تمباکو کی مصنوعات پر ایف ای ڈی میں 30 فیصد اضافے کا مطالبہ


اسلام آباد:  عالمی ادارہ صحت کے فریم ورک کنونشن کے دستخط کنندہ ہونے کے ناطے پاکستان کو مثالی طور پر سگریٹ پیکوں کی خوردہ قیمت کا کم از کم 75 فیصد تک ٹیکس عائد کرنے کی ضرورت ہے۔  تاہم موجودہ منظر نامہ اس کے بالکل برعکس ہے جو کہ تمباکو کنٹرول کے کارکنوں نے منگل کو اسلام آباد میں ایک پریس بریفنگ میں بیان کیا۔  تمباکو کی مصنوعات کے دونوں سلیبوں پر موجودہ ٹیکس زیادہ سے زیادہ ٹیکس کی شرح سے کم ہیں۔  ایف سی ٹی سی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے پاکستان کو تمباکو کی مصنوعات پر  ایف ای ڈی میں 30 فیصد اضافہ کرنے کی ضرورت ہے۔

  پروجیکٹ لیڈ ہیومن ڈویلپمنٹ  فاؤنڈیشن جناب انیس بلال  نے بتایا کہ جون 2019 سے سگریٹ پر ایکسائز ڈیوٹی کی شرح میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے لیکن سگریٹ کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔  2019 میں سگریٹ کی قیمتوں میں اضافے کا بنیادی ذریعہ ایکسائز ڈیوٹی نہیں تھا یہ ٹیکسوں کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے تھا۔  تم تو میں ٹیکس کی حد سے زیادہ تبدیلی دوہری مقصد کی تکمیل کرتی ہے اس سے صنعت کے منافع میں اضافہ ہوتا ہے اور اس کیلئے ٹیکس کی شرح میں کسی بھی قسم کے ٹیکس میں اضافے سے بچنے کے لئے  تمباکو صنعت اس کی قیمت میں اضافہ کاناجائز استعمال کرتی ہے۔  2017 اور 2018 میں رپورٹنگ کے تحت حکومت کو ہونے والے محلات کا خسارہ 35 ارب اور 15 ارب رہا ہے۔  مذکورہ بالا عقائد کی بنیاد پر ہم سال 2021 سے 2022 کے لیے ایکسائز ڈیوٹی کی شرح میں اضافے کی سفارش کریں گے۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ایک کم اور درمیانی آمدنی والا ملک ہونے کے ناطے پاکستان متعدد شکلوں میں تمباکو کی وبا کے نتائج کا سامنا کر رہا ہے۔  ان میں سے بدترین شکل غربت کی ہے۔  اسٹاپ 2020 کے نام سے کئے گئے ایک سروے کے مطابق  تمباکو نوشی کرنے والے اوسط اپنی ماہانہ آمدنی کا دس فیصد سیکریٹ پر خرچ کرتے ہیں۔  جو صحت اور تعلیم جیسی اہم خدمات کے لئے نہ صرف آمدنی کو کم کرتا ہے بلکہ اس سے گھریلو صحت کو بہت سے خطرات لاحق ہو جاتے ہیں۔  تمباکو پر ٹیکس پڑھانا تمباکو کی خریداری کو کم کرنے کے لئے ایک تسلیم شدہ پالیسی رہی ہے۔

مزید یہ کہا جاتا ہے کہ تمباکو کم آمدنی والے گروہوں کو غیر متناسب طور پر متاثر کرتا ہے۔  پاکستان میں سب سے کم آمدن والے گروپ میں 25.3 فیصد گھرانے سے کر دیتے ہیں جبکہ اس سے زیادہ آمدنی والے گروپ میں 2•16 فیصد گھرانے سے سگریٹ نوشی کرتے ہیں۔  کم آمدنی والے گروپوں کو بھی صحت کی سہولیات تک کم رسائی حاصل ہے کہ وہ تمباکو کے استعمال سے صحت کو زیادہ نقصان پہنچاتے ہیں۔  خطے میں ٹیکس کے موجودہ منظر نامے کے بارے میں بات  کرتے ہوئے،  تمباکو اکنامکس سگریٹ ٹیکس سکور کارڈ سے پتہ چلتا ہے کہ پاکستان نے 88•0\5  پوائنٹس حاصل کیے ہیں۔  اس کا اندازہ کیا گیا کہ 174 ممالک میں سے کم سکور رنگ کرنے والے ممالک میں سے ایک پاکستان ہے اور اس بات کا اشارہ بھی کرتا ہے کہ اس کے سگریٹ ٹیکس کے نظام میں بہتری کی شدید ضرورت ہے۔

پاکستان کا اسکور EMRO خطے کے اوسط اسکور اور کم درمیانی آمدنی والے ممالک کے سکور سے بھی کم ہیں۔  پورے خطے میں تمباکو کنٹرول کی پالیسیوں سے مقابلہ کرنے کے لئے پاکستان کو مالی سال 2021۔2022 میں تمباکو پر ایف ای ڈی میں 30 فیصد اضافہ کرنا ہوگا۔

مزید پڑھیں: تمباکو کنٹرول کرنے والے کارکنوں کا حکومت سے تمباکوکی مصنوعات پر ٹیکس بڑھانے کا مطالبہ

ماں کو کنٹرول کے کارکنوں نے مشورہ دیا کہ تمباکو پر ایف آئی ڈی میں کم از کم تیس فیصد اضافے سے کم آمدنی والے گروپوں میں تمباکو کے استعمال کی حوصلہ شکنی ہو سکتی ہے۔  اس سے پاکستان کو پورے خطے میں تمباکو کنٹرول کی پالیسیوں کا مقابلہ کرنے اور مستقبل میں تمباکو اکنامکس سگریٹ سکور کارڈ پر بہتر سکور کرنے میں بھی مدد ملے گی۔  مزید یہ کہ اس کی قبر کو کم کرنے میں بھی مدد ملے گی لہٰذا پاکستان میں تمباکو کے استعمال کی مجموعی معاشی لاگت کو کم کیا جا سکے گا