بیس پولنگ سٹیشن نہیں، پورے این اے 75 میں دوبارہ الیکشن کرایا جائے،ن لیگ


اسلام آباد :پاکستان مسلم لیگ (ن) نے مطالبہ کیا ہے کہ 20 پولنگ سٹیشن نہیں، پورے این اے 75 میں دوبارہ الیکشن کرایا جائے،ڈسکہ میں جس بھونڈے طریقے سے الیکشن چرانے کی کوشش کی گئی، اس طرح یوگنڈا اور افریقہ میں آمر بھی نہیں کرتے۔

خواجہ سعد رفیق نے لیگی رہنماؤں کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ این اے 75 میں دھاندلی نہیں، دھاندلا کیا گیا، سرکاری فنڈز استعمال کر کے قبل از انتخاب دھاندلی کی گئی، ڈسکہ میں ضابطہ اخلاق کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہوئی، فائرنگ کر کے ووٹرز میں خوف و ہراس پیدا کیا گیا،، حکومت پنجاب یہ بتانے میں ناکام رہی کہ 20 پریذائڈنگ آفیسر کہاں گئے، خوف و ہراس پھیلانے کی وجہ سے ڈسکہ میں ٹرن آئوٹ کم رہا، تحریک انصاف نے کوئی ضمنی الیکشن نہیں جیتا۔

انہوں نے کہا کہ یہ حکومت عادی ووٹ چور ہے، حکومت کا ایک ہی کام ہے مخالفین کو ٹارگٹ کرنا، آپ سمجھتے ہیں لنگر خانے کھول کر قوم کی خدمت کر رہے ہیں، آپ نے لوگوں کو سبز باغ دکھائے تھے، قوم کو بھوکا مار دیا، ڈھائی سال گزر گئے، حکومت کی کوئی پرفارمنس نہیں، لوگ ووٹ کیسے دیں گے، آٹا چوروں اور ووٹ چوروں کی حکومت ہے، یہ ہے نیا پاکستان ؟ ایسی ہوتی ہے ریاست مدینہ؟۔ مسلم لیگ (ن) کے سیکرٹری جنرل احسن اقبال نے کہا کہ ووٹ چرانا قتل سے بڑا جرم اور آئین سے غداری ہے، امید ہے الیکشن کمیشن ڈسکہ الیکشن کو ٹیسٹ کیس بناتے ہوئے ملوث اہلکاروں کو نشان عبرت بنائے گا، شفافیت کے لئے پورے حلقے کا دوبارہ انتخاب کرایا جائے۔

مزید پڑھیں: ڈسکہ کے الیکشن میں پریذائیڈنگ افسران نے بکنے سے انکار کیا،مریم نواز

انہوں نے کہا کہ سندھ، خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں الیکشن نارمل ہوتا ہے، ڈسکہ میں جس بھونڈے طریقے سے الیکشن چرانے کی کوشش کی گئی، اس طرح یوگنڈا اور افریقہ میں آمر بھی نہیں کرتے۔لیگی رہنما خرم دستگیر نے کہا کہ پولنگ کا عمل سست کر کے عوام سے ووٹنگ کا حق چھینا گیا، ڈسکہ کی گلیوں اور سڑکوں پر فائرنگ کی گئی، این 75 کے ووٹرز پاکستانی شہری ہیں اور انتخابات میں حصہ لینا ان کا حق ہے۔