ریڈیو کا عالمی دن،پاکستان میں30 فیصد لوگ موبائل فون پر ریڈیو سنتے ہیں


 اسلام آباد۔ آج ریڈیو کا عالمی دن منایا جارہا ہے۔ آج جدید ترین ذرائع ابلاغ ہونے کے باوجود ریڈیو  معلومات کے حصول کے لیے  ایک موثر اور سستا زریعہ ہے۔
ہر سال 13فروری کو اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو کے تحت ریڈیو کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ آج جدید ترین ذرائع ابلاغ ہونے کے باوجود ریڈیو ایک موثر اور سستا ذرائع ابلاغ ہے۔ ریڈیو کا عالمی دن پہلی بار 13 فروری 2012 کو منایا گیا۔
 بی بی سی کے ایک سروے کے مطابق  پاکستان میں ریڈیو سننے والے 30 فیصد بالغ مرد اور 20 فیصد بالغ خواتین موبائل فون پر ریڈیو سنتے ہیں اور اسی طرح 4/ فیصدبالغ مرد اور 3 فیصد بالغ خواتین گاڑیوں میں سفر کے دوران ریڈیو سے محظوظ ہوتے ہیں۔
 ریڈیو کا عالمی دن  منانے کا مقصد دنیا کو ریڈیو کی اہمیت اور افادیت سے آگاہ کرنا ہے۔ کیوں کہ آج جدید ترین ذرائع ابلاغ ہونے کے باوجود ریڈیو ایک موثر اور سستا ذرائع ابلاغ ہے۔ یہ زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور ہر ایک کی پہنچ میں بھی ہے۔
دنیا کا پہلا ریڈیو اٹھارہ سو ستانوے میں امریکا میں ایجاد کیا گیا۔ آج بھی ریڈیو ابلاغ کا ایسا واحد ذریعہ ہے جسے کہیں بھی بآسانی سنا جا سکتا ہے۔
 اس وقت  دنیا کی 90 فیصد آبادی تک ریڈیو سگنل کی رسائی ہے جبکہ ریڈیو سیٹس ڈھائی ارب ہیں، انٹرنیٹ اور موبائل فونز پر ریڈیو سننے کی اضافی سہولت نے ریڈیو سماعت کو ایک نئی جہت دی۔  دنیا بھر میں ریڈیو اسٹیشنز کی تعداد 51 ہزار 884 ہے۔
پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں ریڈیو موثر ذرائع ابلاغ کا سستا ذریعہ ہے۔ ریڈیو نے پاکستانی زبانوں ( پنجابی ،سندھی، بلوچی،پشتو، سرائیکی) کے فروغ کے لیے اہم کردار ادا کیا ہے۔قیام پاکستان کے وقت پاکستان کے حصے میں تین ریڈیو اسٹیشن آئے جن میں لاہور، ڈھاکہ اور پشاور کے ریڈیو اسٹیشن شامل ہیں۔
قیام پاکستان کے بعد سب سے پہلا ریڈیو اسٹیشن کراچی میں 14 اگست 1948 میں قائم ہوا ۔ ریڈیو پاکستان سے غیرملکی نشریات کا آغاز 14 اگست 1949 کو کراچی اسٹیشن سے کیا گیا۔ یہ نشریات عربی، فارسی اور پشتو میں تھی۔
پاکستان میں آج 203سے زیادہ ریڈیو اسٹیشن پاکستان سے نشریات چلا رہے ہیں۔ ان میں موسیقی ،تہذیبی، معلوماتی، مذہبی، سیاسی، سماجی اور کھیلوں پر پروگرام نشر کیے جاتے ہیں۔آج بھی سوشل میڈیا، پرنٹ میڈیا او رٹیلی ویژن کی اتنی ترقی کے باوجود ریڈیو اپنی اہمیت قائم رکھے ہوئے ہے۔