جسٹس شوکت عزیزصدیقی کیس میں سپریم کورٹ کا تحریری حکم آگیا

انٹرنیٹ فوٹو

اسلام آباد(عابدعلی آرائیں) سپریم کورٹ آف پاکستان نے اسلام آ باد ہائیکورٹ کے سابق جج جسٹس شوکت عزیزصدیقی کی جانب سے اپنی برطرفی کے خلاف دائر آئینی درخواست پر 28جنوری کو ہونے والی سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کردیا ہے۔
تین صفحات پر مشتمل حکم جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس سردار طارق مسعود، جسٹس اعجازالاحسن ،جسٹس مظہر عالم خان اور جسٹس سجاد علی شاہ پر مشتمل پانچ رکنی لارجربینچ کی جانب سے جاری کیا گیا ہے
اس کیس میںاسلام آباد بار ایسوسی ایشن اور کراچی بار ایسوسی ایشن کی جانب سے بھی فریق بننے کیلئے الگ الگ درخواستیں دائر کی گئی ہیں جن میں وفاق کو سیکرٹری قانون وانصاف کے ذریعے فریق بنایا گیا ہے۔

دوران سماعت جسٹس شوکت صدیقی کی جانب سے حامد خان ایڈووکیٹ
اسلام آباد بار ایسوسی ایشن کی جانب سے صلاح الدین احمد
کراچی بار ایسوسی ایشن کی جانب سے رشید اے رضوی ایڈووکیٹ پیش ہوئے۔

عدالت نے تحریری حکم میں لکھا ہے کہ درخواست گزار کے وکیل حامدخان نے موقف اپنایا کہ جسٹس شوکت عزیزکے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل (پروسیجرآف انکوائری2005کے تحت کارروائی کی گئی جس کے نتیجے میں انہیں فیئراور اوپن ٹرائل کے حق سے محروم کردیا گیا جبکہ ان کے معاملے میں ٹرائل کا مناسب عمل بھی پورا نہیں کیا گیا ۔عدالت نے لکھا ہے درخواست گزار نے جسٹس شوکت عزیزصدیقی کے پہلے کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے پر انحصار کیا ہے

عدالت نے لکھا ہے کہ جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے وکیل نے موقف اپنایا کہ ڈسپلنری کارروای کا سامنا کرنے والے جج کو جو قانونی حقوق حاصل ہیں ان کی خلاف ورزی کی گئی ہے انہوں نے مزید کہاکہ جسٹس شوکت صدیقی کے خلاف جو کارروائی کی گئی وہ دائرہ کار کے بغیر اور اس عدالت کی طرف سے طے کردہ قانون کے مطابق نہیں تھی۔ اس کیس میں آئین کے آرٹیکل211کے تحت حقائق کا جائزہ لیا جانا چاہیئے تھا۔

عدالت نے فیصلے کے پیراگراف نمبر دو میں لکھا ہے کہ کیس کی سماعت کے دوران اس سطح پر یہ دیکھنا ہوگا کہ آئین کے آرٹیکل211کی روشنی میں یہ ددرخواست قابل سماعت ہے یا نہیں۔ اس کیس کے حقائق کی روشنی میں دیکھنا ہوگا کہ آرٹیکل 211کے تحت جو پابندی ہے اس کا سکوپ اور اثر بھی کیا ہوگا ۔

عدالت نے لکھا ہے کہ ہمارے لئے یہ بہتر ہوگا کہ اس آئینی شق کی تشریح کیلئے اٹارنی جنرل کی معاونت حاصل کریں۔اس لئے فریق نمبر ایک اٹارنی جنرل پاکستان کو کوڈ آف سول پروسیجر کے تحت نوٹس جاری کئے جاتے ہیں ۔
عدالت نے فیصلے میں لکھا ہے کہ درخواست گزار کے وکیل نے استدعا کی ہے کہ کیس جلد سماعت کیلئے مقرر کیا جائے کیونکہ جسٹس شوکت عزیز صدیقی 30جون2021کو ریٹائرمنٹ کی مدت کو پہنچ جائیں گے۔ عدالت نے قراردیا ہے کہ کیس جلد سماعت کیلئے مقرر کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ، جسٹس شوکت صدیقی کیس کی جلد سماعت کےلئے درخواست دائر

عدالت نے اسلام آباد بار کی پٹیشن کے حوالے سے لکھا ہے کہ بار کے وکیل نے کہا ہے کہ ان کی پٹیشن میں جن پیراگرافس پر اعتراض ہے ان کو ڈیلیٹ کیا جائے گا ، عدالت نے اسلام آباد بار کے وکیل کو اجازت دی ہے کہ وہ ترمیم شدہ درخواست جمع کرا سکتے ہیں۔
عدالت نے دفتر کو ہدایت کی ہے کہ نئی ترمیم شدہ آنے والی درخواستوں کو نمبر لگا کر آئندہ سماعت پر اصل پٹیشن کے ساتھ سماعت کیلئے مقرر کی جائیں