اپیل مسترد ‘ پرویز رشید سینیٹ انتخابات کیلئے نا اہل قرار


لاہور: لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد وحید پر مشتمل الیکشن ٹربیونل نے پاکستان مسلم لیگ (ن)کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات پرویز رشید کی اپیل مسترد کرتے ہوئے انہیں سینیٹ الیکشن کیلئے نا اہل قرار دے دیا ۔

منگل کے روز لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد وحید نے بطور الیکشن اپیلٹ ٹربیونل پرویز رشید کی سینیٹ انتخابات کے لیے کاغذات نامزدگی مسترد کیے جانے کے خلاف اپیل پر سماعت کی۔ لیگی رہنما پرویز رشید عدالت میں پیش ہوئے۔جب منگل کے روز کیس کی سماعت شروع ہوئی تو کیس کا بنیادی نقطہ یہ تھا کہ پرویز رشید نے پنجاب ہائوس کے واجبات ادا کیوں نہیں کئے۔

اس پر پرویز رشید کے وکیل چوہدری اعظم نذیر تارڑ نے دلائل میں کہا کہ ان کے مئوکل بارہا مرتبہ پنجاب ہائوس کے واجبات ادا کرنے گئے مکر وہاں پر کوئی موجود نہیں تھا۔ دوران سماعت کنٹرولر پنجاب ہائوس عدالت میں پیش ہوئے تو جسٹس شاہد وحید نے استفسار کیا کہ کیا پرویز رشید یا ان کے وکلاء آپ کے پاس آئے تھے ، اس پر کنٹرولر پنجاب ہائوس کا کہنا تھا کہ میں اس دن ہسپتال میں تھا اور اس روز میرے سٹاف یاکسی بھی متعلقہ افسر سے پرویز ر شید یا ان کے وکیل نے واجبات کی ادائیگی کے لئے رابطہ نہیں کیا ۔اعتراض کنندہ کے وکیل شہزاد شوکت نے عدالت میں یہ نقطہ اٹھایا کہ پرویز رشید کو واجبات کی ادائیگی کے لئے ریٹرننگ آفیسرنے 48گھنٹوں کی مہلت دی تھی لیکن اس کے باوجود پرویز رشید نے واجبات ادا نہیں کئے لہذا اسی بنیاد پر پرویز رشید کی اپیل کو مسترد کیا جائے۔

جبکہ پرویز رشید کے وکیل اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ ان کے مئوکل پنجاب ہائوس کے واجبات ادا کرنے کے لئے تیار ہیں اور اس سے قبل انہیں واجبات کی ادائیگی کے لئے کوئی نوٹس نہیں ملا اور اس حوالہ سے انہوں نے ریٹرننگ آفیسر کو آگاہ بھی کیا تھا لیکن ریٹرننگ آفیسر نے حقائق کے برعکس فیصلہ سناتے ہوئے ان کے کاغذات نامزدگی مسترد کئے اس اقدام کو کالعدم قراردیا جائے۔ اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ پہلے بھی پرویز رشید نے سینیٹ کا الیکشن لڑا تب تو اعتراض کسی نے نہیں کیا۔ سپریم کورٹ بھی سیاسی انتقام سے متعلق فیصلوں میں لکھ چکی ہے اور پرویز رشید کے کیس میں سیاسی انتقام کھل کر سامنے آچکا ہے۔

مزید پڑھیں: فیصل واوڈا سینیٹ الیکشن کیلئے اہل قرار

وکیل نے مزید کہا کہ ریکارڈ آچکا ہے اور عدالت چیک کرلے کہ پرویز رشید پنجاب ہائوس میں نہیں رہے۔ جسٹس شاہد وحید نے ریمارکس دیئے کہ پرویز رشید نے اپیل میں کہیں نہیں کہا کہ وہ پنجاب ہائوس میں نہیں رہے۔پرویز رشید نے درخواست میں موقف اپنایا تھا کہ ریٹرننگ آفیسر نے غیر قانونی طور پر کاغذات نامزدگی مسترد کیے، ریٹرننگ آفیسر کے اعتراض دور کرنے لیے تگ و دو کی لیکن اعتراض دور نہیں کیے گئے، الیکشن کمیشن کے اعتراض پر رقم جمع کرانے کے لیے تیار ہوں ۔الیکشن ٹربیونل نے پرویز رشید کی اپیل خارج کر دی۔

الیکشن ٹریبونل کی جانب سے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ سنایا گیا جبکہ کاغذاتِ نامزدگی مسترد کرنے کا ریٹرننگ افسر کا فیصلہ برقرار رکھا گیا۔پرویز رشید الیکشن ٹربیونل کا فیصلہ سپریم کورٹ آف پاکستان میں چیلنج کرسکتے ہیں اور اس حوالہ سے وہ قانونی ماہرین سے مشاورت کے بعد فیصلہ کریں گے۔