہ انہی ججوں پر مشتمل بینچ بنائیں جنہوں نے کیس پہلے سنا ہو۔
نظرثانی بینچ میں بھی ججز کی تعداد اتنی ہی ہونی چاہیئے جتنی اصل بینچ میں تھی اس میں یہ نہیں دیکھا جائے گا کہ کتنے ججزنے متفقہ یا اکثریتی فیصلہ دیا۔
عدالت نے قراردیا ہے کہ کچھ حالات میں فاضل چیف جسٹس معاملے کی اہمیت کے پیش نظر لارجر بینچ تشکیل دے سکتے ہیں۔

عدالت نے ذوالفقار علی بھٹو کیس میں جسٹس دراب پٹیل کے اختلافی نوٹس کے حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ جسٹس دراب پٹیل والی مشق حال ہی میں پاناما کیس میں جسٹس آصف سعید خان کھوسہ نے دہرائی جس میں تین ججز نے جے آئی ٹی بنا کر تفتیش کا حکم دیا اور دو اقلیتی ججوں نے وزیراعظم کو نااہل قراردیا دیا جن میں ایک جسٹس آصف سعیدخان کھوسہ تھے۔اس کے بعد جے آئی ٹی نے رپورٹ دی تو اکثریتی اور اقلیتی فیصلے دینے والے پانچوںججز نے وزیراعظم کو عوامی عہدہ رکھنے سے روک دیا اس کے بعد اس فیصلہ پر نظرثانی کی درخواست دائر کی گئی تھی اور سماعت کے دوران اقلیتی ججوں کو نظرثانی بینچ میں شامل کرنے پر اعتراض کیا گیا تھا لیکن ان حالات میں جسٹس اعجازافضل خان اور پورے بینچ نے وہ اعتراض مسترد کردیا تھا۔ اس کے بعدپانچ رکنی بینچ نے نظرثانی کی درخواستیں بھی مسترد کردی تھیں، نظرثانی میں جسٹس کھوسہ نے جو بریف نوٹ لکھا تھا وہ بھی عدالت نے اپنے اس فیصلے کا حصہ بنایا ہے

اپنے اختتامی پیراگراف میں سپریم کورٹ نے قراردیا ہے کہ
تمام متفرق درخواستیں نمٹائی جاتی ہیں
نظرثانی کا دائرہ اختیار صرف اس عدالت کے متفقہ اور اکثریتی فیصلوں پر لاگو کیا جاسکتا ہے
موجودہ قانون اور پریکٹس کی روشنی میں نظرثانی کرنے والے بینچ میں ججز کی تعداد اصل کیس سن کرفیصلہ کرنے والے بینچ جتنی ہوگی اس میں یہ تقسیم نہیں ہوگی کہ فیصلہ متفقہ تھا یا اکثریتی
نظرثانی بینچ میں فیصلہ لکھنے والا جج اگر موجود ہو تواسکوشامل کیا جائے لیکن اگر وہ موجود نہیں ہے تو اس جج کو بینچ میں شامل کیا جانا چاہیئے جس نے فیصلہ لکھنے والے جج سے اتفاق کیا ہو۔

عدالت نے قراردیاہے کہ یہ طے شدہ قانون اور پریکٹس ہے کہ چیف جسٹس روسٹر کا ماسٹر ہونے کی وجہ سے بینچ کی تشکیل کرستکتا ہے اور کسی وجہ کی بنیاد پر نظر ثانی کیس کی سماعت کیلئے لارجر بینچ بھی تشکیل دے سکتا ہے۔
دفتر کو ہدایت کی جاتی ہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسی کیس میں نظرثانی کی درخواستیں فاضل چیف جسٹس کے سامنے رکھی جائیں تاکہ وہ بینچ کی تشکیل کیلئے مناسب حکم جاری کرسکیں۔

جسٹس منظور احمد ملک نے لکھاہے کہ میں اس فیصلے کے پیراگراف تین میں نظرثانی بینچ میں ججز کی تعداد سے متعلق اتفاق کرتا ہوں لیکن میں فیصلے کی دیگر آبزرویشنز اور فائنڈنگز سے متعلق الگ نوٹ لکھوں گا ۔